ضلع کرم میں مزید سوکلومیٹر سٹرکیں تعمیر کر ینگے، ساجد طوری

  ضلع کرم میں مزید سوکلومیٹر سٹرکیں تعمیر کر ینگے، ساجد طوری

  



پاراچنار(نمائندہ پاکستان)ضلع کرم سے رکن قومی اسمبلی اور چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے انڈسٹریز اینڈ پروڈکشن ساجد طوری نے کہا ہے کہ ضلع کرم میں مزید سو کلو میٹر سڑکیں بنائی جائیں گی اور علاقے کی ترقی کیلئے صحت تعلیم اور دیگر شعبوں میں ترقیاتی کام جاری ہیں جبکہ پاک فوج بھی میرٹ کی بنیاد پر علاقے میں ترقیاتی کام کررہی ہے پاراچنار میں اپنی رہائش گاہ پر قبائلی عمائدین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی پی پی کے رکن قومی اسمبلی اور قائمہ کمیٹی برائے انڈسٹریز اینڈ پروڈکشن کے چیئرمین ساجد طوری نے کہا کہ خرلاچی، مالی کلے، کراخیلہ، تری منگل روڈ سمیت مختلف علاقوں میں مجموعی طور پر اس سال سو کلو میٹر سڑکیں بنائی جائے گی ساجد طوری کا کہنا تھا کہ صحت کے حوالے سے دیگر سہولیات دینے کے ساتھ پاراچنار ہسپتال کی نہ صرف اپ گریڈیشن کی جارہی ہے بلکہ میڈیکل کالج بھی قائم کیا جارہا ہے ساجد طوری کا کہنا تھا کہ مسلسل تیسری بار وہ اپنے حلقہ سے منتخب ہورہا ہے اور اس دوران انہوں نے حلقے میں ریکارڈ ترقیاتی کام کئے ہیں اور وہ بلا تفریق تمام علاقوں کو یکساں ترقیاتی سکیمز دے رہے ہیں اور عوام کے مسائل حل کررہے ہیں ساجد طوری نے بتایا کہ سیاحت کو فروغ دینے کے لئے سیاحتی مقامات میں سہولیات دئیے جارہے ہیں اور ڈگری کالج نمبر 2، پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ نمبر 2 کے قیام کے بعد آئی ٹی یونیورسٹی پر کام شروع کیا جارہا ہے ساجد طوری نے کہا کہ پاراچنار میں طلبہ کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے کے لئے اسرار شہید ہائی سکول اور گرلز ہائی سکول نمبر 1 کو ہائیر سیکنڈری کا درجہ دیا جارہاہے اور اگلے مرحلے میں عمران شہید ہائی سکول کو ہائیر سکینڈری کا درجہ دیا جائے گا ساجد طوری نے کہا کہ بعض لوگ ان کے ترقیاتی کاموں کو اپنے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں جو کہ سراسر ناانصافی اور ان کی حق تلفی ہے تاہم جو لوگ علاقے کی ترقی کیلئے کوئی قدم اُٹھاتا ہے انہیں خوش آمدید کہتے ہیں اور ان کا بھر پور تعاون حاصل ہوگا قبائلی اضلاع میں پاک فوج کی جانب سے جاری ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے ایم این اے ساجد طوری نے کہا کہ پاک فوج کی ترقیاتی کاموں کی وجہ سے عوامی مسائل تیزی سے حل ہورہے ہیں اور پاک فوج میرٹ کی بنیاد پر ترقیاتی کام کررہی ہے اور عوامی مسائل حل کررہی ہے

مزید : پشاورصفحہ آخر