انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 16

انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 16
انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 16

  

1990ء میں گووہ کے ایک یتیم خانے کے مالک کو گرفتار کیا گیا جو مبینہ طور پر بر طانوی فرانسیسی ، جرمن ، سوئس اور سکینڈ نیوین جسم فروش سیاحوں کو بچے سپلائی کرتا تھا۔ اسے ضمانت پر رہا کر دیا گیا اور ایک طویل عرصے تک اس کا مقدمہ عدالت تک نہ پہنچا ۔ گووہ میں جسم فروشی میں کثرت سے آنے والو ں میں سیاح ، مقامی افراد اور کالج کے لڑکے شامل ہیں ۔ امریکی سمندری سیا ح گووہ میں مقامی لوگوں سے دریا فت کرتے ہیں کہ کون سی بار میں جسم فروش پائے جاتے ہیں ۔ گووہ میں پائے جانے والے ’’بائینا‘‘کے قحبہ خانوں میں دہلی ، گجرات ، بنگلور ، ممبئی اور پنجاب سے ٹیکسی ڈرائیور ز سیاحوں کو مقامی لڑکیاں فراہم کرتے ہیں ہیں ۔ ان قحبہ خانوں سے پنجم کے ہوٹلو ں میں لڑکیو ں کو لانے کا بھی ان ڈرائیور ز نے انتظام کر رکھا ہے۔ یہ ٹیکسی ڈرائیورز راستے میں ایسی لڑکیو ں کے ساتھ جنسی زیادتی بھی کرتے ہیں ۔

گووہ میں پولیس کے چھاپوں سے پہلے بچوں کو چھپا دیا جاتا ہے۔ پولیس قحبہ خانوں کے مالکوں سے رشوت وصول کر تی ہے اور ان کو حالات سے آگاہ رکھتی ہے۔ ممبئی میں کما تھی پورہ سے پولیس کے ہاتھوں گرفتا رہونے والی عورتوں کی ایک بڑی تعداد حاملہ تھی اور ایڈز سے محفوظ نہ تھی۔ انڈیا میں قحبہ خانہ رکھنا، اس سے کما ئی حاصل کرنا ، جسم فروشی کی غرض سے عورتوں کو تیا ر کرنا اگرچہ قابل سزا جرائم ہیں اور عوتوں اور بچوں کو جسم فروشی کے لیے سمگل کرنے کی سخت سزائیں مقرر ہیں ۔ لیکن حکومتی مشینری کی کمزوری اور کرپٹ اہلکاروں کی ’’کارکردگی‘‘ کے علاوہ ڈھیلا ڈھالہ قانون بھی اس جرم کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ 1997ء کے وسط میں آئی ایم ایف کی طرف سے انڈیا کے لئے اداروں کے انتظامی ڈھانچوں کی پالیسی کو فروغ دینے سے درآمدی شعبوں کے علاقوں میں عورتوں کے استحصال اور معاشی حالات میں بھی اضافہ ہوا۔ ان شعبوں میں 70سے80 فیصد جوان لڑکیوں کو روزگار ملا۔

انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 15پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

انڈیا میں دیوداسی کی روایت ابھی تک ملک کے بیشتر علاقوں میں قائم ہے جو جسم فروشی کے دھندے میں بچوں کی شمولیت کو قانونی جواز مہیا کرتی ہے۔ دیوداسی ایسی عورت کو کہا جاتا ہے جس کی شادی دیوتا سے کردی جاتی ہے اور وہ سدا سہاگن رہتی ہے۔ اس پر ہر وقت،، رحمت،، اور خوشحالی چھائی رہتی ہے۔ ایسا کرنے سے ایک دیوداسی عورت معاشرے میں سب سے زیادہ طاقتور کی بیوی بن جاتی ہے۔ ایسی عورتوں کے مختلف ریاستوں میں مختلف نام ہیں۔ مثلاً کرناٹک کے ضلع وجاپور میں ہندو دیوتا (ہنومان کی مورتی) کو دی گئی لڑکیوں کو ’’باسوی‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ گووا میں دیوداسی کو بھاون کہا جاتا ہے۔ اسی طرح شیموگا کے ضلع میں لڑکیاں اونیکا دیوی اور ہوسپٹ میں ہولگلنگا دیوی کے حوالے کی جاتی ہیں۔ جنوبی انڈیا کی۸ ریاستوں میں بھی یہ رسم موجود ہے۔ ایسی لڑکیوں کی آخری منزل پونا اور ممبئی میں جسم فروش بننا ہوتی ہے۔ مدھیہ پردیش کے بیدیا اور بنجارہ لوگ ’’روایتی جسم فروشی‘‘ ایک رسم کے طور پر کرتے ہیں۔

ممبئی میں سیاستدانوں اور پولیس کے افسران اس مافیا کا حصہ ہیں جو سیکس انڈسٹری کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہ مافیا قحبہ خانوں اور لڑکیوں کو تحفظ دینے کا معاوضہ وصول کرتا ہے۔ نئی دہلی میں حکومتی کانگریس جماعت میں تمام سطحوں تک کرپشن پہنچ چکی ہے۔

