دہلی کو لوٹنے والا وہ سکھ مہاراجہ جو حضرت نصیرالدین چراغ دہلویؒ سے محبت رکھنے والے ہندووں کی بستی پر حملہ آور ہواتو پوری بستی اسکی نظروں سے اوجھل ہوگئی ،اس نے یہ راز پانے کے لئے پھر کیا حکمت عملی اختیار کی ،جانئے تاریخ کا وہ کراماتی واقعہ جس نے اسلام کا بول بالا کردیا تھا

دہلی کو لوٹنے والا وہ سکھ مہاراجہ جو حضرت نصیرالدین چراغ دہلویؒ سے محبت ...
دہلی کو لوٹنے والا وہ سکھ مہاراجہ جو حضرت نصیرالدین چراغ دہلویؒ سے محبت رکھنے والے ہندووں کی بستی پر حملہ آور ہواتو پوری بستی اسکی نظروں سے اوجھل ہوگئی ،اس نے یہ راز پانے کے لئے پھر کیا حکمت عملی اختیار کی ،جانئے تاریخ کا وہ کراماتی واقعہ جس نے اسلام کا بول بالا کردیا تھا

  

اٹھارویں صدی کے آخر میں بھرت پور کے مہاراجہ جواہر سنگھ جاٹ نے دہلی کولوٹا اور وہاں قتل و غارت کا بازار گرم کیا۔ اس وقت بستی چراغ دہلی میں ایک مالدار برہمن رہتا تھا۔ وہ اس لوٹ مار سے خوفزہ ہو کر حضرت نصیرالدین شاہؒ چراغ دہلوی کے مزار پر پہنچا اور بولا۔ ’’سرکار ! دہلی تباہ و برباد ہو رہی ہے اور تباہی وبربادی کے شعلے بستی چراغ دہلی کو بھی اپنی لپیٹ میں لینے والے ہیں۔ ہم آپ کی رعایا میں خدا کے لیے ہماری مدد کیجئے‘‘یہ کہہ کر برہمن اپنے مکان پر آیا اور دن بھر حضرت ؒ سے لو لگائے بیٹھا رہا۔ رات کو وہ سویا تو خواب میں دیکھا کہ حضرت چراغ ؒ دہلوی اُس سے فرمایا رہے ہیں۔ ’’ اطمینان سے دروازہ کھول کر بیٹھے رہو۔ وہ تمہاری طرف آئیں گے تو اندھے ہوجائیں گے۔ ‘‘ 

جیسے ہی برہمن کی آنکھ کھلی اس نے فوراً اپنے گھر والوں کو یہ خوشخبری سنائی۔ جو لوگ چراغ ؒ دہلوی کے زیادہ عقیدت مند نہیں تھے وہ برہمن کی بات سن کر مسکرائے۔ 

خوں خوار جاٹ دہلی کو تباہ و برباد کرتے رہے۔ لوگوں کی چیخ و پکار چراغ دہلویؒ کے رہنے والوں تک پہنچتی رہی۔ جاٹ جب بھی علاقہ چراغ دہلی کی طرف بڑھتے انہیں کچھ دکھائی نہ دیتا۔ مجبور ہو کر جاٹوں نے تمام واقعہ اپنے سردار جواہر سنگھ کو سنایا۔ پہلے تو اس کو یقین نہ آیا مگر ساتھیوں کے یقین دلانے پر وہ اُن کے ساتھ چراغ دہلویؒ کی جانب بڑھا اس نے لوگوں سے پوچھا۔ ‘‘ کیا اس علاقے میں کوئی خاص بات ہے۔ ‘‘ 

ایک بوڑھے نے جواب دیا۔ ’’ اس علاقے میں حضرت نصیر الدین محمود چراغ دہلویؒ کا مزار اقدس ہے۔ ‘‘ 

اس کے بعد جواہر سنگھ نے کسی سے کچھ نہ پوچھا۔ چند قدم آگے بڑھا اور چراغ دہلویؒ کے مزار کی جانب منہ کر کے کہا۔ ’’ حضرت ! میں اپنے ساتھیوں کی گستاخی پر شرمندہ ہوں اور مزار مبارک پر حاضر ہونا چاہتا ہوں۔ ‘‘ 

جواہر سنگھ کی زبان سے جیسے ہی یہ الفاظ ادا ہوئے چراغ دہلویؒ کی پوری بستی اس طرح اس کے سامنے آگئی جیسے اس کی آنکھوں پر پڑا ہوا پردہ ہٹا دیا گیا ہو۔ تمام جاٹوں نے عقیدت سے اپنے سر جھکا دیئے۔ اس کے بعد غسل کر کے مزار مبارک پر پھولوں کی چادر چڑھا کر واپس لوٹ گئے۔حضرت نصیر الدین شاہ دہلویؒ کو وصال پائے اس وقت چار سو سال گذر چکے تھے مگر آپ کی کرامت دیکھ کر سینکڑوں ہندو مسلمان ہوگئے ۔ 

مزید : روشن کرنیں