رمضان شوگر ملز کیس ، ضمنی ریفرنس دائر ، حمزہ اور احتساب جج میں تلخی ، جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع

رمضان شوگر ملز کیس ، ضمنی ریفرنس دائر ، حمزہ اور احتساب جج میں تلخی ، جوڈیشل ...

  



لاہور(نامہ نگار)رمضان شوگر ملز کیس میں پیشی کے موقع پر پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہبازاوراحتساب عدالت کے جج امجد نذیرچودھری کے درمیان تلخی ہوگئی ،فاضل جج کی طرف سے تلخ ریمارکس پر عدالت میں موجود مسلم لیگ (ن) کے وکلاءبھی جذباتی ہوگئے ،انہوںنے کمرہ عدالت میں احتجاج کیا،عدالت نے شہبازشریف کے جوڈیشل ریمانڈ میں28نومبر تک توسیع کردی جبکہ میاں شہبازشریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست بھی منظور کرلی گئی ،حمزہ شہباز کی واپسی پر مسلم لیگ (ن) کے وکلاءاور کارکنوں کی پولیس اہلکاروں سے بھی جھڑپ ہوگئی ، حمزہ شہباز کے قریب جانے کی اجازت نہ دینے پروکلاءاور کارکن پولیس اہلکاروں سے الجھ پڑے ،اس دوران کچھ کارکنوں کی پولیس سے ہاتھاپائی بھی ہوئی ،کیس کی سماعت شروع ہوئی تو نیب نے حمزہ شہباز کو جیل سے لاکرعدالت میں پیش کیا ،حمزہ شہباز کوعدالت کے اندر دروازے کے قریب کارکنوں اور وکلاءنے گھیر لیااوران سے خیرخیریت دریافت کرنا شروع کردی ،اس موقع پر کچھ کارکنوں نے ان کے ساتھ سیلفی لینے کی کوشش بھی کی ،فاضل جج نے بلند آواز سے حمزہ شہباز کو مخاطب کرکے کہا کہ مسٹر حمزہ ادھرآئیں،آپ پریس کانفرنس کرنے آتے ہیں یاعدالت میں پیش ہونے؟آپ عدالت کا ڈیکورم خراب کر رہے ہیں، جس پر حمزہ شہباز نے جج سے کہا کہ آپ مجھ سے کیسے بات کر رہے ہیں؟ حمزہ شہباز نے کہا میں نیب کی کسٹڈی میں آیاہوں ،میں اپنی مرضی سے یہاں نہیں رکا ،میں آگے آرہاتھا،میں پولیس تحویل میں ہوں ،ان لوگوں کو میں ساتھ لے کرنہیں آیا،آپ مجھ سے اس لہجے میں بات نہیں کرسکتے،فاضل جج نے کہا کہ آپ پریس کانفرنس کرنے آتے ہیں؟آپ عدالت کا ڈیکورم خراب کررہے ہیں، حمزہ شہباز نے کہا کہ میں آگے آرہاتھا ،لوگ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں ،سلام دعا کرناچاہتے ہیںکیا میں ان کے سلام کا جواب نہ دوں؟سلام کا جواب دینے کا اسلام میں بھی حکم ہے ،حمزہ شہباز کے وکیل رانامشہود نے کہا کہ حمزہ شہباز پنجاب اسمبلی کے رکن اور قائد حزب اختلاف ہیں، فاضل جج نے کہا کہ ہم نے عدالتی کارروائی کرنی ہے،جب تک حمزہ پیچھے بیٹھے رہیں گے کیس نہیں چلے گا، رانا مشہودنے کہا کہ نیب کے جتنے بھی ملزم ہیں وہ 90، 90 روز تک جسمانی ریمانڈ پر نیب کے پاس رکھے جاتے ہیں، اس دوران انہیں کسی سے ملنے کی اجازت نہیں ہوتی ،حمزہ شہباز نے کہا میں عدالت کا احترام کرتا ہوں، میں لوگوں کو ساتھ لے کرنہیں آیا،جھمکٹے میں آرہاہوں ، جج صاحب مجھے آپ کی بات کرنے کا طریقہ ٹھیک نہیں لگا،فاضل جج نے کہا اگر عدالت کا ڈیکورم خراب کریں گے تو اس طرح کام نہیں چلے گا، رانا مشہود ایڈووکیٹ نے کہا اس طرح تو قاتلوں کو بھی نہیں بلایا جاتا جیسے آپ نے حمزہ شہباز کو بلایا ہے، فاضل جج نے کہا عدالت کا ڈیکورم سب سے پہلی چیز ہے اورسب سے مقدم ہے ،فاضل جج نے حکم دیا کہ آئندہ حمزہ شہباز سیدھا آکرکٹہرے میں کھڑاہو گا،حمزہ شہباز روسٹرم پر اپنے وکلاءکے پیچھے آکر کھڑے ہوگئے ،فاضل جج نے استفسار کیا کہ شہبازشریف کہاں ہیں؟ان کے وکلاءنے بتایا کہ شہباز شریف قومی اسمبلی کے سیشن کی وجہ سے پیش نہیں ہوئے،ان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائرکر دی گئی ہے ،فاضل جج نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ سیشن ہے یا نہیں ،وکیل نے کہا کہ قومی اسمبلی کے اجلاس کی طلبی کا عوامی نوٹس جاری ہوچکاہے ،فاضل جج نے کہا کہ عوامی نوٹس کوئی اہمیت نہیں رکھتا، جس پر شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ آئندہ جب بھی حاضری معافی کی درخواست دائر کروں گا متعلقہ دستاویزات ساتھ لگاﺅں گا۔فاضل جج نے میاں شہبازشریف کی ایک دن کے لئے عدالت سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی ،اس سے قبل نیب کی جانب سے عدالت میں رمضان شوگر ملز میں حمزہ شہباز اور شہباز شریف کے خلاف ضمنی ریفرنس جمع کروا یا گیا،پراسکیوٹر نیب وارث علی جنجوعہ نے عدالت کو بتایا کہ ریفرنس میں حمزہ شہباز اور شہباز شریف ملزم نامزد ہیں، چودھری شوگر ملز کیس میں گرفتار حمزہ شہباز کو جیل سے لاکر عدالت میں پیش کیا گیا،فاضل جج نے اس کیس کی مزید سماعت کے لئے28نومبر کی تاریخ مقررکی ہے ،بعدازاں رانامشہود احمد خان نے مسلم لیگ(ن) کے دیگر وکلاءکے ہمراہ پریس کانفرنس کی اور فاضل جج کے عدالت میں رویہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

رمضان شوگر ملز کیس

مزید : صفحہ آخر