موجودہ حالات میں ملک کسی سیلسی ایڈونچر کا متحمل نہیں ہو سکتا، ملک شاہ محمد خان

موجودہ حالات میں ملک کسی سیلسی ایڈونچر کا متحمل نہیں ہو سکتا، ملک شاہ محمد ...

  



بنوں (بیورورپورٹ)پاکستان تحریک انصاف کے ممبر صوبائی اسمبلی وقبائلی سردار ملک شاہ محمد خان نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان کسی سیاسی انڈونچر کا متحمل نہیں ہوسکتا یہ وقت قومی یکجہتی کا ہے کیونکہ اسلام مخالف اور پاکستان مخالفت قوتیں پاکستان کو کمزور کرنے کیلئے سازشوں میں مصروف ہیں اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیر اعظم عمران خان کی دلیرانہ تقریر کے بعد مسئلہ کشمیر سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان کے اندرونی حالات خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جے یو آئی کے دھرنے سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچ رہا ہے مولانا فضل الرحمن بے وقت کی راگنی الاپ رہے ہیں ان کا دھرنا اسلام اور پاکستان کیلئے نہیں بلکہ اسلام آباد کیلئے اقتدار سے محرومی کے بعد مولانا فضل الرحمن ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہے ہیں لیکن ان کے غبارے سے ہوا نکلنے والی ہے وزیر اعظم عمران خان کا استعفیٰ تو کیا ویر اعظم ہاؤس کا استعمال شدہ ٹشو پیپر بھی انہیں نہیں ملے گا ان خیالات کا اظہار انہوں نے اخباری نمائندوں سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ مولانا فضل الرحمن ڈکٹیٹر کی قیادت میں ہونے والے انتخابات تسلیم کرتے ہیں ماضی میں تاریخ کے بدترین دھاندلی زدہ انتخابات کو اسلئے تسلیم کرتے ہیں کہ انہیں بھی ہر حکومت میں اقتدار میں حصہ ملتا ہے لیکن وزیر اعظم عمران خان نے پہلے ہی مولانا کو چیلنج کیا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت مولانا کے بغیر چلنے والی پہلی حکومت ہوگی اور آج کپتان کی وہ بات سچ ثابت ہوگئی مولانا فضل الرحمن کو اپنے ہوم گراؤنڈ پر عوام نے مسترد کردیا ہے اسلئے ہم انکی بے چینی کو سمجھتے ہیں لیکن انہیں نئے انتخابات کیلئے مذید چار سال انتظار کرنا پڑیگا انہوں نے کہا کہ دھرنا سو سال بھی جاری رہے عمران خان استعفیٰ نہیں دیں گے انہوں نے مذید کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کو نواز شرف،آصف علی زرداری اور کسی بھی سیاستدان سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں سب اپنے اعمال کی وجہ سے جیلوں میں بند ہیں اگر یہ لوگ قوم کے پیسے واپس کرتے ہیں تو عمران خان ان کے ساتھ کوئی انتقامی کاروائی نہیں کریں گے لیکن این آر او کسی کو بھی نہیں دیں گے انہوں نے کہا کہ اگر کسی نے حکومت کی شرافت کو کمزوری سمجھا اور غیر آئینی اور غیر قانونی قدم اٹھایا تو حکومت خاموش تماشائی نہیں بنے گی اور قانون ہاتھ میں لینے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹے گی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر