سقوطِ کشمیر اور بابری مسجد کے بعد مسجد اقصیٰ

سقوطِ کشمیر اور بابری مسجد کے بعد مسجد اقصیٰ
سقوطِ کشمیر اور بابری مسجد کے بعد مسجد اقصیٰ

  



مودی سرکار نے 5 اگست 2019ء کو کشمیر کی 70 سال سے قائم خصوصی حیثیت کو بیک جنبش ِ قلم ختم کر کے اپنی یونین میں ضم کر لیا، پھر تین ماہ بعد 6نومبر 2019ء کو انہوں نے ہندوستان کا نیا نقشہ بھی جاری کر دیاہے،جس میں مقبوضہ کشمیر کو ہندوستان کی یونین کا حصہ دکھایا گیا ہے۔ گویا مودی سرکار نے نیا نقشہ شائع کر کے اپنا مجرمانہ پلان مکمل کر لیا ہے۔ کشمیری مسلمان گزشتہ100روز سے 9لاکھ ہندو فوجیوں کی سنگینوں کے سائے میں کرفیو زدہ زندگی بسر کرنے پر مجبور کر دئیے گئے ہیں۔ کشمیر تقسیم ِ ہند کا نا مکمل ایجنڈا ہے، پاکستان کی تکمیل کا اہم جزو ہے، سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر کھلا کیس ہے۔

سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیریوں کو حق ِ خودارادیت دینے کا وعدہ بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے خود کیا تھا۔ ہم اس مسئلے کے فریق ہی نہیں ہیں،بلکہ مسئلہ کشمیر ہمارا اپناہے، ہم ہندوستان کے ساتھ چار جنگیں بھی لڑ چکے ہیں۔ ہم اسی چکر میں مشرقی پاکستان بھی گنوا چکے ہیں۔ ہماری حالت یہ ہے کہ ہم مودی سرکار کے اس ایکشن کے خلاف نہ تو اقوام عالم کو اپنا ہمنوا بنا سکے ہیں اور نہ ہی مسلم اُمہ کو۔ ہمارے عرب بھائی، سعودی عرب اور امارات بالخصوص ہندوستان کے ساتھ محبت کی پینگیں بڑھا رہے ہیں۔ سعودی عرب انڈیا میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے، اماراتی حکمران مودی سرکار اور ہندوؤں کی خوشنودی کے لئے مندر تعمیر کر رہے ہیں۔

ہماری بے بسی دیکھیں ہندو سپریم کورٹ نے صدیوں سے قائم مسجد (بابری مسجد) کو ہندوؤں کے حوالے کرنے کا شرمناک فیصلہ دیا ہے۔ ہم مسلمان اس قدر کمزور ہو چکے ہیں کہ بزدل دشمن کو اتنی ہمت ہو گئی ہے کہ وہ کشمیر کو غصب کر لے۔ ہم ایٹمی پاور ہیں، دُنیا کی ساتویں اور عالم اسلام کی اکلوتی ایٹمی طاقت ہیں۔ہماری حیثیت یہ ہو گئی ہے کہ کشمیر متنازعہ علاقہ ہونے کے باوجود مسلم اکثریتی خطہ ہے۔ جسے مودی نے ہندو اکثریتی یونین میں ضم کر لیا ہے،مگر ہم کچھ نہیں کر سکے۔ہم تقریباً100روز سے کشمیریوں کی بے بسی کو دیکھ رہے ہیں، لیکن ان کی داد رسی کے لئے کچھ نہیں کر پا رہے۔بابری مسجد ہندوؤں کے قبضے میں چلی گئی ہے، 22کروڑ ہندوستانی مسلمان بے بس نظر آرہے ہیں،ہندو غالب آچکے ہیں۔

مشرق وسطیٰ کو دیکھیں،دو درجن سے زائد عرب مسلمان ملک چھوٹی سی یہودی ریاست اسرائیل کے سامنے بے بس نظر آرہے ہیں۔ گزری سات دہائیوں کے دوران اسرائیل نے عربوں اور مسلمانوں کو ایک دن بھی امن چین سے نہیں رہنے دیا۔ فلسطینیوں کو نہ صرف در بدر پھرنے پر مجبور کیا، بلکہ ان کا ناطقہ بھی بند کر دیا ہے، لیکن عرب اپنے فلسطینی بھائیوں کے لئے کچھ بھی نہیں کر سکے، یروشلم پر یہودی قابض ہو چکے ہیں، اقوام عالم کے فیصلے کے برعکس یہودی یروشلم کو ریاست اسرائیل کا دارالحکومت قرار دے چکے ہیں۔ گریٹر اسرائیل کی تعمیر و تکمیل کے منصوبے پر کام جاری ہے۔ تھرڈ ٹیمپل کی تعمیر کی باتیں ہو رہی ہیں، ہیکل سلیمانی کی تیسری تعمیر کے ساتھ ہی عظیم اسرائیل کا قیام مکمل ہو گا۔ عربوں میں اتنی سکت ہی نہیں ہے کہ وہ اسرائیلی عزائم کی راہ میں مزاحم ہو سکیں۔

یہودی اسرائیل کے قیام کے بعد روز بروز گریٹر اسرائیل کے قیام کے لئے منظم کاوشیں کرتے رہے ہیں،قدم بقدم طے شدہ اہداف کے حصول کی طرف آگے بڑھتے رہے ہیں، مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کے ساتھ ان کا گٹھ جوڑ قائم ہے۔ کشمیر پر قبضہ کر کے ہندوستان نے پاکستان کو دیکھ لیا ہے۔ پھر بابری مسجد پر قبضے کے ذریعے 22کروڑ ہندی مسلمانوں کو بھی آزما لیا ہے۔ہندو کو پتہ چل گیا ہے کہ ان ”تلوں میں تیل نہیں ہے“۔ ایسے لگ رہا ہے کہ یہودیوں کے گریٹر اسرائیل کی طرف بڑھتے ہوئے قدم مسلمانوں کو ایک اور بڑے حادثے، بلکہ سانحے سے دوچار کر سکتے ہیں اور وہ ہے۔

مسجد اقصیٰ کا انہدام،کیونکہ یہودیوں کے مطابق مسجد اقصیٰ ہیکل کی بنیادوں پر تعمیر کی گئی ہے، اس لئے ہیکل کی تعمیر کے لئے مسجد گرانا ضروری ہے۔ جس طرح غیر حقیقی بنیادوں پر ہندوؤں نے بابری مسجد پر رام مندر تعمیر کرنے کا فیصلہ حاصل کر لیا ہے،یہودی بھی اسی طرح کا کوئی کھیل کھیل سکتے ہیں۔ عربوں و مسلمانوں کی حالت کو دیکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کچھ بھی ایسا ویسا ہو سکتا ہے اور ہم احتجاج کے سوا کچھ بھی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، شاید احتجاج بھی نہیں۔

ہم مسلمان بحیثیت ملت اپنا وجود کھو چکے ہیں۔ مسلم اُمہ کا تصور پارہ پارہ ہو کر کہیں گم ہو چکا ہے۔ ہم عرب و عجم، شیعہ سنی میں ہی نہیں،بلکہ کئی چھوٹے بڑے علاقائی، لسانی،قبائلی گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ تعداد تو مسلمانوں کی اربوں میں ہے، ان کے درجنوں آزاد ممالک بھی ہیں،جہاں مسلمانوں کی حکمرانی ہے۔ تیل، معدنیات، زرخیزی اور دیگر قدرتی انعامات کی دولت انہیں میسر ہے بحروبر کی قوت بھی انہیں میسر ہے، لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کی پرکاہ کے برابر وقعت نہیں ہے۔ دُنیا کے ہر کونے میں انہیں دبایا جا رہا ہے،مارا جا رہا ہے، قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے۔ مملکت شام کی مثال دیکھ لیں،2011ء سے خانہ جنگی جاری ہے،عربی، عجمی اور مغربی طاقتیں اس قصے میں براہ راست ملوث ہیں۔ عیسائی، عربی، عجمی ممالک کی افواج متحارب گروپوں میں تقسیم ہو کر تباہی و بربادی کا عظیم الشان جہنم دھکائے ہوئے ہیں۔

شام میں بشارالاسدکی حکومت کو گرانا اور قائم رکھنا متحارب گروپوں کا مقصد وحید بیان کیا جاتا رہا ہے۔ایران، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ساتھ لبنانی حزبِ اللہ بھی آگ و خون کے اس کھیل میں شامل ہیں۔دونوں طرف مرنے والے مسلمان ہیں۔ امریکی طیاروں کی بمباری ہو یا روسی افواج کی دست درازیاں، حزبِ اللہ کی غارت گری ہو یا داعش کی سفاکی، مرنے والے شیعہ ہوں یا سنی۔ بہرحال سب مسلمان ہیں۔دور حاضر کی تاریخ بتا رہی ہے کہ عالمی طاقتیں ایک بات پر متفق ہو چکی ہیں اور وہ ہے مسلمانوں کی بیخ کنی و ہلاکت اور تباہی و بربادی۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلام کو ایک تہذیبی اور سیاسی قوت کے طور پر کمزور کرنا۔ کچھ عرصہ پہلے تک یہ سب کچھ پوشیدہ اور دھیمے سروں میں ہو رہا تھا،اب وہی کام تین دہائیوں سے بلند آہنگ میں ہونا شروع ہو گیا ہے۔

