چین کی طلب پورا کرنے کیلئے پاکستانی گوشت کی بر آمدات میں اضافہ ممکن، پی ی جے سی سی آئی

چین کی طلب پورا کرنے کیلئے پاکستانی گوشت کی بر آمدات میں اضافہ ممکن، پی ی جے ...

  



لاہور(اے پی پی)پاک چین جوائنٹ چیمبر آف کامر س اینڈ انڈسٹری کے صدر زرک خان نے کہا ہے کہ چینی منڈیوں میں گوشت کی بھرپور طلب ہے جس سے استفادہ کرکے پاکستان اپنی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کرسکتا ہے۔ یہ بات انہوں نے پاک چین چیمبر کی ایکسپورٹ کمیٹی کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پر چیمبر کے سینئر نائب صدر معظم گھرکی او ر سیکرٹر ی جنرل صلاح الدین حنیف سمیت متعدد اراکین مجلس عاملہ موجود تھے۔ زرک خان نے کہاکہ عالمی منڈی میں مجموعی طور پر گوشت کی تجارت میں وسیع خلا ء موجود ہے اور پاکستا ن کیلئے اس شعبہ میں خطیر برآمدی مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں عالمی معیار کے جدید سلاٹر ہاؤسز تشکیل دیکر پاکستان عالمی منڈی سے بھرپور استفادہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان لائیوسٹاک کے حوالے سے دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے جہاں ہر سال180  ملین مویشی پیدا ہوتے ہیں جن کی افزائش میں سالانہ4.2فیصداضافہ ہو رہا ہے اور ان میں بکروں اور بھیڑوں کی 48 سے زائد اقسام شامل ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کو بکروں کے گوشت کی تجارت کے حوالے سے دنیا کے دوسرے بڑے ملک کا درجہ حاصل ہو چکا ہے لیکن ہم گوشت کی تیاری اور تحفظ سے متعلقہ جدید طریقوں اور ماڈرن ٹیکنالوجی کے فقدان کی وجہ سے عالمی تجارت میں واضح مقام حاصل نہیں کر سکے۔ زرک خان نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور تربیت کے سلسلے میں موجود خلا ء کو پر کرنے کیلئے ہمیں چین کی خدمات حاصل کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ چین میں پاکستانی گوشت کی درآمدات کو فروغ دینے کیلئے حکومتی سطح پر سنجیدہ کوششیں بروئے کار لائی جائیں۔

 پاک چین چیمبر کے سینئر نائب صدر معظم گھرکی نے بتا یا کہ چین اور ویت نام میں گائے اور بھینسوں کی اوجھڑیوں کو بے حد پسند کیاجا تا ہے،ہمیں چینی ڈیمانڈ کے مطابق گوشت کے مختلف حصوں کی برانڈنگ کرکے چینی منڈیوں میں جگہ بنانی چاہیے۔اس موقع پر چیمبر کے سیکرٹری جنرل صلاح الدین حنیف نے بتا یاکہ چین اس وقت زیادہ تر گوشت ویت نام، برازیل اور آسٹریلیا سے درآمد کر رہا ہے جو عالمی معیار کے مطابق گوشت کی تیاری کا عمل اختیار کر چکے ہیں 

 ،پاکستان ان ممالک سے اشتراک عمل اختیار کرکے بھی گوشت کی پیداوار کے عمل کو عالمی معیار پر لا سکتا ہے۔انہوں نے کہا یہ امر خوش آئندہے کہ چینی تاجروں نے اب پاکستانی گوشت کی درآمد پر توجہ دینی شروع کر دی ہے۔

مزید : کامرس