کرپشن ،بے ضابطگیاں،سیکرٹری سی این ڈبلیوسمیت 3افراد کیخلاف انکوائری شروع

 کرپشن ،بے ضابطگیاں،سیکرٹری سی این ڈبلیوسمیت 3افراد کیخلاف انکوائری شروع

  



لاہور(سپیشل رپورٹر)محکمہ اینٹی کرپشن لاہور ریجن بی کے افسران نے مبینہ ملی بھگت سے سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو اور چیف انجینئر سنٹرل زون لاہور کے خلاف کرپشن اورٹینڈرز میں بے ضابطگیوں کے الزامات پر شہری کی درخواست ردی کی ٹوکری کی زینت کردی،بعدازاں شہری رحیم بخش نے عدالت عالیہ سے رجوع کیا،عدالت کے احکامات کی روشنی میںڈی جی اینٹی کرپشن گوہرنفیس نے ڈائریکٹر ریجن بی کو انکوائری افسر مقررکرکے رپورٹ طلب کرلی ہے ۔تفصیلات کے مطابق شہری رحیم بخش کی جانب سے ڈی جی اینٹی کرپشن کودرخواست دی تھی جس میں کہاگیاکہ سیکرٹری مواصلات و تعمیرات پنجاب طاہر خورشید کو کرپشن کی شکایات پر کمشنر ڈی جی خان کے عہدہ سے ٹرانسفر کیا گیا تھا، سیکرٹری طاہر خورشید اپنے ماتحتوں کی کرپشن روکنے کی بجائے خود بھی کرپشن کر رہے ہیں ،سیکرٹری طاہر خورشید نے سنٹرل پنجاب کے چیف انجینئر ہائی وے وسیم طارق کی ملی بھگت سے کنٹریکٹرز کی تجدید بھی روک دی، سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو نے اپنے من پسند افراد کے ٹھیکوں کے لائسنس کی تجدید کر دی ۔طاہر خورشید نے 10 فیصد کمیشن پر ٹھیکیدار رانا منور کو مانوالہ تا ننکانہ صاحب روڈ کا ٹھیکہ دے دیا، مذکورہ سڑک کی بحالی کی کوئی ضرورت نہیں تھی اور ڈی سی ننکانہ صاحب کے روکنے کے باوجود ٹھیکیدار رانا منور نے کام جاری رکھاتاہم اس کی شنوائی نہیں ہوئی ،بعدازاں شہری نے عدالت عالیہ سے رجوع کیااورعدالت نے ڈی جی اینٹی کرپشن کو سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو طاہر خورشید کے خلاف درخواست پر 10روز میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا جس پر اب ڈی جی اینٹی کرپشن نے سیکرٹری مواصلات وتعمیرات پنجاب طاہر خورشید ،چیف انجینئر سنٹرل زون لاہور وسیم طارق اورٹھیکیدار کے خلاف ڈائریکٹر ریجن بی عبدالمنان کو انکوائری آفیسر مقرر کرکے اس بابت رپورٹ طلب کرلی ہے ۔

 انکوائری شروع

مزید : صفحہ آخر