بہت سے سیاستدان جسم فروش عورتوں کو کسی بڑے مقصد کے حصول کے لئے قربان کی جانے والی چیز تصور کرتے ہیں۔ایک دفعہ اس مافیا نے ایک ایسے جرمن ڈاکٹر کو اغواء کر لیا جو ڈبلیو ایچ او کے لئے نسلی بنیادوں پر پائی جانے والی جنسی زیادتی پر ایک سٹڈی رپورٹ تیار کرر ہا تھا ۔ اسے تین دن بعد اس دھمکی کے ساتھ رہا کر دیا گیا کہ وہ سیاستدانوں کے جسم فروشی اور عوام سے تعلق افشا کرنے سے باز رہے۔ ممبئی میں پولیس جسم فروش لڑکیوں سے نہ صرف رشوت لیتی ہے بلکہ مفت’’خدمت‘‘ کا مطالبہ بھی کرتی ہے جو پورا نہ ہونے پر لڑکیوں کو تشدد کا نشانہ بناتی ہے۔

جنوبی وسطی ممبئی میں ایشیاء کا سب سے بڑا جسم فروشی کا منظم نیٹ ورک پایا جاتا ہے۔ 1992ء میں ممبئی میونسپل کے 40امیدوار، اترپردیش کے( 425ارکان)180ارکان پارلیمنٹ مجرمانہ ریکارڈ کے حامل تھے۔ ممبئی کی ایک طاقتور نائکہ جوتنتا بائی کے نام سے مشہور ہے10ہزار دلالوں کو کنٹرول کرتی ہے۔ اس نے 1985کے انتخابات میں کھل کر ایک امیدوار کی حمایت کی جو جیت گیا۔

ممبئی کی سیکس انڈسٹری ایک اعلیٰ درجے کے کاروبار کا روپ دھار چکی ہے۔ اس کو چار جرائم پیشہ گروپ کنٹرول کرتے ہیں۔ ان میں سے پہلا گروپ پولیس کی دی جانے والی رشوت کی نگرانی کرتا ہے،دوسرا گروپ منی لانڈرنگ کرتا ہے ، تیسرے گروپ کاکام اندرونی قوانین وضع کرنا اور اسے نافذ کرنا ہوتا ہے۔ جبکہ چوتھا گروپ ہمالیہ سے جنوبی انڈیا تک پھیلے ہوئے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے لڑکیوں کو چھانٹی کر کے ممبئی کے قحبہ خانوں تک لاتا ہے۔ ان چار گروپوں میں سب سے طاقتور ’’محبوب تحصیلدار ‘‘گروپ ہے جو عورتوں کے حصول کا بھی سب سے بڑا نیٹ ورک ہے۔ اس نے دو منزلہ عمارت کے گراؤنڈ فلور پر ایک ریسٹورنٹ بھی کھول رکھا ہے۔ اس کے پاس ایک بند قحبہ خانہ بھی ہے جو سب سے بڑا سمجھا جاتا ہے اور جس میں پانچ درجن سے زائد عورتیں بیک وقت پیشے کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ہانگ کانگ ، امریکہ اور آسٹریلیا تک فون کے ذریعے رابطے کئے جاتے ہیں جسے فون سیکس بزنس کہا جاتا ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعے انڈیا میں فحاشی کو عام کردیا گیا ہے۔ حکومت کی طرف سے اگرچہ اس پر پابندی لگائی گئی ہے تاہم سرکاری اور نیم سرکاری ذرائع کے استعمال سے سیکس لائنز کا استعمال جاری ہے۔

انڈیا میں جنسی استحصال اور تشدد کو ایک منظم طریقے سے قومیا لیا گیا ہے۔ یہ ایک امتیازی جنسی نظام کا نتیجہ ہی ہے کہ آج انڈیا سے50ملین (5کروڑ) لڑکیاں اور عورتیں گم شدہ ہیں۔ اسی جنسی نظام کی بدولت عورتوں کو اسقاط حمل جو سرکاری طور پر منع ہے، کے اذیت ناک مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ سونالی ورما کا کہنا ہے کہ انڈین عورتیں ابھی تک آزادی کی منتظر ہیں۔ 90ء کی دہائی میں 50سے زائد عورتوں کو ان کے خاوندوں کے ساتھ زندہ جلایا گیا۔ اسے ’’ستی‘‘ کہتے ہیں۔ اس رسم کی بنیاد اس عقیدے پر رکھی گئی ہے کہ ایک ہندو عورت کا اس کے خاوند کے بغیر آزاد حیثیت رہنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔

انڈیا میں جہیز کی لعنت بھی عام پائی جاتی ہے۔ اگرچہ یہ قانون کی نظر میں ممنوع ہے لیکن 5ہزار سے زائد عورتیں جہیز کم لانے یا نہ لانے کی وجہ سے ہر سال قتل ہوتی ہیں۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید :

کتابیں -انسانی سمگلنگ -