پی آئی اے خسارہ رپورٹ، بہتری کیلئے جامع پلان پیش کرے: سپریم کورٹ

پی آئی اے خسارہ رپورٹ، بہتری کیلئے جامع پلان پیش کرے: سپریم کورٹ

  



 اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ میں قومی ایئر لائن(پی آئی اے)سمیت قومی اثاثہ جات کی کم نرخوں پر فروخت سے متعلق کیس کی سماعت، عدالت نے پی آئی اے سے نیب کی رپورٹ پر جواب طلب کرتے ہو ئے پی آئی اے کے موجودہ خسارے کی تفصیلات سمیت ادارے کی بہتری کیلئے جامع پلان بھی پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے معاملے کی سماعت غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کر دی ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 2رکنی بنچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے کہ ہمیں مسئلے کا حل چاہیے،عدالت کی کوشش ہے کہ قومی ادارے درست سمت میں چلیں،عدالتی کاروائی کا مقصد کسی کو نقصان یا فائدہ پہنچانا نہیں،پی آئی اے میں ہر سال اربوں کا نقصان ہو رہا ہے،قومی ادارے کی از سر نو تعمیر سنجیدہ ایشو ہے۔آڈٹ رپورٹ پر نیب نے اپنی رائے دیدی ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اربوں روپے کی فری ٹکٹس کی مد میں نقصان پہنچایا گیا،ملازمین کے علاوہ غیر مجاز لوگوں کو بھی فری ٹکٹس دئیے گئے،پی آئی اے چلانے کیلئے سنجیدہ پلان تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب نے اس موقع پر عدالت کو بتایا کہ نیب نے اپنی رپورٹ میں 33 معاملات پر اعتراضات اٹھائے ہیں،پی آئی اے کی ٹاپ مینجمنٹ میں اہل افراد کانہ ہونا بھی بڑا مسئلہ ہے۔شجاعت عظیم کے وکیل نے کہا کہ شجاعت عظیم کا نام نکالنے کیلئے بیان حلفی دینے کو تیار ہوں،عدالت جب حکم کرے گی کارروائی میں شامل ہو جاؤں گا۔ عدالت نے اس موقع پرپی آئی اے سے نیب کی رپورٹ پر جواب طلب کرتے ہوئے پی آئی کے موجودہ خسارے کی تفصیلات سمیت ادارے کی بہتری کیلئے جامع پلان بھی پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے معاملے کی سماعت غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کر دی ہے۔علاوہ ازیں ہاؤسنگ فاؤنڈیشن سے متعلق سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس کے دوران متاثرین موضوع تمہ موریاں کی جانب سے نعیم بخاری کی طرف سے موقف اپنایا گیا ہے کہ انہیں بنچ کے رکن جج جسٹس فائز عیسیٰ پر اعتراض ہے، لینڈ شیئرنگ فارمولا قبول نہیں۔ سپریم کورٹ کی طرف سے جاری توہین عدالت کے آرڈر سے میں مطمئن نہیں ہوں، میں اس معاملے میں پارٹی نہیں بن سکتا، معاملے کی سماعت جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے کی، دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل نعیم بخاری کے اعتراض پر ریمارکس دیئے کہ صدارتی ریفرنس والا معاملہ بہت بعد پیش آیا، جبکہ کیس بہت پہلے شروع ہو گیا تھا، وکیل صفائی آگاہ کریں گے آیا وہ سپریم کورٹ کے آرڈر سے مطمئن نہیں کہ میں اس کیس کو دوبارہ ہائیکورٹ کو ریویو کیلئے بھی بھیج سکتے ہیں، جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دیئے کہ اس بنچ کے2ججز موجود جبکہ7ریٹائرڈ ہو چکے ہیں، اگر ریویو سنا گیا تو دوبارہ بنچ بنے گا، صدر سپریم کورٹ بار نے موقف اپنایا کہ میرے خیال میں یہ بنچ ہی تمام معاملات دیکھے، عدالت نے معاملہ ریویو کیلئے ہائیکورٹ بھیجنے کا عندیہ دیتے ہوئے معاملہ کی سماعت غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کر دی ہے۔

سپریم کورٹ

مزید : علاقائی