90ء کی دہائی میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد عالمی نظام یک قطبی ہو گیا تھا۔امریکہ نے واحد عالمی طاقت کے طور پر اپنا سکہ چلانا شروع کر دیا تھا۔ تہذیبی جنگ کے تصور کے تحت اسلام کو ایک دشمن کے طور پر سامنے لایا گیا، پھر اس کے خلاف عالمی تہذیبی جنگ شروع کر دی گئی۔ مشرق وسطیٰ میں آپریشن ڈیزرٹ سٹارم اور ڈیزرٹ شیلڈ کے ذریعے امریکہ نے اپنی نئی فائر پاور کا مظاہر کر کے عربوں پر ہی نہیں،پوری دُنیا پر اپنی دھاک بٹھائی، پھر نائن الیون کے بعد اہل ِ حرم کے خلاف دہشت گردی کی عالمی جنگ شروع کر دی گئی۔ افغانستان کو پتھر کے زمانے تک پہنچانے کا عزم لئے امریکہ اور اس کے اتحادی یہاں حملہ آور ہوئے، پھر صدام حسین سے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی بازیابی کے لئے، عراق پر فوج کشی کر دی گئی۔

یہاں عراق میں جس انداز کی سفاکی کا مظاہرہ کیا گیا، اس کی مثال دورِ حاضر میں کہیں اور نہیں ملتی۔ سینکڑوں نہیں، ہزاروں نہیں،بلکہ لاکھوں انسانوں کو ہلاک کر دیا گیا، لاکھوں انسان بے گھر ہوئے۔ ایک عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس جنگ کے باعث 7.5 لاکھ عراقی عورتیں جسم فروشی پر مجبور ہوئی ہیں۔یہ ایک بہت بڑا انسانی المیہ بھی ہے۔ امریکہ نے عراق پر دوبارہ حملہ کر کے مشرق وسطیٰ کی جیو پولیٹیکل صورتِ حال ہی تبدیل کر دی ہے۔عربوں کے سر پر عراق میں شیعہ ریاست قائم کر کے خطے کی حرکیات ہی تبدیل کر دی ہے۔ گزری سات دہائیوں سے عرب، اسرائیل کو اپنے لئے ایک خطرہ سمجھتے تھے،اسے دشمن قرار دیتے تھے، اس کے ساتھ سفارتی اور غیر سفارتی تعلقات سے انکار کرتے تھے، لیکن عراق میں شیعہ ریاست کے قیام کے ساتھ اب اسرائیل شاید اتنا بڑا اور اہم دشمن نہیں رہا،جتنا ایران ہے۔

قطر خالصتاً عرب ملک ہے، لیکن ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات کے باعث دیگر عرب ممالک بالعموم، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بالخصوص اس کے دشمن ہو گئے ہیں، اس کی ناکہ بندی کر دی گئی،اس پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا۔ یمن ایک عرب ملک ہے، لیکن وہاں شیعہ سنی آویزش کے باعث عدم استحکام پیدا ہوا۔ سعودی عرب اور ایران کی مداخلت کے باعث وہاں کشت و خون کا بازار گرم ہوا۔

اسی آویزش میں مکہ پر بھی میزائل گرائے گئے۔عالم ِ اسلام کی ایک مقتدر ریاست ترکی بھی کردوں کے خلاف مورچہ زن ہو چکی ہے، ترک فوجوں کی گولیاں کسے ہلاک کریں گی؟ کردوں کو اور کرد کون ہیں؟مسلمان۔ہم 1ارب 80 کروڑ نفوس پر مشتمل مسلمان اُمہ ہیں، 62 سے زائد مسلم ریاستیں ہیں۔ کروڑوں افراد پر مشتمل افرادی قوت بھی موجود ہے، دُنیا کے اہم زمینی و بحری تجارتی راستے بھی مسلمانوں کی عمل داری میں ہیں۔ سب سے اہم حق اور سچ پر مبنی پیغام الٰہی کے بھی امین ہیں،اس کے باوجود ہم ذلت اور رسوائی کا شکار ہیں تو اس کی وجوہ ہمیں تلاش کرنا ہوں گی۔سنجیدگی کے ساتھ سوچ بچار کرنا ہو گی، ورنہ وہ وقت دور نہیں جب ہمارے قبلہ اول پر یہودی ایسے غالب آسکتے ہیں، جیسے کشمیر اور بابری مسجد پر ہندو قابض ہو چکے ہیں۔

مزید : رائے /کالم