پی آئی اے کے ماہانہ آپریشنل نقصانات میں نمایاں کمی آئی ہے: ارشد محمود ملک 

پی آئی اے کے ماہانہ آپریشنل نقصانات میں نمایاں کمی آئی ہے: ارشد محمود ملک 

  



کراچی(اکنامک رپورٹر)پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ایئر مارشل ارشد محمود ملک نے کہا ہے کہ پی آئی اے کے ماہانہ خسارے کو کم کر کے 1.5ارب روپے پر لے آئے ہیں اس کے برعکس جب انہوں نے قومی ایئرلائن کا چارج سنبھالا تو ایئر لائن کو ہر ماہ 3ارب روپے خسارے کا سامنا تھا۔ آپریشنل نقصانات میں کمی صرف اور صرف پی آئی اے ٹیم کی شب وروز کوششوں کی وجہ سے ممکن ہوئی جو پی آئی اے میں کئی برسوں سے کام کررہے ہیں لیکن اب بھی اس ضمن میں بہت کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ایئرلائن جو بھی کماتی ہے وہ زیادہ تر قرض اتارنے پر خرچ ہوجاتا ہے۔یہ بات انہوں نے منگل کو کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے دورے کے موقع پر اجلاس سے خطاب میں کہی۔اس موقع پر بزنس مین گروپ کے چیئرمین و سابق صدر کے سی سی آئی سراج قاسم تیلی، جنرل سیکریٹری بی ایم جی اے کیو خلیل،صدر کے سی سی آئی شہاب احمد خان، سینئر نائب صدر ارشد اسلام، نائب صدر شاہد اسماعیل، سابق صدر کے سی سی آئی ہارون اگر، شمیم احمد فرپو، جنید ماکڈا اور منیجنگ کمیٹی کے ارکین بھی موجود تھے۔سی ای او پی آئی اے نے بتایا کہ پی آئی اے کے بیڑے میں 31 جہاز شامل ہیں جن میں 23 جہاز پرواز کے قابل تھے لیکن اب پی آئی کے عملے باالخصوص انجینئرنگ ٹیم کی سرتوڑ کوششوں کی بدولت29جہاز محو پرواز ہیں اور صرف 2جہاز گراؤنڈ پر ہیں۔موجودہ بیڑے میں اضافے کے لیے پی آئی اے نے اپنے وسائل سے A320جہاز لیز پر لیا ہے جو 14نومبر کو لینڈکرے گا اور ایک اور جہاز اس سال دسمبر میں آجائے گا جبکہ اگلے سال 3سے5 بڑے جہاز قومی ایئر لائن کے بیڑے میں شامل ہوں گے جن سے کینیڈا اور لندن جانے والے تاجربرادری کے ممبران کو سہولت میسر آئے گی۔انہوں نے کہاکہ پی آئی اے ترقی کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے لیکن بدقسمتی سے ناقص پالیسیوں اور انتظامی امور کے طریقہ کار کی وجہ سے ایئر لائن کو درپیش مسائل کو پچھلے 10سے12سالوں کے دوران نظرانداز کیا جاتا رہا جس کے نتیجے میں ایئر لائن حد سے زیادہ اسٹاف اور بے پناہ قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہے۔ماضی میں تمام پالیسیوں اور فیصلوں کو مسلط کیا جاتا تھا لیکن اب ایسا نہیں کیونکہ اب تمام فیصلے خالصاً انتظامیہ کی جانب سے تجارت و کاروبار کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے لیے جارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے یہ یقین دہانی کروائی ہے کہ پی آئی اے کی جانب سے جوبھی تجاویز دی جائیں گی ان کو ملک کے بہتر ترین مفاد میں ترجیح دی جائے گی جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا جبکہ کیبنٹ اجلاس کے دوران وزیراعظم نے یہ بھی واضح طور پر کہا تھا کہ پی آئی اے کے امور میں کسی کی جانب سے بھی مداخلت کی صورت میں سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے پی آئی اے کے کارگو آپریشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ دستیاب وسائل کے مطابق صرف 20فیصد کارگو جہازوں پر منتقل کیا جا رہاتھا جبکہ تاجربرادری کے تعاون سے اب اس میں بہتری لاتے ہوئے 80فیصد کارگو کی منتقلی یقینی بنائی گئی ہے۔قومی ایئر لائن کو مدد کی ضرورت ہے اور اگر لوگ پی آئی اے کی کارگو سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارا  انتخاب کریں توہم مارکیٹ کے مقابلے میں کارگو نرخوں میں رعایت دیں گے۔انہوں نے حج آپریشن2019 پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ تمام حج آپریشن مکمل طور پر پی آئی اے نے انجام دیا جس میں 83ہزار حجاج کو بغیر کوئی جہاز لیز پر لیے سہولت فراہم کی گئی تھی جبکہ سکھر اور کوئٹہ اسٹیشنز سے بھی اس سال حج آپریشن انجام دیا گیا۔انہوں نے متعلقہ پی آئی اے حکام کو ہدایت کی کہ وہ کراچی چیمبر میں پی آئی اے کا آفس قائم کرنے کے لیے اگلے پیر کوکراچی چیمبر کے ساتھ ایم او یو سائن کرنے کا اہتمام کریں جس سے تاجربرادری کو اضافی سہولتیں اور خدمات میسر آئیں گی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر