کینیڈین حکومت نے آسیہ بی بی کو پناہ دینے پر غورشروع کردیا

کینیڈین حکومت نے آسیہ بی بی کو پناہ دینے پر غورشروع کردیا
کینیڈین حکومت نے آسیہ بی بی کو پناہ دینے پر غورشروع کردیا

  

اوٹاوا  (محسن عباس / بیوروچیف) کینیڈا کی حکومت آسیہ بی بی کو سیاسی پناہ دینے کے بارے میں غور کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں وہ پاکستان کی حکومت سے رابطے میں ہیں اور باقاعدہ بات چیت جاری ہے۔ اس بات کا اظہار کینیڈا کے وزیر اعظم نے میڈیا سے  گفتگو کے دوران کیا۔ کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے ایک کانفرنس میں شرکت کے موقع پر کہا کہ "ابھی وہ اس بارے میں بہت زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتے مگر یہ بات ضرور کہیں گے کہ کینیڈا ایک پر امن اور خوش ٓامدید کہنے والا ملک ہے"۔  آسیہ بی بی کے معاملے پر کینیڈا کی موجودہ لبرل پارٹی کی حکومت کو اپوزیشن جماعت کنزرویٹو پارٹی کی بھی حمایت حاصل ہے۔ 

 آسیہ بی بی کے خاندان نے کینیڈا کی حکومت سے سیاسی پناہ کی اپیل بھی کی ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کی وزیر اعظم ٹروڈو کینیڈا کی سیاسی صورتحال کا جا ئزہ لینے کے بعد ہی کوئی اعلان کریں گے۔ کیونکہ کینیڈا میں موجود لاکھوں پاکستانی مسلمانوں کا ووٹ بنک ان کی جماعت کی جیت کیلئے انتہائی اہم ہے۔ اس لئے وہ اگلے سال ہونے والے وفاقی انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی اہم فیصلہ کریں گے۔  

آسیہ بی بی کی رہائی کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی جا چکی ہے، ابھی یہ واضح نہیں کہ عدالت اُن کی قسمت کا کیا فیصلہ کرے گی، مگر کینیڈا میں مقیم پاکستان سے تعلق رکھنے والے روشن خیال طبقے کی ایک بڑی تعداد نےانہیں پناہ دینے کے لئے بھرپور مہم کا آغازکردیا ہے ۔اس سے قبل کینیڈا نے ملالہ یوسفزئی کو بھی اعزازی شہریت سے نوازا تھا۔ 

مزید :

بین الاقوامی -