اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 80

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 80

  

اس نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور بولی۔

’’میرا نام مائدہ ہے۔ ایک ماہ ہوا شیخ الجبل کے فدائی میرے خاوند کو قتل کرکے میری اکلوتی نوجوان لڑکی فائقہ کو اغواء کر کے اپنی جیت میں حور بنانے کے لئے لے گئے۔ تب سے آج تک میں ان پہاڑیوں میں اپنی بیٹی کو تلاش کرتی پھر رہی ہوں۔ میری بیٹی ہی میری زندگی کا سہارا تھی۔ وہ بھی مجھ سے چھین لی گئی ہے۔ شیخ الجبل کی جنت میں اسی طرح امیر گھرانوں کی لڑکیاں اغواء کر کے لائی جاتی ہیں۔ وہ اس جنت میں دوزخ کی زندگی بسر کرتی ہیں۔ جب کوئی لڑکی بیس برس کی عمر سے اوپر پہنچتی ہے تو اسے ہلاک کر کے اس کی جگہ دوسری لڑکی اغواء کے کر کے لائی جاتی ہے۔ میری فائقہ کی عمر اٹھارہ برس ہے جانتی ہوں دو برس بعد اسے بھی قتل کر دیا جائے گا۔ کاش میں اپنی بیٹی کو جو انی کی موت سے بچا سکتی ۔ مگر میں ایک کمزور عورت ہوں۔ اسی طرح ان پہاڑیوں میں اپنی اکلوتی بیٹی کو پکارتی ایک دن مرجاؤں گی۔‘‘

اس عورت کی آہ و فریاد نے میرے دل پر گہرا اثر کیا۔ میں نے آگے جانے کا ارادہ ترک کر کے اسی وقت فیصلہ کر لیا کہ میں غم زدہ ماں کی بیٹی کو ضرور واپس لا کر رہوں گا۔ میں نے اس سے کہا کہ وہ فکر نہ کرے اور نالہ و فریاد بند کردے۔ میں اس کی بیٹی کو اس کے پاس لانے کی ہر ممکن کوشش کروں گا۔ وہ حیرت اور تجسس سے مجھے تکنے لگی۔

’’ مگر بیٹا ! تم قلعہ الموت میں کیسے جاؤ گے؟ وہاں تو آج تک کوئی نہیں جا سکا۔ فدائی جس کو اغواء کر کے لے جائیں وہی قلعے میں جاتا ہے اور وہ بھی پھر واپس نہیں آتا۔‘‘

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 79پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

میں نے کہا۔ ’’ بی بی ! تم یہ معاملہ مجھ پر چھوڑ دو میں شیخ الجبل حسن بن صباح کے قلعے میں کیسے داخل ہوتا ہوں۔ میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں تمہاری بچی فائقہ کو اس شعبدہ باز شیخ الجبل کے چنگل سے چھڑا کر لانے کی ہر ممکن کوشش کروں گا۔ کامیابی اور ناکامی خدا کے اختیار میں ہے۔ ‘‘

وہ عورت بولی۔ ’’ مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا۔ بیٹا شیخ الجبل کے فدائین خونخوار ہیں۔ موت ان کے نزدیک ایک کھیل ہے۔ خدا تمہارا نگہبان ہو۔ میں تمہارے لیے سجدے میں گر کر دعا مانگتی رہوں گی۔ ‘‘

اس عورت نے مجھے اپنی چھوٹی سی جھونپڑی دکھائی جو اس نے ان ہی پہاڑیوں میں ایک جگہ ڈال رکھی تھی۔ وہ اسی جگہ فقروفاقہ میں رہ کر اپنی بیٹی کی یاد میں دن رات آنسو بہاتی تھی۔ میں نے اسے ہدایت کی کہ وہ اسی جھونپڑی میں رہ کر اپنی بیٹی کا انتظار کرے۔ یہ کہہ کر میں واپس اپنے گھوڑے کے پاس آگیا۔ کہنے کو تو میں نے یہ سب کچھ کہہ دیا تھا مگر اب میری سمجھ میں نہ آیا تھا کہ میں کیا کروں؟ قلعہ الموت میں کس طریقے سے داخل ہوں اور کس بھیس میں جاؤں۔ کیونکہ بفرض محال اگر میں کسی طرح قلعے میں داخل ہو بھی گیا تو حسن بن صباح مجھے پہچان لے گا۔ کیونکہ وہ خراسان کے سلطان کے سبھی مراء کو اور خاص طور پر اپنے دشمن امراء کے چہروں سے خوب واقف تھا اور مجھ پر قاتلانہ حملہ بھی کروا چکا تھا اور میری دھمکی بھی اسی فدائی کے ذریعے حسن بن صباح تک پہنچ چکی تھی۔

ایک بات بالکل واضح تھی کہ میں اگر سیدھے سبھاؤ قلعے کی طرف چلنا شروع کردوں تو میرے لئے رکاوٹ نہیں ہوگی۔ قلعے کی چوکیوں سے مجھ پر تیر برسیں گے جو مجھ پر اثر نہیں کریں گے۔ مگر اس سے فائدہ کچھ نہیں ہوگا۔ میں اس بدنصیب ماں کی بیٹی کو آزاد نہ کراسکوں گا۔ اگر حسن بن صباح پر میری خفیہ طاقت کا راز بھی ظاہر ہوگیا تو بھی ممکن ہے کہ وہ فائقہ کو ہلاک کروا ڈالے۔ یا اگر میں اسے سب کے سامنے لے کر نکلوں تو ممکن ہے کہ میں اسے فدائین کے تیروں اور خنجروں سے نہ بچا سکوں۔ اس کے لئے مجھے حکمت عملی سے کام لینا ہوگا۔ کوئی منصوبہ بنا کر قلعے میں داخل ہونا ہوگا اور پھر اس منصوبے پر عمل کرتے ہوئے خفیہ طور پر فائقہ کو لے کر وہاں سے نکلنا ہوگا۔ میں نے فائقہ کی ماں سے اس کا جلسہ معلوم کرلیا تھا۔ فائقہ کی عمر اٹھارہ برس تھی۔ قد نکلتا ہوا تھا۔ آنکھوں کا رنگ نیلا تھا۔ رنگ گورا تھا۔

