کیا مولانا کے دھرنے نے اپنے اہداف حاصل کر لئے ہیں؟

کیا مولانا کے دھرنے نے اپنے اہداف حاصل کر لئے ہیں؟
کیا مولانا کے دھرنے نے اپنے اہداف حاصل کر لئے ہیں؟

  



آج کل آزادی مارچ اور دھرنا ہمارے میڈیا کے محبوب و مرغوب موضوعات ہیں۔ تقریباً سارے نیوز چینلوں پر یہی موضوعات دن رات ڈسکس کئے جا رہے ہیں۔ اگلے روز یومِ ولادتِ رسولؐ پر جب بھی کوئی چینل آن کیا تو خبرنامے میں سب سے پہلی خبر مولانا کے دھرنے کی تھی۔ اسلام آباد میں اس روزِ سعید میں بین الاقوامی سیرت کانفرنس بھی تھی جس میں وزیراعظم کا خطاب بڑی اہمیت کا حامل تھا۔ لیکن ستم ملاحظہ کیجئے کہ عمران خان کے خطاب کی یہ خبر دوسرے نمبر پر نشر کی گئی جبکہ پہلے نمبر پر مولانا کے دھرنے کی خبر تھی۔ اس سیرت کانفرنس میں جو غیر ملکی مندوبین مدعو تھے ان کی تقاریر کا گویا بلیک آؤٹ کیا گیا۔

وہ لوگ کیا سوچتے ہوں گے کہ پاکستان کیسا اسلامی ملک ہے کہ عید میلاد بھی مناتا ہے تو میڈیا کے خبرنامے میں اولیت متنازعہ سیاست کو دیتا ہے۔

میڈیا پر بار بار کہا جا رہا ہے کہ مولانا نے اپنے اہداف حاصل کر لئے ہیں۔ ایسا کیوں کہا جا رہا ہے اور وہ اہداف کیا تھے جو مولانا نے حاصل کر لئے اس پر میڈیا کے ناظرین و سامعین حیران ہیں۔ لیکن ان کی حیرانی کی کسی کو کیا پرواہ؟…… میڈیا کے کمرشل مفادات پہلے اور باقی باتیں بعد میں ……مولانا کا سب سے پہلا مطالبہ یہ تھا کہ وزیراعظم مستعفی ہوں۔ انہوں نے اپنے اس مطالبے کا ڈھنڈورہ جسے زور و شور سے پیٹا اس سے کون واقف نہیں۔مولانا نے یہاں تک کہا کہ حکومتی مذاکراتی وفد بھی جب مجھ سے ملنے آئے تو اس کی جیب میں عمران خان کا استعفیٰ ہونا چاہیے۔ لیکن نہ تو حکومتی ٹیم کے اراکین نے ایسا کیا اور نہ چودھری برادران استعفیٰ ”درجیب“ مولانا کے حضور حاضر ہوئے۔ مولانا کے مطالبات میں نہ صرف وزیراعظم بلکہ پوری کابینہ کا استعفیٰ بھی شامل تھا۔ بندہ پوچھے اگر وزیراعظم گھر جاتا ہے تو کیا اس کی کابینہ فنکشنل رہے گی؟

ایک اور مطالبہ یہ تھا کہ ملک میں پھر سے انتخابات کروائے جائیں اور ان مطالبات کی تان اس پر جا کر توڑی کہ ان الیکشنوں میں فوج کو نہ بلایا جائے کہ کسی بھی ”مہذب ملک“ میں فوج کے زیر نگرانی الیکشن نہیں کروائے جاتے۔ مولانا سے پوچھا جا سکتا ہے کہ کس مہذب ملک میں بارہ چودہ ماہ کے بعد بلاوجہ نئے انتخابات کے مطالبے کے لئے آزادی مارچ کیا جاتا اور دھرنا دیا جاتا ہے؟ اور جب مولانا نے غضب آلود نگاہوں سے کنٹینر پر کھڑے ہو کر یہ مطالبہ کیا کہ ”میں دو دن دیتا ہوں۔ یا تو مطالبات منظور کئے جائیں یا میرے احتجاجی مظاہرین کا سیلاب اسلام آباد میں وزیراعظم کے گھر میں گھس کر ان کو گرفتار کرلے گا“…… تو بس اس کے بعد تو اللہ اللہ خیر سلّاکے سوا اور کیا رہ جاتا ہے۔ مولانا نے بار بار جب یہ بھی کہا کہ فوج کو آئندہ الیکشنوں سے دور رکھا جائے تو فوج کو اس کا جواب دینا پڑا۔ یہ جواب نہایت نپا تلا تھا۔جس میں کہا گیا کہ فوج خود کبھی نہیں آتی، بلائی جاتی ہے۔ ازخود انتخابات کی نگرانی نہیں کرتی بلکہ حکومتِ وقت ہدایات جاری کرتی ہے اور آئین میں اس کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ فوج کو سویلین لیڈرشپ کا حکم تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ ہاں اگر پارلیمنٹ آئین میں ترمیم کر دے اور کہے کہ حالات خواہ کتنے بھی نامساعد ہوں، فوج کو نہیں بلایا جائے گاتو مسئلہ ہی ختم ہو جائے گا۔

لیکن جب حکومتِ وقت الیکشنوں کی نگرانی کے لئے آئین کے مطابق فوج کو طلب کرتی ہے اور نتائج حکومتِ وقت کے خلاف نکلتے میں تو شور مچا دیا جاتا ہے کہ فوج نے گھر گھر جا کر عوام کی کنپٹی پر بندوق رکھ کر کہا تھا کہ حکومت کے خلاف ووٹ دو۔ اور پھر جب انتخابات کے نتائج کے مطابق وزیراعظم کا انتخاب کر لیا جاتا ہے تو اس کو Selected وزیراعظم کہا جاتا ہے۔ ساتھ ہی یہ گردان بھی شروع کر دی جاتی ہے کہ ”جو لوگ“ اس وزیراعظم کو لے کر آئے ہیں وہی مہنگائی وغیرہ کے ذمہ دار ہیں۔ فوج یہ طعنہ زنی برداشت کرتی رہتی ہے اور کبھی اشتعال میں نہیں آتی۔ جب فوج منتخب وزیراعظم کے احکامات پر عمل کرتی ہے تو شکست خوردہ عناصر ”ان لوگوں“ کو مطعون کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ مولانا نے دو دن کا جو الٹی میٹم دیا تھا اس پر جب فوج کا ردعمل آیا تو مولانائی غبارے سے ساری پھوک نکل گئی۔ لیکن میڈیا تھا کہ پھر بھی مولانا کے ساتھ رہا۔ دوسری طرف نیب نے بھی صرف معاشرے کے سیاسی طبقے پر ہاتھ ڈال کر اپنا امیج خود یک طرفہ بنا لیا ہے۔ ریٹائرڈ جرنیلوں، ججوں اور میڈیا مالکان کو کبھی نہیں ”چھیڑا“!

