”چیف جسٹس نے صلاحیت اور اہلیت کے ریمارکس حکومت کیلئے نہیں دئیے بلکہ۔۔۔“ سپریم کورٹ کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی نے غلط خبر پر رانجھا راضی کرنے والے حکومتی مخالفین کے ہوش اڑا دئیے

”چیف جسٹس نے صلاحیت اور اہلیت کے ریمارکس حکومت کیلئے نہیں دئیے بلکہ۔۔۔“ ...
”چیف جسٹس نے صلاحیت اور اہلیت کے ریمارکس حکومت کیلئے نہیں دئیے بلکہ۔۔۔“ سپریم کورٹ کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی نے غلط خبر پر رانجھا راضی کرنے والے حکومتی مخالفین کے ہوش اڑا دئیے

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے بنی گالہ میں بغیر منصوبہ تعمیرات سے متعلق کیس کی سماعت کی جس دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے اس حوالے سے سی ڈی اے کی رپورٹ پیش کی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے پاس اہلیت ہے، صلاحیت اورنہ ہی منصوبہ بندی،آپ نے علاقے میں سڑکیں اورسیوریج نظام بناناہے تاہم کورٹ رپورٹنگ کرنے والے معروف صحافی صدیق جان نے دعویٰ کیا ہے کہ چیف جسٹس نے یہ ریمارکس حکومت کیلئے نہیں دئیے اور تحریک انصاف کے مخالفین اس پر تبصرہ کر کے رانجھا راضی کر رہے ہیں۔

صدیق جان نے سماجی رابطوں کی ویب ساٹ ٹوئٹر پر جیو نیوز کی جانب سے چیف جسٹس کے ریمارکس کے حوالے سے جاری ٹویٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے لکھا ”چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے ریرمارکس کو لے کر تحریک انصاف کے سب مخالفین اپنا رانجھا راضی کر رہے ہیں، سب خوش ہو لیں شام تک۔۔۔ اپنی ویڈیو میں بتاﺅں گا کہ یہ ریمارکس کن کیلئے تھے؟ ان کا بیک گراﺅنڈ کیا تھا؟ “

اس کے بعد انہوں نے اپنی ایک اور ٹویٹ میں لکھا ”سپریم کورٹ سے ابھی فارغ ہوا ہوں، انجیو پلاسٹی کے باوجود آج چیف جسٹس نے 9 گھنٹے تک مختلف کیسز کی سماعت کی۔۔۔ جو چینلز اور اینکرز یہ ریمارکس چلا رہے ہیں، ان کی لاعلمی ہے، چیف جسٹس نے حکومت کے بارے میں نہیں کہا کہ حکومت میں اہلیت اور صلاحیت نہیں، مکمل تفصیلات ویڈیو میں بتاﺅں گا۔“

مزید :

اہم خبریں -قومی -