بے رحم سیاست اور پلان بی

بے رحم سیاست اور پلان بی
بے رحم سیاست اور پلان بی

  



سابق وزیراعظم نواز شریف کو علاج کے لئے باہر بھجوانے کا معاملہ ان سطور کی اشاعت تک طے پا چکا ہو گا۔ ان کی روانگی اتوار کو متوقع تھی، مگر عین وقت پر ای سی ایل کے نام پر ایک ڈرامہ شروع کر دیا گیا۔ خاندانی ذرائع خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ نواز شریف کو دوران حراست زہردیا گیا۔ اب یہ بات بعض مستند صحافیوں کے حوالے سے بھی باہر آئی ہے۔ کہاجارہا ہے کہ یہ خطرہ محسوس کیا جارہا ہے کہ اگر خصوصاً اس سٹیج پر نواز شریف کو باہر جانے دیا گیا تو برطانیہ یا امریکہ کے ماہر یہ جانچ کر لیں گے کہ مریض کی صحت کے ساتھ کیا کھلواڑ کیا گیا؟ اوپن ہارٹ سرجری کے بعد مختلف پیچیدہ امراض میں مبتلا 70سالہ سابق وزیراعظم کو ذہنی اور جسمانی حوالے سے تنگ کرنے کا سلسلہ جیل سے ہی شروع کردیا گیاتھا۔ عام انتخابات 2018 ء سے قبل جب وہ تمام تر دھمکیوں اور ترغیبات کو نظر انداز کر کے پاکستان واپس آئے تو کچھ عناصر کو ان پر بے حد غصہ تھا۔ انہیں لاہور ایئرپورٹ سے سیدھا اسلام آباد،پھر اڈیالہ جیل پہنچایا گیا تو جیل کی بیرک میں پلنگ تو کجا چارپائی تک موجو د نہیں تھی۔

جب اعلیٰ حکام کی توجہ اس جانب مبذول کرائی گئی تو کہا گیا کہ کوئی بات نہیں،اگر کچھ ہوتا ہے تو ہو جانے دو، لیکن رکھو اسی حالت میں۔ کوٹ لکھپت جیل لاہور میں قید کے دوران بزرگ مریض کے لئے گھر کے پرہیزی کھانے کی بندش، ملاقاتوں کو محدود کرنا، بیٹی کو باپ کے سامنے پھر سے نئے مقدمے میں گرفتار کرنا، سب دباؤ بڑھانے کے ہی حربے تھے۔ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ سے قبل جب نواز شریف کو کوٹ لکھپت جیل سے بلاجواز نیب حوالات میں منتقل کیا گیا تو مختصر مدت میں ان کی حالت بے حد بگڑ گئی۔ پتہ چلا کہ ان کے پلیٹ لیٹس میں تشویشناک حد تک کمی آگئی ہے۔ وہ اس کے باوجود ہسپتال منتقل ہونے کے لئے تیار نہیں تھے۔ ملک کے طاقتور حلقوں کو جب اصل صورت حال کا علم ہوا تو اپنے طور پر مزید جانچ پڑتال بھی کرائی گئی۔ پھر کہیں یہ طے ہوا کہ اگر مریض جیل یا نیب حراست میں ہی دنیا چھوڑ گیا تو معاملات کچھ اور رنگ اختیار کر سکتے ہیں، پھر شہباز شریف اور ان کی والدہ کے ذریعے ضدی قیدی کو سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا۔ مریم نواز کو تیمارداری کے لئے لایا گیا تو اسی علی الصبح 5بجے پھر سے کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد مریض قیدی کو دباؤ ڈال کر ملک سے باہر جانے پر مجبور کرنا تھا۔

نواز شریف کی صحت کے حوالے سے جوہورہا ہے، وہ بنیادی طور پر مختلف طاقتورحلقوں کی جانب سے بلا اپنے سر سے ٹالنے کی کوشش ہے۔ این آر او یا ڈیل کا نام و نشان تک نہیں۔ نواز شریف تو اس نازک حالت میں اتنے زیادہ الرٹ ہیں کہ اپنی بیرون ملک مقیم دوسری صاحبزادی کو عیادت کے لئے پاکستان آنے سے منع کر دیا۔ نواز شریف یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان آنے پر ان کی دوسری بیٹی کو بھی گرفتار کر کے من مانی شرائط پر باہر جانے کے لئے دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس سارے معاملے میں ایک روپے کا بھی لین دین نہیں ہوا ہو گا۔ حکومت جہاں ایک طرف یہ چاہتی ہے کہ کسی طرح نواز شریف باہر چلے جائیں تاکہ کسی ناخوشگوار واقعہ کی صورت میں اس پر کوئی الزام نہ آسکے تو دوسری جانب اسے یہ خدشہ بھی ہے کہ وہ تندرست ہو کر واپس آگئے تو کیا ہو گا؟ پھر یہ کہ پی ٹی آئی کے حامی کہیں گے کہ جانے ہی کیوں دیا؟

