کاشتکار اور ماڈل بازار،اہم فیصلہ!

کاشتکار اور ماڈل بازار،اہم فیصلہ!

  



سبزیوں کے نرخوں کو معمول پر لانے اور کاشتکاروں کو استحصال سے بچانے کے لئے صوبائی حکومت نے بڑا اہم فیصلہ کیا ہے،جس کے مطابق کسانوں کو اپنی پیداوار براہِ راست صوبے کے بڑے شہروں کے ماڈل بازاروں میں لا کر فروخت کرنے کی اجازت ہو گی اور حکومت ان کے لئے سٹال مہیاکرے گی،جن کا کوئی کرایہ بھی نہیں لیا جائے گا۔یہ ایک اچھا فیصلہ ہے۔اگر کسانوں /کاشتکاروں کا صحیح تعاون حاصل ہو گیا تو اس سے براہِ راست تین فریقوں کاشتکاروں،عوام اور حکومت کو فائدہ ہو گا تاہم ضروری امر یہ ہے کہ اس انتظام کو اس کی روح کے مطابق نافذ کیا جائے۔وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کی صدارت میں یہ فیصلہ کیاگیا ہے تو ان کو اپنے اس پروگرام کی نگرانی بھی خود کرنا ہو گی۔جہاں تک ہمارے ملک میں پیداوار اور صارف تک فروخت کا تعلق ہے تو اس کی راہ میں مڈل میں آتا ہے،جو معروف معنوں میں آڑھتی کہلاتا ہے۔یہ پرانے دور کا نظام تھا کہ کاشتکار خود منڈی تک اپنی پیداوار لاتے اور آڑھتی کی کمیشن دے کر اپنا مال بیچ لیتے اور نقد رقم لے کر واپس چلے جاتے ہیں۔یوں پیداوار مالک اور صارف کے درمیان منافع خوری صرف پھڑیئے اور دکاندار کرتے تھے،لیکن پھر یوں ہوا کہ ایک اور طبقہ پیدا ہو گیا، اسے ٹھیکیدار کہا جا سکتا ہے۔یہ حضرات کاشتکار سے پیشگی فصل خرید لیتے ہیں اور ساری پیداوار خود اٹھا کر منڈی تک لاتے ہیں،اس طبقے ہی نے کولڈ سٹوریج والا حربہ اختیار کیا کہ سبزیاں، پھل ان کولڈ سٹوروں میں رکھ کر انتظار کرتے اور پھر مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں ان حالات میں ہمیں یہ منصوبہ مشکل میں نظر آتا ہے۔وزیراعلیٰ کو جو خود بھی کاشتکار ہیں، اس سارے معاملے اور چین پر پہلے سے غور کرنا چاہئے اور تمام امور کو ذہن میں رکھ کر شفاف فیصلے کرنا چاہئیں۔ہمارے نزدیک یہ فیصلہ احسن ہے تاہم عمل درآمد سب سے بڑا مسئلہ ہے،اِس لئے سارے پہلوؤں پر گہری نگاہ رکھ کر انتظامات کئے گئے تو صارف اور کاشتکار دونوں استحصال سے بچ جائیں گے، ہم کامیابی کے لئے دُعا گو ہیں۔

مزید : رائے /اداریہ