کوٹ مبارک: مبینہ مقابلے میں ڈاکوؤں کی ہلاکت پرورثاء کااحتجاج

کوٹ مبارک: مبینہ مقابلے میں ڈاکوؤں کی ہلاکت پرورثاء کااحتجاج

  



ڈیرہ غازی خان (سٹی رپورٹر)تھانہ کوٹ مبارک کے علاقہ میں ہونے والے پولیس مقابلہ کو ورثاء نے جعلی قرار دے دیا سینکڑوں افراد نے گناہی کی گواہی دی ڈی پی او نے انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کرادی ایڈیشنل آئی جی پنجاب بھی انکوائری کے لئے علاقہ میں پہنچ گئے اس سلسلہ میں مزید تفصیلات کے مطابق 12ربیع الاول کے روز تھانہ کوٹ مبارک کے علاقہ بستی روبا موضع جیانی کے نزدیک پولیس کے مطابق لادی گینگ کے آٹھ سے زائد مسلح ملزمان نے پولیس پارٹی پر حملہ کر دیا تھا جس کے نتیجہ میں ایک ایلیٹ فورس (بقیہ نمبر44صفحہ12پر)

جوان محمد سلیمان شہید جبکہ کانسٹیبل عمران زخمی ہو ئے تھے پولیس کی جوابی کاروائی اور مبینہ ڈاکوؤں کی فائرنگ کے دوران پولیس نے دو ڈاکوؤں حیدر اور عبد اللہ کے مارے جا نے کا دعوی کیا جس کے خلاف گزشتہ روز دونوں مارے جانے والے مقامی افراد کے ورثاء اور درجنوں علاقہ مکینوں نے پولیس کے خلاف شدید احتجاج کر تے ہو ئے دونوں مارے جانے والے مقامی افراد کے ورثاء اور درجنوں علاقہ مکینوں نے پولیس کے خلاف شدید احتجاج کر تے ہو ئے دونوں نوجوانوں کو بے گناہی کی گواہی دی ڈی پی او ڈیر ہ غازی خان اسد سرفراز خان اور ایڈیشنل آئی جی پنجاب اطہر کھوکھر کے ہمراہ علاقہ میں پہنچے اور علاقہ مکینوں کے بیانات قلمبند کئے ڈی پی او اور ایڈیشنل آئی جی کی موجود گی میں درجنوں علاقہ مکینوں نے سخت احتجاج کیا اور علاقہ پولیس کے خلاف نعرے بازی کی اور پولیس حکام کو بتایا کہ دونوں نوجوانوں کو پولیس نے پہلے یہ کہہ کر روکا کہ آگے مت جاؤ فائرنگ ہو رہی ہے نوجوانوں کے پکڑے جانے پر ہم نے جا کر کہا کہ آپ نے انہیں ویسے روکا تھا اب پکڑا کیوں ہے جس پر موقع پر موجود افسران نے کہا کہ بڑے افسران آرہے ہیں وہ چیک کر کے چھوڑ دیں گے بعد میں ہمیں رات کو پتہ چلا کہ دونوں کو مقابلہ میں بتا کر مار دیا گیا ہے علاقہ مکینوں نے کہا کہ یہ ظلم ہے وزیر اعلیٰ پنجاب،وزیر اعظم اور چیف جسٹس اس کا نوٹس لیں اور واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کرائی جا ئے اس موقع پر ڈی پی او اسد سرفراز خان نے علاقہ مکینوں کو انصاف اور دادرسی کر نے کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ کسی کو زیادتی اور ظلم نہیں کر نے دوں گا اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کرائی جا ئے گی اور اگر پولیس کی طرف سے زیادتی ثابت ہوئی تو ملوث ملازمان کے خلاف سخت کاروائی کی جا ئے گی۔ 

ورثاء کا احتجاج

مزید : ملتان صفحہ آخر