مولانا کے دھرنے کو آج جتنے روز بھی ہو گئے ہیں ان کی سنگینی میں ہر نئے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ نئے نئے شگوفے پھوٹتے رہیں گے اور نئی نئی خبریں منظر عام پر آتی رہیں گی۔ مثلاً آج میڈیا میں یہ خبر گرم ہے کہ نون لیگ نے اپنے سابق بیمار وزیراعظم کو لندن بھجوا کر دھرنے کے مقصد کو کیش کروا لیا ہے۔ اب سارا ملک اسی بخار میں مبتلا ہے۔ عمران خان کو ایک اور یوٹرن لینے کا طعنہ دیا جا رہا ہے حالانکہ نوازشریف صاحب کا بغرض علاج لندن جانا ایک میڈیکل ضرورت ہے۔ ان کی جان خطرے میں ہے۔ یکے بعد دیگرے جتنے بھی میڈیکل بورڈ بیٹھے ہیں ان کی فائنل رپورٹ یہی ہے کہ نوازشریف صاحب کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں۔ ان کے مرض کو ایک مشکل اور عجیب و غریب نیا نام دیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اس مرض کے ٹیسٹ اور اس کے علاج کا کوئی بندوبست پاکستان میں نہیں۔ چنانچہ حکومت نے انسانی ہمدردی کی بنیاد اور طبی وجوہ پر ان کو بغرضِ علاج لندن بھجوانے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ اب خدا جانے اس میں کیا مصلحت ہے کہ ان کی لندن پرواز کی راہ میں روڑے اٹکائے جا رہے ہیں۔ کبھی نیب کو بیچ میں لایا جا رہا ہے اور کبھی وزارتِ قانون کو۔ کبھی کہا جا رہا ہے کہ نوازشریف اور ان کی فیملی کے دیگر ممبران ایک ڈیل کے ذریعے باہر بھیجے جا رہے ہیں۔

کبھی میڈیا پر عمران خان کے وہ بیانات آن ائر کئے جا رہے ہیں کہ میں مر جاؤں گا مگر کوئی NRO نہیں دوں گا۔ ناظرین اور سامعین کو کنفیوز کیا جا رہا اور باور کروایا جا رہا ہے کہ نوازشریف کا لندن جانا ایک طرح کا NROہے۔ سوشل میڈیا پر بھی طرح طرح کی خبریں وائرل کی جا رہی ہیں۔ اس صورتِ حال پر انڈین میڈیا کے جو تبصرے آ رہے ہیں وہ بھی سوشل میڈیاپر آن ائر کئے جا رہے ہیں۔ ایک اوسط فہم کا پاکستانی شہری ان پاکستان مخالف سٹرٹیجک مقاصد کا ادراک نہیں رکھتا جو بھارت اپنے میڈیا کے ذریعے دنیا کو دکھا اور بتا رہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ میڈیا ایک سیّال صورتِ حال کا خالق ہوتا ہے۔ اس کو دیکھ اور سن کر کوئی بھی صاحبِ ہوش کسی دوٹوک فیصلے پر نہیں پہنچ سکتا۔ میڈیا بزعمِ خویش ہر موضوع (اور ہر خبر) کے سارے پہلوؤں کو دکھانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اس کوشش کا نتیجہ ہمیشہ متزلزل اور ڈانواں ڈول رہتا ہے۔ ذرا اسی بات ہی کو دیکھ لیجئے کہ میاں صاحب کی بیماری کو کیش کروانا کہا جا رہا ہے…… عمران خان کی انسانی ہمدردی کو یوٹرن لینے کا طعنہ دیا جا رہا ہے…… نواز شریف صاحب کے لندن جانے اور وہاں جا کر علاج کروانے کے پراسس کو عجیب و غریب معانی پہنائے جا رہے ہیں …… ان کی شدید بیماری کو ”ایکٹنگ“ تک کا نام دیا جا رہا ہے…… کابینہ کے فیصلے کو سیاست زدگی کا شکار کہا جا رہا ہے…… اور یہ نہیں دیکھا جا رہا کہ ایک شدید بیمار شخص کی زندگی کو کیا خطرات لاحق ہیں۔

ہم نے بات اس سوال سے شروع کی تھی کہ کیا مولانا کے دھرنے نے اپنے اہداف حاصل کر لئے ہیں؟ ہمارے خیال میں ان کا کوئی ایک ہدف بھی حاصل نہیں ہو سکا۔ عمران خان کی کرسی سلامت ہے، کابینہ ویسے کی ویسی قائم دائم ہے، فوج اندرونی امن و امان کے لئے بھی چوکس ہے اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لئے بھی تیار ہے، میاں صاحب کو لندن بھجوانے میں دھرنے کا کوئی امدادی رول نہیں اور کشمیر کاز کو بھی اس دھرنے نے کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔ مسئلہ کشمیر تو 72سال سے جوں کا توں ہے۔ کسی مولانا کا کوئی دھرنا اس بین الاقوامی مسئلے کو بیک برنر پر نہیں ڈال سکتا۔ میڈیا کا یہ استدلال کہ مولانا کے آزادی مارچ اور دھرنے نے دنیا کی توجہ مسئلہ کشمیر سے ہٹا دی ہے، بالکل غلط ہے۔ دھرنا تو زیادہ سے زیادہ ایک محدود اور مقامی سیاسی سرگرمی ہے جبکہ مسئلہ کشمیر ایک بین الاقوامی اور دائمی مسئلہ ہے۔

اس دھرنے کی چند بڑھکیں جن کا حاصل حصول کچھ بھی نہ ہو، عالمی توجہ اپنی طرف نہیں کھینچ سکتیں۔ چند ہزار لوگوں کو ایک مخصوص علاقے اور مخصوص ماحول سے لا کر اسلام آباد میں بٹھا کر خوار کرنا مولانا کی کامیابی نہیں ناکامی کا ایک اور ثبوت ہے۔ وہ اپنے حلقہ ء نیابت سے پہلے بھی ہارے تھے اور اب بھی جب اگلے الیکشن ہوں گے لوگوں کو معلوم ہو گا کہ مولانا نے ان مخصوص ماحول کے پروردہ چند ہزار لوگوں کو اکٹھا کرکے ان کو بے رحم موسم کے شوائد کے حوالے کر دیا تھا۔ اس کا کچھ فائدہ نہ ان لوگوں کو ہوا جو یہاں لائے گئے اور نہ کوئی نقصان ان اداروں کا ہوا جن کے خلاف یہ ”لشکر کشی“ کی گئی۔ آنے والے ایام میں یہ دھرنا اور آزادی مارچ تاریخ کے اوراق میں ایک شعلہ ء مستعجل کے حوالے سے بھی یاد نہیں رکھا جائے گا چہ جائیکہ اس کا کوئی دوامی یا تفصیلی تذکرہ کیا جائے گا۔

جس نہج پر آج حالات کا دھارا بہہ رہا ہے اس سے کسی بڑے سیلاب کی کوئی توقع نہیں کی جا سکتی۔ ہمارے خیال میں میاں نوازشریف لندن چلے جائیں گے، ان کا علاج بھی وہاں ٹھیک ٹھاک ہو گا اور وہاں وہ اپنے پیاروں کے جھرمٹ میں رہ کر مکمل صحت یاب ہو جائیں گے، دھرنے کی بساط آج نہیں تو کل بکھر جائے گی، نئے انتخابات انشاء اللہ وقت پر (2023ء میں) ہی ہوں گے، پاکستان کے مشکل اقتصادی حالات کچھ سنبھلنا شروع ہو گئے ہیں اور باقی جو ہیں وہ بھی سنبھل جائیں گے، قوموں پر مشکل وقت آتا ہے اور گزر جاتا ہے، نون لیگ اور پی پی پی نے اگر زندہ رہنا ہے تو اپنے منشور میں انقلابی تبدیلی لانا ہو گی، ماضی میں کی گئی غلطیوں سے سبق سیکھنا ہو گا اور اپنی نوخیز قیادت کو سنجیدگی سے ٹرین کرنا ہو گا اور اسے اپنے ماضی کے علی الرغم ایک تازہ فلسفہء سیاست دینا ہو گا جو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔ سیاستدانوں نے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال کر بہت دیکھ لیا اب ایک دوسرے پر ہم آہنگی اور پاکستان دوستی کے پھول اچھال کر بھی دیکھ لیں۔

مزید : رائے /کالم