حکومت عوام کو سولر اور الیکٹرک انرجی کی طرف راغب کرے، سہولتیں دے: لاہور ہائیکورٹ

حکومت عوام کو سولر اور الیکٹرک انرجی کی طرف راغب کرے، سہولتیں دے: لاہور ...

  



لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے سموگ کے تدارک کے لئے کئے گئے اقدامات کی رپورٹ پیش کرنے کے لئے پنجاب حکومت کو 19نومبر تک مہلت دے دی، مہلت کی استدعا ایڈووکیٹ جنرل نے کی تھی،مسٹر جسٹس مامون رشید شیخ نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ ماحولیاتی آلودگی کا یہ عالم ہے کہ رات کو لاہور میں اب جگنو بھی نظرنہیں آتے۔حکومت لوگوں کو دھوئیں کے بغیر ٹیکنالوجی کی طرف راغب کریں اور انہیں اس سلسلے میں سہولتیں دے۔درخواست گزاروں کے وکیل اظہرصدیق نے کہا کہ عدالت نے سموگ پر قابو پانے کے لئے ٹھوس پالیسی وضع کرنے کا حکم دے رکھاہے لیکن حکومت کی جانب سے کوئی حکمت عملی اختیار نہیں کی گئی،درختوں کی کٹائی اور فصلوں کو آگ لگانے کے عمل کو آج تک نہیں روکا گیا،سموگ کی وجہ سے لوگ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں حکومت جو کچھ کرسکتی ہے وہ کررہی ہے،پالیسی سے متعلق ہدایات کے لئے وقت دیا جائے،انہوں نے کہاکہ ٹرانسپورٹ کو بجلی پر منتقلی کے لئے الیکٹرک انجن کی سکیم پر کام جاری ہے، جس پر عدالت نے کہا کہ ناروے واحد ملک جہاں الیکٹرک کاریں اور ٹرانسپورٹ بغیر ڈیوٹی درآمد کی اجازت ہے،ایسی پالیسی بنائیں جو لوگوں کو سولراورالیکٹرک انرجی کی طرف راغب کرے،  عدالت نے استفسار کیا کہ آگاہ کیا جائے سموگ کے تدارک کے لئے کیا اقدامات کئے گئے؟ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ ڈاکٹر پرویز حسن کی سربراہی میں کمیشن بناہوا ہے، مفاد عامہ کا معاملہ ہے اور فاضل عدالت کا معاملے کی سنگینی کے بارے میں فرمانا درست ہے، پالیسی معاملہ ہے اس پر ازخود کچھ نہیں کہہ سکتا، درخواست گزار رافع عالم نے کہا کہ سموگ کے بارے میں وزیر اعلیٰ پنجاب نے بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ کو خط بھی لکھا تھا، 80 فیصد آلودگی ٹرانسپورٹ اور فیکٹریوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ کیس کی مزید سماعت کے لئے19نومبر کی تاریخ مقررکی ہے۔

سموگ،سماعت

مزید : صفحہ آخر