ماحولیاتی آلودگی کا تدارک‘کوآپریٹو مینجمنٹ کمیٹیوں کو آگاہی پھیلانے کی ہدایت

 ماحولیاتی آلودگی کا تدارک‘کوآپریٹو مینجمنٹ کمیٹیوں کو آگاہی پھیلانے کی ...

  



لاہور (اے پی پی) صوبائی وزیر کوآپریٹو مہر محمد اسلم بھروانہ نے کوآپریٹو مینجمنٹ کمیٹی کے اراکین سے اپنے دفتر میں ملاقات کی۔صوبائی وزیر نے کوآپریٹو سوسائٹیز کے رہائشیوں میں ماحولیاتی آلودگی کے تدارک سے متعلق آگاہی پھیلانے کے لیے ہدایت کی۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ فضائی و آبی آلودگی کے خاتمے کے لیے تمام سوسائٹیز مل کر کام کریں، نیز پابندی شدہ پولیتھین بیگز کے استعمال سے بھی گریز کریں اور اس کی جگہ کپڑے کے تھیلوں کے استعمال کو رواج دیں۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ سموگ کچھ سال پہلے ہی سے وجود میں آئی ہے جس کے حقیقی ذمہ دار ہم سب خود ہیں۔قدرت نے ہمیں جیسا فطری ماحول دیا ہے اسے دوبارہ واپس لانے کے لیے کثیرالمعیاد بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب گرین ڈویلپمنٹ پروگرام اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جس کے تحت حکومتی سطح پر آلودگی پر کنٹرول کے لیے انتظامی امور میں معاونت فراہم کرنا اور سبزے کی افزائش کو مرکزی دھارے میں لانا ہے۔ چالیس ارب سے زائد لاگت کے اس پروگرام کے تحت 8شعبوں میں سرمایہ کاری کو یقینی بنایا جائے گا جن میں محکمہ تحفظ ماحول کی استعداد کار میں اضافہ، پانی اور ہوا کے معیار کی مسلسل نگرانی، ماحولیاتی تبدیلیوں کے متوقع اثرات کی بروقت تشہیر کے ذریعے عوامی آگاہی، پلاسٹک کی مصنوعات کی تیاری اور تلفی سے جڑے ماحولیاتی آلودگی کے خطرات پر موثر کنٹرول، سرکاری اداروں میں توانائی کی بچت کو یقینی بنانے والے برقی آلات کا استعمال، گاڑیوں کی خرید و فروخت میں تابکاری کے اخراج کے مطابق معیار کے تعین، صنعتوں کو صاف پیداوار کے لیے تکنیکی معاونت اور بہتر ماحول کی فراہمی کے لیے سبز سرمایہ کاری کی ترغیب شامل ہیں۔

گرین ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت فضائی آلودگی کی پیمائش کے لیے 30جبکہ آبی آلودگی کے تخمینے کے لیے 15مانیٹرنگ سٹیشنز کے علاوہ فقیدالمثال لیبارٹری قائم کی جائے گی۔ ماحول کے معیار اور آلودگی کی وجوہات سے متعلق معلومات کی کمی بھی مسائل میں اضافے کا ایک بڑا سبب ہے جس کی بناء پر عوام کا اداروں پراعتماد متاثر ہو رہا ہے۔ گرین ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت معلومات اور دفاعی تدابیر و اقدامات کی تشہیر اور عوامی آگاہی ماحول میں بہتری کا سبب بنے گی۔صوبائی وزیر نے کہا کہ پلاسٹک مصنوعات کی تلفی کے لیے موزوں میکانزم کی عدم موجودگی اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں بھی صوبے میں آلودگی کے علاوہ سالڈ ویسٹ سے متعلقہ مسائل میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔ صنعت اور ماحول دونوں کے بیک وقت تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ عوام کو پلاسٹک کی ناقص مصنوعات کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے اور صنعتوں میں ماحول دوست مصنوعات کی تیاری کو یقینی بنایا جائے۔ ناقص مینو فیکچرنگ اور تابکاری کے اثرات پر کنٹرول کے لیے قوانین میں تبدیلی لائی جائے۔۔ہاؤسنگ سوسائٹی مینجمنٹ کمیٹی کی  جانب سے صوبائی وزیر کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی گئی اور آلودگی کے پیدادہ کردہ چیلنجز پر مستقبل میں بھی مشترکہ کاوشوں کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

مزید : کامرس