میرے ذہن میں صرف ایک ہی منصوبہ آرہا تھا کہ میں کسی فدائی کا بھیس بدل کر قلعے میں داخل ہوں۔ کیونکہ قلعے میں فدائین کی ایک فوج رہتی تھی اور ایسا ممکن تھا کہ وہ ایک دوسرے سے اتنے صورت آشنانہ ہوں اور پھر مجھے یہ بھی معلوم تھا کہ قلعے میں گاہے بگاہے ایسے غریب ، جوان اور حاجت مند آدمیوں کو بھی خفیہ طریقے سے لایا جاتا ہے جنہیں نشہ پلا کر جنت ارضی کی جھلکیاں دکھا کر فدائین کی صف میں شامل کر لیا جاتا ہے۔ دوسری بات جس سے میں آگاہ تھا، یہ تھی کہ حسن بن صباح فدائین کے سامنے بہت کم آتا ہے۔ اس طرح سے مجھے موقع مل سکت اتھا کہ میں فائقہ تک رسائی حاصل کر کے اس سے رابطہ قائم کر کے اسے وہاں سے فرار کروا سکوں۔ میں گھوڑے پر سوار ہو کر پہاڑی سے باہر نکل آیا۔

آسمان ستاروں سے جھلملا رہا تھا۔ وادی میں ایک دھیمی دھیمی نوارنی سی روشنی چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی۔ میں نے وہ کچا راستہ چھوڑ دیا۔ جو آگے جا کر پہاڑی کی چوٹی پر قلعہ الموت کی طرف جاتا تھا۔ میں ایک پتھریلے میدان میں سے گزر کر قلعہ الموت کے جنوبی دامن کی طرف چل دیا۔ میں گھوڑا دوڑائے جا رہا تھا۔ پہاڑی کے دامن میں پہنچ کر میں نے پہاڑی کا اچھی طرح سے جائزہ لیا۔ میں نے دیکھا کہ حسن بن صباح کے قلعے کو صرف ایک ہی راستہ اوپر پہاڑی پر جاتا تھا جو آگے جا کر جھاڑیوں میں چھپ گیا تھا۔ میں نے کافی سوچ بچار کے بعد گھوڑے کو زور سے لات ماری اور اسے واپس بھگا دیا۔ میرا لباس عام عربوں جیسا تھا۔ سر پر عمامہ اور لمبا کرتا میری جیب میں اپنی حویلی سے لائے ہوئے چند ایک قیمتی ہیرے اور اپنے سانپ دوست قنطور کا دیا ہوا مہرہ تھا۔ ان چیزوں کو میں نے ایک رومال میں لپیٹ کر لباس کے اندر اپنی کمر کے گرد باندھ لیا اور راستے سے ہٹ کر ساتھ ساتھ اوپر کو چلتی خشک جھاڑیوں او سنگلاخ ٹیکریوں کے پیچھے سے ہو کر چڑھائی چڑھنے لگا۔

کچھ دور تک چڑھائی چڑھنے کے بعد میرا اندازہ بالکل ٹھیک نکلا۔ وہاں قلعے کو جانے والا راستہ معدوم ہوگیا تھا اور خار دار جھاڑیوں اور خشک ٹیکریوں اور نوکیلی چٹانوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ یہ چھوٹی چھوٹی چٹانیں کچھ اس بے ترتیبی سے لگی ہوئی تھیں کہ انہوں نے قلعہ الموت کو اپنی اوٹ میں چھپا لیا تھا۔ مجھے بڑی مشکل سے قلعے کی درست سمت کو برقرار رکھنا پڑ رہا تھا۔ چڑھائی بے حد دشوار گزار تھی۔ یہی وجہ تھی کہ کسی بھی بادشاہ کی باقاعدہ فوج آج تک اس قلعے پر چڑھائی کر کے اسے فتح نہ کرسکی تھی۔ رات نے ڈھلنا شروع کردیا تھا کہ میں تنگ و تاریک الجھی ہوئی پہاڑی چڑھتا آخر قلعے کے قریب پہنچ گیا۔ میں اس قلعے کے دروازے کے بالکل سامنے والے راستے سے ہٹ کر جا رہا تھا اور قلعے کے پہلو میں جا نکلا تھا۔ قلعہ مجھ سے بمشکل آدھے فرلانگ کے فاصلے پر تھا اور رات کی تاریکی میں وہ ایک بڑا بہت بڑا عفریت لگ رہا تھا جو اپنے سیاہ پر پھیلائے پہاڑی چٹان کے اوپر چمٹا بیٹھا ہوا ہو۔ اس کی دیوار بھی قدرتی اور پہاڑی چٹانوں کی بنی ہوئی تھی۔ اب میں اس کے دروازے کی سیدھ میں آکر کسی محفوظ جگہ پر چھپ کر اپنے منصوبے پر عمل کرنا چاہتا تھا۔

(جاری ہے... اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید :

کتابیں -اہرام مصرسے فرار -