خاتون سمیت2افراد قتل، حادثات میں 2جاں بحق،9زخمی

خاتون سمیت2افراد قتل، حادثات میں 2جاں بحق،9زخمی

  



ملتان، رحیم یارخان، چشتیاں (وقائع نگار، نمائندہ پاکستان)خاتون سمیت 2افراد کو قتل کردیاگیا، حادثات میں 2جاں بحق اور9زخمی ہوگئے جبکہ2افراد نے خود کشی کرلی تفصیل(بقیہ نمبر20صفحہ12پر)

 کے مطابق مل صادق آباد کے سامنے  موٹر سائیکل رکشے کا ٹریکٹر ٹرالی کے ساتھ تصادم۔جس کے نتیجے میں بچوں سمیت نو افراد زخمی ہوگئے ہیں۔معلوم ہوا ہے مل صادق آباد کے قریب ٹریکٹر ٹرالی اور سواریوں سے بھرے رکشے کے درمیان تیز رفتاری کی وجہ سے تصادم ہوگیا۔جس کے نتیجے  میں پروین۔ناصر۔سعید۔رابعہ۔عمرانہ۔نازیہ۔حسنین اور ارجو شدید زخمی ہوگئے۔اطلاع ملنے پر ریسکیو کی امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد دی۔ اور فوری طور پر زخمیوں کو نشتر ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔جہاں انکی حالات تشویش ناک بتائی جارہی ہے جبکہ مقامی پولیس نے موقع پر پہنچ کر قانونی کاروائی شروع کردی ہے۔جبکہکاروبار میں نقصان ہونے پر تاجر نے پنکھے سے لٹک کر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔پولیس نے قانونی کاروائی کے بعد لاش ورثا کے حوالے کردی بتایا جاتا ہے کہ بیرون دہلی گیٹ کا رہائشی 29 سالہ حافظ محمد منیر ولد عزیز الرحمان  کپڑے کا کاروبار کرتا تھا جس میں اسے بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔گزشتہ روز وہ  اپنی  بیوی اور دو بچوں کو سسرال چھوڑ کر گھر آیا اور گلے میں پھندہ ڈال کر خود کشی کرلی۔دوپہر کو جب اس کی بیوی گھر واپس پہنچی تو شوہر کو پھندے سے جھولتا پایا۔اطلاع ملنے پر دہلی گیٹ پولیس موقع پر پہنچ گئی اور لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے تحویل میں لے لیا تاہم ورثاء  کے اصرار پر پوسٹ مارٹم نہیں کروایا گیا۔دریں اثناٹریفک حادثے میں شدید زخمی ہونے والے 2 افراد ہسپتال میں دم توڑ گئے، تفصیل کے مطابق ٹریفک کا پہلا حادثہ صادق آباد کے رہائشی 30 سالہ محمد احمد کے ساتھ پیش آیا جو اپنی موٹر سائیکل پر سوار ہو کر جا رہے تھا کہ تیز رفتاری کے باعث آگے جانے والے ٹرالر سے ٹکرا گیا اور شدید زخمی ہو گیا جبکہ دوسرا حادثہ روشن بھینٹ کے رہائشی 27 سالہ عبدالقیوم کے ساتھ پیش آیا جو اپنی موٹر سائیکل پر سوار ہو کر جا رہا تھا کہ پچھے سے آنے والی تیز رفتار یونیورسٹی بس نے ٹکر مار دی جس کے نتیجہ میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا زخمی ہونے والے محمد احمد کو ورثا نے طبی امداد کے لیے شیخ زید ہسپتال منتقل کیا جہاں طبی امداد کے باوجود محمد احمد جانبر نہ ہو پایا اور دم توڑ گیا۔ادھرگھریلو جھگڑوں سے دلبرداشتہ ہوکر 26 سالہ نوجوان نے گندم میں رکھنے والی گولیاں کھا کر خود کشی کر لی 2 کا اقدام خود کشی، تفصیل کے مطابق صادق آباد کے رہائشی 26 سالہ شاھد رسول نے آئے روز کے گھریلو جھگڑوں سے دلبرداشتہ ہوکر گندم میں رکھنے والی گولیاں کھا لی حالت غیر ہونے پرورثاء نے طبی امداد کے لیے شیخ زید ہسپتال منتقل کیا جہاں طبی امداد کے باوجود شاھد رسول جانبر نہ ہو پایا اور دم توڑ گیا جبکہ اقدام خودکشی کرنے والے 2 افراد جن میں بستی غریب شاہ کی رہائشی 12 سالہ بشری بی بی اور ابوظہبی کالونی کی رہائشی40 سالہ سوہاگی مائی کو ہسپتال میں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔دن دیہاڑے دو نامعلوم موٹرسائیکل سوار مسلح ملزمان نے فائرنگ کرکے 24سالہ سکول ٹیچر کو موت کے گھاٹ اتار دیا اورفرار ہوگئے‘ پولیس نے لاش تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کیلئے ہسپتال منتقل کردی‘ بھائی کی مدعیت میں مقدمہ درج۔ تفصیل کے مطابق تھانہ کوٹ سبزل کی حدود کوٹ مٹھا کے رہائشی محمداشفاق نے پولیس کو اپنی شکایت میں بیان کیا کہ اس کا24سالہ بھائی مشتاق احمد بھٹہ جوکہ کوٹ مٹھا کے علاقہ میں گورنمنٹ پرائمری سکول میں ٹیچر تعینات تھا جوکہ سکول سے چھٹی کے بعد اپنی موٹرسائیکل پر سوار ہوکر گھر واپس آرہا تھا کہ موضع مبارک بھارا کے نزدیک سامنے سے آنے والے دو نامعلوم ملزمان نے اندھا دھند اس پر فائرنگ کردی۔ گولیاں لگنے کے باعث سکول ٹیچرمشتاق احمد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر دم توڑ گیا‘ ملزمان فرار‘ اطلاع پاکر پولیس نے موقع پر پہنچ کر مقتول کی لاش تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کیلئے ہسپتال منتقل کردی۔ بھائی محمداشفاق کی رپورٹ پر پولیس نے نامعلوم ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرکے کارروائی شروع کردی۔علاوہ ازیں چک 45 فتح کی اضافی بستی میں ناجائز تعلقات کے شر میں سرالیوں نے اپنی بہو مسمات تسلیم احسان کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ اور مقتولہ کے والد کو اطلاع دی۔ کہ آپکی بیٹی بھاگ گئی ہے۔ پھر کچھ دیر بعد اطلاع دی کہ آپکی بیٹی نے خود کشی کر لی ہے۔ پولیس رپورٹ کے مطابق مقتولہ تسلیم بی بی جو کہ خوشی محمد سکنہ 59/12L چیچہ وطنی کی بیٹی تھی۔ جبکہ اسکی شادی قریباً 12 سال قبل محمد فاروق کے ساتھ ہوئی۔ جبکہ مقتولہ کا خاوند کراچی ملازمت کرتا تھا۔ ادھر مقتولہ کی نند کی شادی اسکے بھائی کے ساتھ ہوئی تھی۔ ملزمان کو شعبہ تھاکہ اسکے ناجائز تعلقات کسی شخص کے ساتھ ہیں۔ جس پر انہوں نے اس کو موت کے گھاٹ اتارا تھی۔ صدر پولیس نے مقتولہ کے والد خوشی محمد کی رپورٹ پر ملزمان عبدالمجید، عبدالقادر، محمد صفدر، محمد اختر کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ 

قتل،حادثات

مزید : ملتان صفحہ آخر