نمونیا سے آگاہی کاعالمی،سیمینار‘ واک، تقریبات کاانعقاد

نمونیا سے آگاہی کاعالمی،سیمینار‘ واک، تقریبات کاانعقاد

  



ڈیر ہ غازی خان، کبیروالا (نمائندہ خصوصی +سٹی رپورٹر، نمائندہ پاکستان، تحصیل رپورٹر)پنجاب میں ہر سال 40 ہزار بچے نمونیا کی وجہ سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔پانچ سال تک کے بچوں کی خوفناک شرح اموات کم کرنے کے لئے بروقت تشخیص اور علاج کے ساتھ آگاہی مہم ضروری ہے۔(بقیہ نمبر15صفحہ12پر)

ماہرین طب نے ان خیالات کا اظہار ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی ڈیرہ غازی خان کے زیر اہتمام نرسنگ سکول میں عالمی یوم نمونیا کے موقع پر آگاہی سیمینار اور واک کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا. مہمان خصوصی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس و پلاننگ عبدالغفار نے کہا کہ حکومت پنجاب نمونیا سے بچاؤ کیلئے انقلابی اقدامات کررہی ہے۔نمونیا سمیت دس بیماریوں کو ای پی آئی پروگرام میں شامل کیا گیا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین مفت ویکسی نیشن کی حکومتی سہولیات سے فائدہ اٹھائیں اور ملک کا مستقبل صحت مند بنائیں۔سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر خلیل احمد نے کہا کہ بچوں میں بخار کے ساتھ تیز سانس چلنے پر ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے۔نمونیا کا فوری علاج کرانا ضروری ہے۔ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر آئی آر ایم این سی ایچ ڈاکٹر زوہیب حسن،ڈی ایچ او ڈاکٹر اطہر سکھانی،ڈویژنل کوآرڈینیٹر عالمی ادارہ صحت ڈاکٹر عمار شاہ،یونیسیف کے کلیم اللہ طاہر،ڈی ڈی ایچ او ڈاکٹر کامران اصغر،ماہر امراض اطفال ڈاکٹر عرفان کریم اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 40 سے زائد بیماریوں کا ویکسی نیشن کے ذریعے علاج ممکن ہے اور 2015 میں نمونیا کی ویکسی نیشن ای پی آئی پروگرام میں شامل کی گئی۔ماہرین طب نے کہا کہ بچوں کو سردی سے بچا کر گرم رکھا جائے۔بچوں کو پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ پلایا جائے۔بچوں کو حفاظتی ٹیکے بروقت لگائے جائیں۔ ہیلتھ ورکرز گھروں میں جاکر آگاہی دیں۔اس موقع پر زبیر مصطفے،لعل خان،عطاء اللہ،نوشین زہرا سمیت سکول ہیلتھ نیوٹریشن سپروائزرز،ایل ایچ ایس اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کے علاوہ نرسنگ سکول کی اساتذہ،طالبات اور دیگر موجود تھے۔جبکہتحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کبیروالا میں نمونیا سے بچاؤ کے حوالے سے ”عالمی یوم نمونیا“ کے موقع پرسیمینار اور واک کا اہتمام کیا گیا۔تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کبیروالا کی ایم ایس ڈاکٹر عمارہ علی بھٹی کی زیر صدارت میں ہونیوالے سیمینار اور زیر قیادت ہونیوالی واک میں ڈاکٹر میثم رضا خان بھٹہ،ڈاکٹر عدیل جبار،ڈاکٹر شفقت خان ترین نے نمونیا سے بچاؤ کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہنمونیا کے باعث ہر سال دنیا بھر میں 10 لاکھ بچے فوت ہو جاتے ہیں۔ کم سن بچوں کو لگنے والی یہ واحد بیماری ہے جس سے عالمی سطح پر سب سے زیادہ اموات واقع ہوتی ہیں،نمونیا کے مرض میں مبتلا مریضوں میں ان بچوں کی اکثریت ہوتی ہے،جو ماں کے دودھ اور صفائی سے محروم ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نمونیا سے ہونیوالی اموات کو معمولی لیکن موثر قسم کی طبی سہولیات سے کم کیا جاسکتا ہے،جس کیلئے ماؤں کو اپنے بچوں کی صحت وصفائی پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کبیروالا کی ایم ایس ڈاکٹر عمارہ علی بھٹی نے بتایا کہ امسال نمونیا سے بچاؤ کا عالمی دن ”نمونیا سے کم عمری کی اموات اور بچاؤ کی تدابیر“ کے عنوان سے منایا جارہا ہے، جس کے منانے کا مقصد دنیا بھر میں نمونیا کے مرض سے آگاہی، بچوں میں اس مرض سے اموات کو روکنے اور اس سے بچاؤ کا شعور اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نمونیے سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیرعمل کیا جائے،جن میں کھانے سے پہلے اور عام طور ہاتھ دھونا، چھینکتے ہوئے منہ کو ڈھانپنا، دھویں اور مٹی سے ممکنہ حد تک بچنا اورباقاعدہ علاج سے بچاؤ ممکن ہے۔انہوں نے بتایا کہ ٹی ایچ کیو ہسپتال کبیروالا میں نمونیا سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکہ جات اور موثر علاج کی سہولیات موجود ہیں۔

واک

مزید : ملتان صفحہ آخر