پسند کی شادی کرنے کی سزا باپ نے نکاح پڑھتی بیٹی کو قتل کر ڈالا

پسند کی شادی کرنے کی سزا باپ نے نکاح پڑھتی بیٹی کو قتل کر ڈالا

  

معاشرے میں امن و امان کے دگرگوں حالات نے خونی جذباتی اور احساس کے رشتوں کے تقدس کو بھی بر ی طرح پامال کر دیا ہے۔ مفاد پرستی،اپنی جھوٹی اناء ،تعصبات نفسانی خواہشات کی خاطر بیٹا با پ کو ،باپ بیٹی کو،بیوی شوہر کو ،بھائی بھائی کو قتل کرنے سے دریغ نہیں کرتا ۔ اپنی تفریح طبع پوری کرنے،دنیاوی آسائش لینے،معاشرے میں اپنی حیثیت بنانے کے لیے ہر وقت مصروف رہنے والے والدین کی نظر انداز ہونے والی اولاد جب مایوسی میں گزاری جانے والی زندگی کے فیصلے کرتے ہیں تو لڑکوں کے فیصلوں کو ان کی بدقسمتی،کم عقل،یا اپنے کسی رشتہ دار کی سازش قرار دے کر ان کو ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہ یں ۔جب کوئی لڑکی اپنے مستقبل کا فیصلہ کرتی ہے تو ہم اسے غیرت کا نام دیتے ہیں مگر جذبات میں کیے گئے فیصلے بعد میں پچھتاوے کے لیے ہی رہ جاتے ہیں ۔ہنستا بستا گھر برباد ہو جاتا ہے اولاد کی تربیت میں گوشہ نشین لوگ ماضی کی تلخ حقیقت کو سمجھ کر اولاد کی زندگی کا فیصلہ کرنے کی بجائے معاشرے اور برادری کے سامنے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرکے اپنے آپ کو مضبوط ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔معصوم لڑکیوں کو رشتوں کی پہچان نہ دے سکنے والے والدین ان کو ناتواں سمجھتے ہوئے ان کے فیصلوں کو بغاوت قرار دیتے ہیں بچوں کے عجلت میں کیے گئے فیصلوں کو اپنی فہم و فراست سنوارنے اور اپنے ماضی کے رویوں پر شرمندہ ہونے کی بجائے ماننے سے انکار کرکے اپنے غیرت مند ہونے کا دعویدار بن کر غیرت کے نام پر قتل تک کر دیتے ہیں مگر ان لوگوں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ یہ بیٹیوں کے نکاح کوتسلیم نہیں کررہے مگر ان کے جیل میں چلے جانے کے بعد تھانہ کچہری اور جیل میں ہونے والی ملاقات کی طرح ہوتی ہے ایک ایسا ہی اندوہناک واقعہ30جولائی 2018کی سہ پہر 4بچے تھانہ بی ڈویژن کے علاقہ بستی سلامت پورہ میں پیش آیا جہاں پر سگے والد نے اپنی ہی جواں سالہ بیٹی کواس وقت موت کے گھاٹ اتارا جب وہ ایک چرچ میں اپنی پسند کے لڑکے کیساتھ شادی کررہی تھی ۔ جسکی تفصیلات کچھ اس طرح سے ہے30جولائی کو بستی شاہدرہ کی رہائشی مسمات صغراں بی بی زوجہ عارف مسیح نے تھانہ بی ڈویژن پولیس کو بتایا کہ سائلہ کی بیٹی روش بی بی بعمر 17/18سال اپنی پسند کی شادی مسمی ہارون مسیح ولد اللہ دتہ مسیح سکنہ بستی شاہدرہ سے کرنا چاہتی تھی جس کو میرے خاوند عارف مسیح نے متعدد باربار منع بھی کیا لیکن وہ باز نہ آئی ۔مورخہ 30/7/18کو بوقت 4بجے سہ پہر میری بیٹی روش اپنے باپ کی اجازت کے بغیر اپنی پسند کے لڑکے ہارون مسیح سے شادی کرنے کی غرض سے کیتھولک چرچ لطیف پورہ جانے لگی تو میں اور میرے خاوند عارف مسیح نے کہا کہ بڑوں کی اجازت سے شادی کرتے ہیں لیکن وہ باز نہ آئی اور چرچ کی طرف چلی گئی جس پر میرا خاوند طیش میں آگیا اور پسٹل پکڑ کر چرچ کی طرف چلا گیا سائلہ ہمراہ اپنے بھائی رشید مسیح اور اپنے بہنوئی امین مسیح لطیف پورہ چرچ چلے گئے ہم نے چرچ میں عارف مسیح سے کہا کہ روش کو کچھ مت کہولیکن عارف مسیح نے ہماری ایک بھی نہ سنی اور یکے بعد دیگرے فائر کیے جو میری بیٹی روش کو کندھے اور ٹھوڑی پرلگے جس سے وہ مضروب ہو کر نیچے گر پڑی اور موقعہ پر جاں بحق ہوگئی جبکہ ہارون مسیح موقعہ سے فرار ہوگیا ۔تھانہ بی ڈویژن پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی اور نعش کو پوسٹمارٹم کیلئے ڈی ایچ کیو ہسپتال قصور منتقل کردیا ۔عارف مسیح کی گرفتار ی کیلئے ایس ایچ او تھانہ بی ڈویژن محمد محسن ،انچارج ہومیسائیڈ یونٹ سب انسپکٹر محمد افتخار جوئیہ ودیگر اہلکاروں پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی گئی جنہوں نے چند گھنٹوں کے بعد عارف مسیح کو گرفتارکرکے ملزم کے قبضہ سے پسٹل برآمد کرلیا ۔پولیس نے عارف مسیح کے خلاف چالان رپورٹ مکمل کرکے ڈسٹرکٹ جیل قصور میں منتقل کردیا جہاں پر عارف مسیح پابند سلاسل ہے۔ ایک ہنستا کھیلتا گھر جذبات میں کیے گئے فیصلوں کے باعث چند لمحات میں اجڑ گیا ،بیٹی قبر میں ،باپ جیل میں اور بیوی اکیلی۔معاشرے میں غیرت کے نام پرقتل ہونے والے واقعات درحقیقت جذبات میں کیے گئے فیصلو ں کا سبب بنتے ہیں۔قانون سے ملنے والی رعایت کی وجہ سے غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کے مجرم سزا سے بچ جاتے ہیں اس کیس میں بھی کیس کی مدعیہ مسماۃ صغراں بی بی کو بھی کبھی نہ کبھی اپنے شوہر کی یاد ستائے گی تو ملزم عارف میسح بھی دیگر ملزمان کی طرح جیل سے باہر آکر غیرت مندی کا سمبل بن کر پھرے گا اس وقت تک اسے یہ سب کچھ بھول چکا ہو گا کہ میری ملاقاتیں کس طرح ہوتی رہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -