مدینے کی ریاست کا خواب

مدینے کی ریاست کا خواب

  



وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کرپشن کرنے والوں کو عبرتناک سزائیں دیں، جبکہ ہم نے این آر او دے دے کر اور رحم کر کے معاشرے کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔ لوگ کہتے ہیں مجھ میں رحم نہیں ہے۔رحم کمزور طبقے کے لیے ہے،ڈاکوؤں اور ملک لوٹنے والوں پر کون رحم کرتا ہے،ڈاکوؤں اور ملک لوٹنے والوں کو مَیں کیسے معاف کر سکتا ہوں؟انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان سے پوچھا جاتا ہے کہ کدھر ہے نیا پاکستان، کدھر ہے ریاست ِ مدینہ، مَیں بتانا چاہتا ہوں کہ ہو سکتا ہے ریاست ِ مدینہ میری زندگی میں نہ بنے،لیکن ہم اس راستے پر چل پڑے ہیں۔ اس کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، کامیابی خدا کے ہاتھ میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے سامنے مافیاز بیٹھے ہوئے ہیں۔یہ مافیا/میڈیا میں، سیاست میں اور بیورو کریسی میں بیٹھے ہیں۔ہمارا کام جدوجہد ہے، انہیں شکست دینا ہے۔نیلسن منڈیلا نے27سال جیل میں گزارے لیکن اس کے باوجود سب کو معاف کر دیا، اور ملک کو خون خرابے سے بچا لیا۔دُنیا ہمیشہ ان کی عزت کرتی رہے گی۔ وزیراعظم نے زور دے کر کہا کہ اگر کسی قوم نے عظیم بننا ہو تو اس کو ریاست ِ مدینہ کا رول ماڈل بنانا ہو گا۔ مسلمانوں کا رول ماڈل حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اور مدینے کی ریاست ہونی چاہیے۔ وزیراعظم نے اِن خیالات کا اظہار وزارتِ مذہبی امور کے زیر اہتمام بین الاقوامی رحمت اللعالمین ؐ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،12ربیع الاول کو عید میلاد النبیؐ کے حوالے سے جس کا انعقاد کیا گیا تھا۔

وزیراعظم نے جو کچھ کہا،اس کے بڑے حصے سے آنکھیں بند کر کے اتفاق کیا جا سکتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہر مسلمان کا رول ماڈل ہونا چاہیے۔کسی کلمہ گو کا ایمان کامل ہی نہیں ہو سکتا، اگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مکمل یقین نہ رکھتا ہو،اُنہیں دُنیا کی ہر شے سے زیادہ عزیز نہ سمجھتا ہو،اور ان کے ہر حکم کو حرفِ آخر نہ سمجھتا ہو۔اِس بات میں تو بحث ہو سکتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی خاص معاملے میں کیا حکم دیا تھا؟ ان کے کسی حکم کی تعبیر وتشریح کے بارے میں بھی ایک سے زیادہ آرا ہو سکتی ہیں،مسلمانوں کے اندر جو مسلکی اور فقہی اختلافات پیدا ہوئے،احکامات کی تشریح ہی کے حوالے سے پیدا ہوئے ہیں۔کسی حکم کا سیاق سباق اور منشا کیا تھا، اس پر بحثیں ہوتی رہیں اور آج بھی ہوتی ہیں، لیکن جب کسی بات کی نسبت اللہ کے رسولؐ سے ثابت ہو جائے تو پھر اس میں قیل و قال کی گنجائش نہیں رہتی۔مسلمان معاشروں میں ریاست ِ مدینہ ہی کو رول ماڈل کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عہد ِ مبارک اور ان کے خلفائے راشدین کا دورِ حکومت ہر مسلمان کے لیے آئیڈیل ہے۔پاکستان کا تو قیام ہی اس لیے عمل میں آیا تھا کہ اسلامیانِ ہند اپنے اکثریتی علاقوں کو آزاد کرا کر وہاں اپنی اقدار اور تہذیب کے مطابق اپنی دُنیا تعمیر کر سکیں۔ قائداعظمؒ نے اسی جذبے کو یہ الفاظ عطا کیے تھے کہ پاکستان اسلام کی تجربہ گاہ ہو گا، یعنی مدینے کی ریاست کا تازہ ترین ماڈل جو دُنیا کے لیے نمونہ بن سکے،اور انتہاؤں میں گھرے لوگ جس سے اعتدال اور انصاف کی روشنی حاصل کر سکیں۔

مدینے کی ریاست میں نہ کرپشن برداشت ہو سکتی ہے، نہ ڈاکوؤں اور چوروں پررحم کھایا جا سکتا ہے،نہ ملک لوٹنے والوں کو سر آنکھوں پر بٹھایا جا سکتا ہے۔ مدینے کی اعلیٰ و ارفع ریاست کی تو بات چھوڑیے، کوئی بھی ریاست، خواہ وہ سیکولر ہو یا آمرانہ، یا بادشاہانہ، اگر وہ انسانی ہونے کا دعویٰ رکھتی ہے تو ڈاکوؤں اور لٹیروں پر رحم نہیں کھا سکتی۔کرپشن سے آنکھیں بند نہیں کر سکتی۔مافیاز سے سمجھوتہ نہیں کر سکتی۔ مدینے کی ریاست میں احتساب کی وسعت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امیر المومنین عمر فاروق ؓسے ایک بدو نے برملا ان کے کُرتے کا حساب مانگ لیا تھا، کہ کپڑے کے جو ٹکڑے (مال غنیمت میں سے) لوگوں کے حصے میں آئے تھے،ان میں سے کسی ایک ٹکڑے سے اتنا لمبا کرتا بنانا ممکن نہیں تھا۔حضرت عمرؓ کو واضح کرنا پڑا تھا کہ ان کے بیٹے عبداللہ نے انہیں اپنے حصے کا کپڑا بھی دے دیا تھا،اس کی مدد ہی سے وہ اپنا کرتا بنا پائے ہیں۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ احتساب صرف کُرتے کا ہو گا، اور باقی معاملات میں کھلی چھٹی ملی رہے گی۔ اس کا صاف اور سیدھا مطلب یہ ہے کہ کُرتے تک کا حساب ہو گا،یعنی جو کچھ بھی آپ کے پاس ہے،بتانا پڑے گا کہ وہ کہاں سے آیا؟ اپنے حال و فعال کا ”شجرہئ نصب“ آپ کو معلوم ہونا چاہیے۔

ایسی ریاست جس میں خواص کا احتساب ہو سکے،اور اہل ِ اقتدار سب سے بڑھ کر جواب دہ ہوں، ہر پاکستانی کا خواب ہے۔ہر پاکستانی کی دَُعا ہو گی کہ وزیراعظم اس راستے میں قدم بڑھائیں،لیکن یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ اسلام کے اصولوں کی روشنی میں ہم نے اپنا جو دستور بنایا ہے، اب نظامِ مملکت کو اس کے دائرے ہی میں چلانا ہو گا۔اتفاق رائے سے بننے والا ہمارا دستور ہماری اسلامی امنگوں اور آدرشوں کا مظہر ہے۔اب کوئی حکمران الہام کی بنیاد پر فیصلے نہیں کر سکتا کہ وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا۔ہماری ریاست میں تقسیم کار طے ہے۔ انتظامیہ،مقننہ، عدلیہ کا اپنا اپنا کام ہے،یہاں الزامات کا جائزہ عدالتوں کے ذریعے لیا جاتا اور انہی کے ذریعے سزاؤں کا نفاذ ہونا چاہیے۔انتظامیہ کا سربراہ کسی کو یکطرفہ طور پر مجرم قرار دینے کا مجاز نہیں ہے۔ ہمارے دستور کے تحت میڈیا، بیورو کریٹس اور سیاست دانوں کا اپنا اپنا دائرہ کار ہے۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دلوانا ریاست کا فریضہ ہونا چاہئے۔محض موٹے موٹے الفاظ کو استعمال کرنے سے فضا کبھی ساز گار نہیں ہو سکتی۔وزیراعظم پر لازم ہے کریمنل جسٹس سسٹم کو موثر بنائیں، اداروں کو مضبوط کریں،جہاں کسی قانون میں سقم موجود ہے، اسے دور کریں تاکہ خود کار انداز میں قانون شکن گرفت میں آتے چلے جائیں۔ادارے مضبوط ہوں گے، ہر شخص آمد و خرچ کا حساب دینے پر مجبور ہو گا،اہل ِ اقتدار اور اہل ِ اختلاف سے یکساں سلوک ہو گا،تبھی ایک ایسی ریاست قائم ہو سکے گی جسے ریاست ِ مدینہ کے راستے پر گامزن قرار دیا جائے۔الفاظ کی گولہ باری سے سفر آہستہ تو ہو سکتا ہے،کھوٹا بھی ہو سکتا ہے،اسے تیز تر نہیں کیا جا سکتا۔

مزید : رائے /اداریہ