مصطفی ﷺ جان رحمت پہ لاکھوں سلام

مصطفی ﷺ جان رحمت پہ لاکھوں سلام
مصطفی ﷺ جان رحمت پہ لاکھوں سلام

  



حقائق پر مبنی ایک عالمگیراور بھرپور کہاوت ہے کہ ٹھنڈک کا کوئی وجود نہیں حدت کی غیر حاضری کو ٹھنڈک کہتے ہیں کہ جب حدت آتی ہے تو ٹھنڈک کہاں چلی جاتی ہے دراصل ٹھنڈک کا کوئی وجود نہیں ہوتا بعینہ تاریکی کابھی کوئی وجود نہیں جب روشنی آتی ہے تو تاریکی بھی ختم ہوجاتی ہے اسی طرح جب سرزمین عرب پرکفر کے گھٹا ٹوپ اندھیرے چھائے ہوئے تھے تو احمد مجتبیٰ محمد مصطفیﷺ اسلام کی روشن اور منور کرنوں کا پاکیزہ اور مطاہر پروگرام لے کر آئے تو دُنیائے عرب سے کفرو الحاد کے تاریک سائے ختم ہوگئے یہ وہ زمانہ تھا جب خطہ عرب جہالت کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا معمولی معمولی باتوں پر قبائل میں جنگیں اور دشمنی، جوسالہا سال چلتی اور سینکڑوں لوگ ہلاک ہو جاتے ایسے میں آمنہ کے لعلؐ نے اللہ رب العزت کے آفاقی پیغام قرآن کریم سے اہل عرب کو روشناس کرایا اور انہیں احترام انسانیت و آدمیت کی تلقین و تبلیغ کی ان پر حق وباطل کی تفریق واضح کی انہیں اللہ تعالی کی وحدانیت اور اس کے قادر مطلق ہونے کا درس دیا عدل وانصاف اور مساوت کا سبق دیا انہیں قرآنی تعلیمات، ان کی افادیت اور اہمیت سے آگاہ کیا اور عرب کا استحصالی معاشرہ جو صدیوں سے جہالت میں ڈوبا ہوا تھا اسے کرن کرن منور کردیا اور پھر وہ وقت آیا کہ وہی جہالت والا معاشرہ بنی نوع انسان کی رہنمائی کا معتبر ذریعہ ٹھہرا۔

حضور کریم ﷺ کی آمد سے پہلے اپنے اوصاف حمیدہ اور اخلاق جلیلہ کی بدولت صادق و امین کے لقب سے یاد کئے جاتے تھے یہاں اس واقع کا ذکر مناسب ہوگا کہ تاجروں کا ایک قافلہ جو مال تجارت لے کر دوسرے شہر جارہا تھا اپنی منزل مقصود سے ذرا فاصلے پر تھاکہ بارش شروع ہوگئی اور اونٹوں پر لدا ہوا سامان تجارت بھیگنے لگا منزل تک پہنچتے پہنچتے آدھا مال تجارت بھیگ چکا تھا۔ منڈی پہنچ کر تاجروں نے مال اتارا تاجروں میں ایک معصوم چہرے والا نوجوان تاجر بھی موجود تھا اسی نوجوان تاجر نے اپنے مال کو دو حصوں میں تقسیم کردیا خشک اناج ایک طرف اور بھیگا ہوا اناج دوسری طرف۔ جب خریدو فروخت شروع ہوئی تو نوجوان تاجر بھیگے ہوئے مال کابھاؤ کم بتاتے جبکہ خشک مال کا بھاؤ پورا گاہک حیران ہوکر پوچھتا کہ ایک جیسے مال کا الگ الگ بھاؤ کیوں؟ تو وہ بتاتے کے مال بھیگنے سے اس کا وزن زیادہ ہوگیا ہے اور خشک ہونے کے بعد اس کا وزن کم ہوجائے گااگر میں دونوں کا ایک ہی بھاؤ پر بیچوں گا تو یہ بدیانتی ہوگی۔

لوگوں کے لئے یہ نئی بات تھی،پوری منڈی میں اس نوجوان تاجرکی دیانتداری کا چرچا ہوگیا لوگ جوق در جوق اس تاجر کے گرد جمع ہونے لگے اور ان کے اخلاق اور ایمانداری کے گرویدہ ہوگئے وہ معصوم اورخوش شکل نوجوان تاجر ہمارے پیارے نبی کریمؐ تھے حضور اکرم دیانتداری، اخلاق، غریب پروری، انصاف، مروت، چھوٹوں سے محبت بڑوں کا احترام کا ایک اعلی ترین اور فقید المثال نمونہ تھے آپؐ نے زندگی بھر بحث تمحیض سے انحراف کیا۔ایک یتیم اور تنہا عظیم المرتبت ہستی نے دُنیا کو اسلامی طرز کا ایک بہترین نظام حیات عطا کیا کہ جس کے سامنے دنیا بھر کے نظام ہیچ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام اس تیزی سے پھیلا کہ دُنیائے عرب سے نکل کر پوری کائنات پر محیط ہوگیا اور دُنیا کے بڑے بڑے غیر مسلم دانشور بھی اسلام کی تعریف اس کی افادیت اور اہمیت میں رطب اللسان ہیں۔

آپؐ کی حیات طیبہ کے آخری چند ایام کا تذکرہ یوں ہے کہ جب آپ عمر کے 63ویں سال میں تھے تو بارگاہ الٰہی سے اشارہ ہوا کہ پیغام انسانیت مکمل ہوا اب آپ کی واپسی کا سفر ہوگا۔ حجتہ الوداع کے بعد 11ہجری ماہ صفر میں آپ جنت البقیع تشریف لے گئے دُعا کی اور فرمایا کہ ہم جلد ہی تم سے آ ملنے والے ہیں قبرستان سے واپسی پر سر میں ہلکا ہلکا درد شروع ہوا۔ مرض کی شدت بڑھنے پر ازواج مطہرات کو جمع کیا اور استفسار فرمایا کہ علالت کے دن حضرت عائشہ ؓ کے گھر گزارلوں؟ مثبت جواب پر اُٹھنا چاہا، لیکن اٹھ نہ پائے حضورؐ کا پسینہ شدت سے بہہ رہا تھا صحابہ کرام ؓ نے آپ ؐ کو اس حال میں دیکھا تو گھبرا گئے۔ مسجد نبویؐ میں شور بڑھنے لگا آپ ؐ کے دریافت کرنے پر بتایا گیا کہ لوگ آپؐ کی حالت سے خوفزدہ ہیں۔ ارشاد ہوا مجھے ان کے پاس لے چلو اٹھنے کا ارادہ فرمایا مگر اٹھ نہ سکے آپؐ پر سات مشکیزے پانی بہایا گیا،

تب سہارا لے کر منبرپر تشریف لائے یہ رسالت مآبؐ کا آخری خطبہ تھا فرمایا تمہیں شاید میری موت کا خوف ہے اور فرمایا اے لوگو! اب تم سے میری ملاقات دنیا میں نہیں حوض کوثر پر ہوگی لوگو کو مخاطب کرتے ہوئے تلقین فرمائی۔ لوگو نماز اور عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرنا اور میری قبر کو سجدہ گاہ نہ بنانا اس کے بعد ارشاد ہوا اللہ نے اپنے بندے کو اختیار دیا اس نے وہ اختیار کر لیا جو خدا کی بار گاہ میں ہے سیدنا ابوبکرصدیق ؓ سمجھ گئے اور اشک بار ہوگئے اور کہنے لگے ”میرے ماں باپ اور بچے آپؐ پر قربان اور پھر احمد رسلؐ نے امامت کے لئے حضرت ابو بکر ؓ کو مقرر فرمایا اور ارشاد ہوا کہ میں نے سب کے بدلے چکا دئیے ہیں اور ابوبکرؓ کا بدلہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے مسجد نبویؐ کے سارے دروازے بند کر دئیے جائیں سوائے ابوبکر کے دروازے کے اور فرمایا کہ اے لوگو قیامت تک آنے والے میرے ہر امتی کو میرا سلام پہنچا دینا پھر آپؐ کو سہارا دے کر گھر لے جایا گیا۔

12ربیع الاول پیر کے روز نماز فجر کے وقت پردہ اٹھا کر صحابہ کرام کو دیکھا چہرے پر بشاشت آگئی حضرت ابو بکرؓ پچھے ہٹنے لگے تو اشارے سے منع کیا اور ایک دلربا تبسم کے ساتھ پردہ چھوڑ دیا۔ دن چڑھا تو سیدہ فاطمہؓ کو بلایا ان کے کان میں کچھ کہا جس پر وہ زاروقطار رونے لگیں تو پھر کچھ ارشاد فرمایا تو ان کے چہرے پر رونق آگئی سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں وصال کے بعد میں نے پوچھا وہ کیا بات تھی، جس پر آپ پہلے روئیں اور پھر مطمئن ہوگئیں تو انہوں نے بتایا کہ پہلے فرمایا کہ میں آج کوچ کرنے والا ہوں۔دوسری بار کہا کہ تم خاندان میں سب سے پہلے مجھے سے آکر ملو گی۔ آپؐ نے سب کو بھیج دیا اور سیدہ عائشہ ؓسے فرمایا کہ میرے قریب آؤ تو آپؐ نے اپنی زوجہ مطاہرہ کے سینے پر ٹیک لگائی ہاتھ مبارک آسمان کی طرف بلند کئے اورفرمایا یااللہ مجھے آپ کی اعلی رفاقت پسند ہے اس مرحلہ پر جبرائیل ؑ

حاضر ہوئے اور کہا یا رسولؐ اللہ ملک الموت آنے کی اجازت طلب کررہا ہے کبھی اس نے کسی سے اجازت نہیں مانگی فرمایا آنے دو ملک الموت اندر آئے اور کہا کہ اللہ نے آپ کی خواہش معلوم کرنے بھیجا ہے آپ ؐ دُنیا میں رہنا چاہتے ہیں کہ اللہ کے ہاں جانا چاہتے ہیں۔ فرمایا اللہ میرا عمدہ رفیق ہے ملک الموت سرہانے کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے اے پاکیزہ روح اللہ کی رضا اور خوشنودی کی طرف روانہ ہوجا سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ آپ کا ہاتھ نیچے آنے لگا سر مبارک بھاری ہونے لگا مَیں سمجھ گئی کہ آپ کا وصال ہوگیا ہے۔

؎مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام

مزید : رائے /کالم