چین میں انسانی حقوق کی صورت حال!!

چین میں انسانی حقوق کی صورت حال!!
چین میں انسانی حقوق کی صورت حال!!

  



یوں تو ریاست میں بسے لوگوں کی خوشگوار زندگی انسانی حقوق کی سب سے بڑی منزل ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ چین متعدد قومیتوں پر مشتمل ایک متحدہ ملک ہے۔ چین نے مذہبی آزادی کی پالیسی اپنائی ہے اور وہاں تمام قومیتوں کا احترام بھی کیا جاتا ہے۔ تفصیل میں جائیں تو پتہ چلتا ہے کہ چین نے گزشتہ 70 برسوں کے دوران چینی کمیونسٹ پارٹی کی قیادت میں انسانی حقوق کے شعبے میں شاندار ترقی کی ہے۔ چین نے1.4 ارب شہریوں کے روٹی اور کپڑے کے مسائل حل کر دیئے ہیں اور 850 ملین لوگوں کو غربت سے نجات دلائی ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی بینک کی رپورٹوں میں چین کے ان اقدامات کو سراہا بھی گیاہے، جو انسانی تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ یہا ں تک کہ چینی عوام کے شہری اور سیاسی حقوق میں زبردست بہتری آئی ہے، اس کی بڑی مثال یہ ہے کہ چین نے انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے جامع قانونی ضمانتی نظام قائم کر دیاہے۔چین کے 1.4 ارب عوام پُر امن، آزاد اور خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں، اس کے برعکس تواتر سے نا قابل یقین تحقیق طلب رپورٹس سامنے آئی ہیں، بعض رضاکاروں نے الزام عائد کیا ہے کہ تقریباً 10 لاکھ مسلمانوں کو جبراً سنکیانگ صوبے میں زیر حراست رکھا گیا ہے، جہاں انہیں زبردستی ریاست کے سیاسی نظریے سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

انسانی حقوق کی مبینہ پامالی کے حوالے سے عالمی برادری کی جانب سے چین پر تنقید کا سلسلہ مسلسل جاری ہے،،گزشتہ سال (نومبر2018ء) میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے بھی تنقید کی تھی کہ چین میں انسانی حقوق کی صورت حال انتہائی مایوس کن ہے، جہاں ریاست کوہی سماجی کارکنوں سمیت وکلاء کے لیے حراستی کیمپ بنا دیا گیا ہے، اقوام متحدہ نے بیجنگ سے مطالبہ بھی کیا تھا کہ وہ زیر حراست اویغوربرادری سمیت دیگر مسلمان اقلیتوں کو رہا کرے۔دوسری جانب برطانوی اخبار ”دی گارجین“ میں شائع رپورٹ میں بھی اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے صوبہ سنگیانگ اورتبت میں انسانی حقوق کے رضاکاروں کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کیاتھا، نیز جرمنی نے چین سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ سنگیانگ صوبے میں غیرقانونی حراستی مراکز بند کرے،جبکہ آئی لینڈ اور جاپان نے سنگیانگ میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق تحفظات کا اظہار کر چکی ہے……

چنانچہ، سوال اب یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیاچین میں واقعی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جاری ہیں؟ کیا چین انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کو اپنے حقائق کے مطابق عمل میں لایا؟کیا چین نے ہمیشہ عوام کو انسانی حقوق کے تحفظ کے سلسلے میں اولین ترجیح دی؟ یہ سب سوالات تو ایک طرف…… چین نے اقوام متحدہ کے بیان تک کو مسترد کرتے ہوئے ردعمل دیا ہے کہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک جان بوجھ کر ”چین کی غیرمعمولی ترقی“ کو تسلیم کرنے سے قاصر ہیں،نیزچین کے نائب وزیر خارجہ لی یوچنگ نے بھی کہا کہ ”بعض ممالک کی جانب سے لگائے گئے سیاسی الزامات کو تسلیم نہیں کریں گے جو حقائق کے قطعی منافی ہیں“۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین کو کوئی دوسرا ملک جمہوریت اور انسانی حقوق پر لیکچر نہیں دے سکتا، جبکہ گزشتہ دنوں چین کے سرحدی امور کے دانشور شو جیئن اینگ نے سنکیانگ میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کی حوصلہ شکنی کے لئے اختیار کیے جانے والے اقدامات سے متعارف کرواتے ہوئے بتایا کہ پیشہ ورانہ تربیتی سینٹرز کا قیام اس علاقے میں امن قائم کرنے کے لئے کیا گیا جو ایک موثر اقدام ہے۔

