لالہ صحرائی کی تصانیف اپنی مثا ل آپ ہیں، مجیب الرحمن شامی

  لالہ صحرائی کی تصانیف اپنی مثا ل آپ ہیں، مجیب الرحمن شامی

  



ملتان (پ ر) ممتاز دانشور،ادیب اور نعت گو لالہ صحرائی کی کتابوں ”نور منارہ“ اور ”منزل سے قریب“ کی تقریب رونمائی پنجاب یونیورسٹی کے ادارہ تعلیم و تحقیق میں منعقد ہوئی۔ وحید شہید(بقیہ نمبر32صفحہ12پر)

ہال میں منعقد ہونے والی تقریب کی صدارت ڈائریکٹر ادارہ تعلیم و تحقیق پروفیسر ڈاکٹر رفاقت علی اکبر نے کی۔ تقریب سے ممتاز صحافی مجیب الرحمن شامی، ممتاز سکالر ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی، ادیبہ ڈاکٹر ناہید قاسمی، محقق ڈاکٹر زاہرہ نثار اور لالہ صحرائی فاؤنڈیشن کے منتظم ڈاکٹر جاوید احمد صادق نے خطاب کیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی ڈاکٹرنوید احمد صادق تھے جبکہ نظامت محمد انور گوندل نے کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے لالہ صحرائی کی نثر اور نعت گوئی کی تحریر کا بنظرعمیق جائزہ لیا۔ ممتاز معلم، ادیب اور دانشور ڈاکٹررفیع الدین ہاشمی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لالہ صحرائی کی نثر نگاری، شستگی اور شگفتگی کا حسین امتزاج ہے۔ ان کا ہر ادب پارہ صاحب ذوق قاری کو اپنی ذہنی گرفت میں لے لیتا ہے اور پھر وہ دنیا و مافیہا سے لاتعلق ہو کر محومطالعہ ہو جاتا ہے۔ ممتازشاعرہ اور ادیبہ ڈاکٹر ناہید قاسمی نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ نئی نسل گوکہ لالہ صحرائی کے ادبی کارناموں سے کماحقہ آگاہ نہیں لیکن اس کے باوجود ادب کی تاریخ میں لالہ صحرائی کی تخلیقات بلند مقام رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لالہ صحرائی نے دائیں اور بائیں بازو کی چپقلش سے بے نیاز ہو کر مقصدیت کے تحت اپنا ادبی سفر جاری رکھا۔ احمد ندیم قاسمی ہمیشہ لالہ صحرائی کا نام اپنے دوستوں اور قریبی رفقاء میں شمار کرتے رہے۔ ممتاز محقق ڈاکٹرزاہرہ نثار نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”منزل سے قریب“ عالمی کلاسیکی ادب کے شاہکار تراجم شامل ہیں۔ ان نگارشات کو ادبی شگفتگی کے ساتھ اردو کے قالب میں ڈھالا گیا اور ترجمہ بھی ایک تخلیقی فن پارہ بن گیا۔ یہ ان کی ادبی صلاحیت کی معراج کا ثبوت ہے۔ ممتاز صحافی اور دانشور مجیب الرحمن شامی نے لالہ صحرائی کے بارے میں تاثرات کا اظہار منفرد ادبی صنف ”چہرہ“ پیش کر کے کیا۔ مجیب الرحمن شامی نے بتایا کہ لالہ صحرائی کی تصانیت ”نور منارہ“ اور ”منزل سے قریب“ اپنی مثال آپ ہیں۔ لالہ صحرائی نے جہانیاں جیسے دوردراز شہر میں بیٹھ اپنی ادبی صلاحیتوں کو منوایا۔ لالہ صحرائی کی تصانیف کی اشاعت قابل قدر اقدام ہے۔ ڈائریکٹر آئی ای آر پروفیسر ڈاکٹر علی اکبر نے خطبہ صدارت پیش کرتے ہوئے کہا کہ لالہ صحرائی کی ہر تصیف بے مثال ادبی شہ پارہ ہے۔ ان کی ہر تصنیف میں ادبیت اور مقصدیت کاخوبصورت امتزاج ہے۔ لالہ صحرائی نے نہ صرف بامقصد نثر نگاری کی بلکہ حب رسول? کی شدید خواہش سے مغلوب ہو کر نعت گوئی میں اپنا کمال دکھایا۔تقریب کے آخر میں لالہ صحرائی فاؤنڈیشن کے منتظم ڈاکٹر جاوید احمد صادق نے محققین اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔

مزید : ملتان صفحہ آخر