اب حکومت اس حوالے سے فیس سیونگ تلاش کررہی ہے۔ کبھی کہا جارہا ہے کہ مریم کو بھی ساتھ لے جائیں اور تین سال تک نہ آئیں۔ جب کوئی صورت نظر نہیں آئی تو مخصوص اینکروں کو پلی بارگینگ کا پروپیگنڈا کرنے کے لئے چھوڑ دیا گیا۔کوئی کہہ رہا ہے 12ارب ڈالر لے لئے، کوئی کہہ رہا ہے 14ارب ڈالر آ گئے۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ نہ تو پھوٹی کوڑی ملی، نہ ہی ملے گی۔ قیدی تو اپنا مقدمہ لڑنے کے لئے تیار ہے۔ طاقتور حلقے،مگر صحت کی تیزی سے بگڑتی صورتِ حال پر خود کو ایک طرف کرنا چاہتے تھے۔ یہ بات یاد رکھی جانی چاہئے کہ اس تمام معاملے میں ڈیل، ڈھیل، این آر او تو کیا رحم کا بھی سرے سے کوئی عمل دخل نہیں۔ قوم اور اپوزیشن کو پچھلے کچھ سالوں سے جس مائنڈ سیٹ کا سامنا ہے، اس کی بہترین عکاسی وینا ملک کے ٹویٹ کرتے ہیں۔ کوئی مررہا ہو، اسے بھی گالیاں دو، یہ ایک گندی لڑائی ہے۔ لیگی تو کیا دوسری جماعتوں کے بھی کئی سیاسی کارکن نواز شریف کو پاکستان میں ہی دیکھنا چاہتے ہیں، خواہ وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ ظاہر ہے کہ لیڈر کا بھی گھر ہوتا ہے، بچے ہوتے ہیں، ان کو اگر اپنے والد کی جان بچانے کے لئے دنیا میں کہیں بھی جانے کا موقع ملے گا تو وہ کوشش ضرور کریں گے۔

نواز شریف کی حالت کے بارے میں سول و عسکری حکام نے اپنے اپنے طور پر خود سے جو رپورٹیں تیار کرائیں، اس سے خطرے کی گھنٹی بج اُٹھی تھی،پھر کہیں یہ طے ہوا کہ مریض کو باہر بھجوانے سے پہلے پروپیگنڈے کے ذریعے نشانہ بنایا جائے، سو اسی فیصلے پر عمل جاری ہے۔اسی دوران 9نومبر کو بالآخر کرتارپور راہداری کا افتتاح ہو گیا۔ اس سلسلے میں پورے دُھوم دھڑکے سے تقریب منعقد ہوئی۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے بدترین مظالم کا شکار کشمیریوں پر کیا بیت رہی ہو گی،اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ کرتارپور راہداری کھولنے کا آئیڈیا اور فیصلہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کیا۔ حیرت انگیز طور پر وہ افتتاحی تقریب میں شامل نہیں ہوئے۔ سدھو سمیت کئی سکھ رہنما اس حوالے سے پاکستانی حکام سے دریافت کرتے رہے۔ اسی دوران مولانا فضل الرحمن نے اسلام آباد میں دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال کے تناظر میں راہداری کھولنے کے فیصلے پر کڑی تنقید کی۔

جے یو آئی کے رہنماؤں نے اس راہداری کے ذریعے قادیانیوں کو مبینہ طور پر پہنچنے والے فوائد کے بارے میں بھی اپنی آراء کا اظہار کیا۔ ان دنوں سدھو کی بھارت میں قادیانیوں سے خطاب والی ویڈیو بھی وائرل ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ قادیانیوں کے وفود بھارتی وزیراعظم مودی سے بھی ملتے رہتے ہیں۔ ویسے تو ان کی رسائی وائٹ ہاؤس تک ہے۔ اس راہداری کھولنے کے فیصلے کو بھی سب سے پہلے اور سب سے زیادہ امریکہ نے ہی سراہا ہے۔ کرتارپور راہداری کھولنے کے حوالے سے تقریب بھارتی سائیڈ پر بھی ہوئی، جس میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے خطاب کیا۔

انہوں نے اس اقدام پر اپنے پاکستانی ہم منصب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیراعظم عمران خان کے اس اقدام کی تعریف کرتے ہیں۔ پچھلے کئی سالوں سے دنیا بھر کے کرکٹ کھیلنے والے ممالک میں صرف عمران خان کے نام سے معروف شخصیت کو نیازی کے لاحقے کے ساتھ پکارنا کچھ عجیب سا لگا۔اب یہ خبر بھی سامنے آچکی ہے کہ پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر کو بھول کر مکمل سفارتی تعلقات کی بحالی کے لئے مذاکرات کررہے ہیں۔ ایسے لگ بھی رہا ہے، مگر کوئی یہ نہیں بتارہا کہ یہ تعلقات برابری کی سطح پر ہوں گے اور ہم کشمیریوں کو کیا جواب دیں گے؟ اب سرکاری طور پر پروپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ کرتارپورکوریڈور کھلنے سے مسئلہ کشمیر کو بہت فائدہ ہو گا،کیا خاک فائدہ ہو گا؟…… یہ بات بالکل ویسے ہی ہے،جیسے 50لاکھ مکانات،ایک کروڑ نوکریاں، سمندر سے تیل کی دریافت، انڈوں اور مرغیوں سے معیشت کی بحالی وغیرہ،وغیرہ۔

کرتارپور راہداری کے افتتاح کے موقع پر سرحدیں کھولنے کی بات کر کے سارے پردے ہی اٹھا دئیے گئے۔ اس موقع پر سدھو نے بھی بہت بڑی گپ ماری اور کہا کہ 14کروڑ سکھ پاکستان کے سفیر بنیں گے۔ سکھوں کی پوری دنیا میں کل آبادی 2کروڑ 70لاکھ ہے۔ بھارت میں بھی صرف مشرقی پنجاب میں ان کی اکثریت ہے۔ ہریانہ اور ہماچل پردیش میں وہ اقلیت بن چکے۔ سکھوں نے ہمیں کیا فائدہ دینا ہے؟ بس اتنا ہے کہ ان کی من چاہی مراد پوری ہو گئی۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اب سکھ کمیونٹی بھارت سے بغاوت کر کے ہتھیار اٹھا لے گی، اسے ”دفاعی تجزیہ کار“ سمجھ کر نظر انداز کرنا ہی بہتر ہے۔آج ہماری حالت یہ ہے کہ عام آدمی مسائل اور مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے اہداف پر نظر ثانی سے متعلق ہماری درخواست مسترد کرکے نئی قسط جاری کر دی گئی۔

مطلب یہ کہ لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہونے والا ہے۔ ایسے میں جے یو آئی میدان عمل میں ہے۔ اب کسی بھی وقت پلان بی کا اعلان ہونے والا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے اسلام آباد میں تاریخ کا سب سے بڑا اور پُرامن اجتماع کر کے دینی جماعتوں کا عالمی سطح پر بہت مثبت تشخص اُجاگر کیا ہے۔ اب وہ یہ مطالبہ کرنے والے ہیں کہ فارن فنڈنگ کیس کو التوا میں ڈالے بغیر اس کا میرٹ پر فیصلہ کیا جائے، بصورت دیگر ملک کی تمام اہم شاہراہیں بند کر دی جائیں گی۔ اس حوالے سے تیاریاں مکمل کی جا چکی ہیں۔ ایک بار ایسا احتجاج شروع ہو گیا تو پھر آسانی سے ختم نہیں ہو گا۔ آزادی مارچ جے یو آئی پر دیگر اپوزیشن جماعتوں کے اعتماد کا سبب بنا ہے۔مختصر نوٹس پر ملک بھر سے لاکھوں کارکن اکٹھے کئے جا سکتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن یہی مطالبہ کریں گے کہ وہ ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی اور میرٹ پر انصاف چاہتے ہیں۔

پانچ سال سے زیر التوا فارن فنڈنگ کیس کو مزید لٹکانا قابل قبول نہیں۔ واضح رہے کہ اس پٹیشن میں عمران خان اور پی ٹی آئی کے دیگر عہدیداروں پر بھارت اور اسرائیل سمیت بیرون ملک سے ہنڈی اور دیگر مشکوک ذرائع سے فنڈز وصول کرنے، منی لانڈرنگ اور بدعنوانی کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی اس کیس سے بچنے کی سر توڑ کوششیں کررہی ہے۔ پامانہ کی طرح یہ کیس بھی بہت اہم ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ سی پیک کے تناظر میں پانامہ اور اقامہ کا معاملہ عالمی کھلاڑیوں کی دلچسپی کا مرکز تھا۔ نئے پاکستان کی انتظامیہ جو کچھ کر رہی ہے،عالمی اسٹیبلشمنٹ اس پر خوش ہے، لیکن یہ بات ہر کسی کو یاد رکھنی چاہئے کہ اگر مقامی کھلاڑی اپنے زور بازو اور صلاحیتوں کے ذریعے دباؤ ایک حد سے بڑھادیں تو عالمی اسٹیبلشمنٹ پیچھے ہٹنے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگائے گی۔

مزید : رائے /کالم