بات یہاں ابھی ختم نہیں ہوتی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ متعدد تشویشناک رپورٹس میں بھی بتا یا گیا ہے کہ چین میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کی گرفتاریا ں اور قید کی سزا بھی دی جا رہی ہے،جیسا کہ ایک وکیل وانگ کوانزنگ کو ساڑھے 4 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق تیانجن شہر کی ایک عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ 5برس تک وانگ کو سیا سی حقوق بھی حاصل نہیں ہوں گے۔ رپورٹ کے مطابق 42سالہ وانگ سیاسی کارکنوں کے حقوق کا دفاع کرنے کی اپنی سرگرمیوں کے باعث مشہور ہیں، اس کے علاوہ 2017ء میں چین میں تائیوانی انسانی حقوق کے کارکن لی منگ-

چی کو حکومت کا تختہ پلٹنے کی کوشش کے الزام میں پانچ سال قید کی سزا سنائی۔رواں سال جنوری میں چین نے ریاست کی رٹ کو چیلج کرنے کے الزام میں اپنے ملک کی نمایاں ہیومن رائٹس ویب سائٹ کے بانی لی فے یو جنہوں نے چین میں شہریوں کے حقوق کے حوالے سے ایک ویب سائٹ بنائی تھی،وہ شہریوں پر ظلم، حکومتی کرپشن اور دیگر حساس معاملات سمیت انسانی حقوق کے مسائل پر آواز اٹھاتے تھے، ان کو بھی پانچ سال قید کی سزا سنا ئی، جیسی مزید مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں، جبکہ عالمی برادری ان سزاؤں کو انتقامی کارروائی قرار دے رہی ہے۔ اس دوران سب سے اہم بیانیہ یہ ہے کہ دنیا کے 54سے زائد ممالک نے مشترکہ طور پر سنکیانگ میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لئے چینی حکومت کی حمایت کی ہے۔ اقوام متحدہ میں بیلارس کے نمائندے ولینٹن رائباکوف نے 54ممالک کی طرف سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی برائے انسانی حقوق میں بحث کے لئے ایک بیان پیش کیا۔

یہ کمیٹی سماجی،انسانی حقوق اور ثقافتی کمیٹی بھی کہلاتی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ چین نے سنکیانگ یغور کے خودمختار علاقے میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لئے مثبت اقدامات کیے ہیں۔بیان میں بھی حکومتی نتائج کو مثبت قرار دیا گیا ہے، اوران اقدامات کے ذریعے سنکیانگ کے تمام نسلی گروپوں کے انسانی حقوق کا موثر طورپر دفاع کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بعض ممالک سنکیانگ میں انسانی حقوق کے مسئلے کو سیاسی طور پر اچھال رہے ہیں۔ ان ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ چین کے خلاف بے بنیاد الزامات بند کردیں،یعنی تاریخ اور حقیقت دونوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ چین قومی حالات کے مطابق انسانی حقوق کی ترقی کی راہ پر کامیابی کے ساتھ گامزن ہے اور انسانی تہذیب کے تنوع کو تقویت بخش رہا ہے۔مجھے یقین ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آگے بھی یہ سلسلہ جاری رہتے ہوئے سنکیانگ کے باشندوں کی بقا، صحت اور ترقی کے حقوق اور خوشحال زندگی بسر کرنے کے حق کی ضمانت کو یقینی بنایا جائے گا۔

مزید : رائے /کالم