جانے والوں کو کہاں روک سکا ہے کوئی

جانے والوں کو کہاں روک سکا ہے کوئی
 جانے والوں کو کہاں روک سکا ہے کوئی

  



نواز شریف سخت بیمار ہیں، انہیں بیک وقت بہت سے جان لیوا عارضے لاحق ہیں جن میں خون کے سفید خلیوں کا نہ بننا، دل کا مرض، شوگر، وزن میں کمی وغیرہ شامل ہیں اور پاکستان ڈاکٹر تشخیص نہیں کر پارہے ہیں کہ آخر ان کے پلیٹ لیٹس کیونکر خطرناک حد تک کم ہو رہے ہیں۔ ایسے میں انہیں ایک سپیشلائزڈ سنٹر لے جانا ازحد ضروری ہے۔

بین ا لاقوامی جریدوں کے مطابق ان کی رپورٹیں دیکھنے کے بعد لندن کے ڈاکٹروں نے لندن آنے کا مشورہ دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یقینا ان پر فیملی کاپریشر بھی ہوگا۔ اسٹیلشمنٹ بھی کہہ رہی ہے کہ وہ بیمار نواز شریف سے پنجہ آزمائی نہیں کرنا چاہتے۔ اسی لئے نواز شریف بھی ایک چانس لینا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک وقت میں وہ جیل سے باہر نہیں آنا چاہتے تھے اور آج ملک میں نہیں رہنا چاہتے ہیں۔ یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ آیا وہ اپنے پاؤں پر چل کر وطن لوٹ سکیں گے یا نہیں مگر ایک بات طے ہے کہ نواز شریف جیتے جی لاکھ کے ہیں تو مر کر سوالاکھ کے ہو جائیں گے ہیں۔جس دھج سے وہ کوئے مقتل میں کھڑے ہیں وہ شان سلامت رہے گی۔ انہوں نے آخری دم تک اپنے نظریاتی ہونے کا ثبوت دیا ہے اور علی الاعلان کہا تھا کہ جینا ذلت سے ہوتو مرنا اچھا!

مریم نواز کو مبارکباد کہ انہوں نے نواز شریف کو مُرسی ہونے سے بچالیا۔ اب خاندان کو کوئی قلق یا کسی پر الزام دھرنے کا یارا نہ ہوگا۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ نواز شریف نے ملک سے باہر علاج کرانے کی حامی بھری ہی اس یقین دہانی کے بعد ہے کہ مریم نواز ان کے پیچھے پیچھے لندن نہیں بھاگی آئیں گی، بلکہ پاکستان میں رہ کر میدان میں ہر سازش کا مقابلہ کریں گی۔ وہ لاہور ہائیکورٹ سے اپنے پاسپورٹ کی واپسی کی درخواست نہیں ڈالیں گی، ناگزیر صورت حال کی بات الگ ہے۔

نواز شریف اگر ملک سے باہر چلے جائیں تو انہیں علاج کی بہتر سہولیات میسر آسکیں گی، ایک سپیشلائزڈ سنٹر میں ان کا علاج ہو سکے گا، بیماری کی تشخیص ہو سکے گی اور وہ جلد روبصحت ہوں گے جس کے بعد وہ سیاسی طور پر دوبارہ سرگرم ہوتے ہوئے پاکستان واپس لوٹ کر عملی سیاست میں حصہ لے سکیں گے۔ تب وہ اب سے کہیں زیادہ خطرناک ہوں گے۔ ان کی بحالی صحت پاکستانی عوام کی دعاؤں کا ثمر ہوگااور ان کے مخالفین کمزور پڑجائیں گے۔ہوسکتا ہے کہ عوام کے ووٹ کی عزت کا خواب شرمندہ تعبیر ہو جائے۔

حکومت یہ افورڈ نہیں کرسکتی کہ اس کی رٹ مزید کمزور ہو جائے۔ میڈیا چاہنے کے باوجود اس کی حمائت نہ کر سکے۔ اسٹیبلشمنٹ بھی اس پیج پر نظر نہ آئے جس کا دعویٰ حکومت کرتی رہی ہے۔ جب سے مولانا فضل الرحمٰن کا دھرنا لگا ہے، وزیر اعظم اور آرمی چیف کے مابین ایک بھی آفیشل ملاقات نہیں ہوئی ہے۔ یہ الگ بات کہ الیکٹرانک میڈیا نے ابھی تک حکومت کی ناکامیوں پر اس طرح بحث کی بساط نہیں بچھائی ہے جس طرح پی ٹی آئی کے دھرنے کے دوران نواز حکومت کی ناکامیوں کا رونا رویا جاتا تھا۔ اس کے برعکس الیکٹرانک میڈیا کا زیادہ زور اس بات کو ثابت کرنے پر لگا ہوا ہے کہ اپوزیشن دھرنے کے معاملے پر تقسیم ہے، مولانا کے براہ راست خطابات بھی اس طرح نہیں دکھارہا جس تزئین و اہتمام کے ساتھ پی ٹی آئی کے عمران خان اور پی اے ٹی کے علامہ طاہرالقادری کے دکھائے جاتے تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ میڈیا شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بنا ہوا ہے، یا پھر اسے وفادار بنا کر رکھا ہوا ہے۔

دوسری جانب نواز شریف اپنی بات پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ ضمانت کی بھیک مانگیں گے نہ ہی ملک سے باہر جا کر علاج کروانے کی درخواست کریں گے۔ معروف ٹی وی اینکر حامد میر کا کہنا ہے کہ حکومت اجازت دینے سے اس لئے ہچکچا رہی ہے کہ اب تک کسی بھی کاغذ پر نواز شریف کا ایک بھی دستخط موجود نہیں ہے، سب کچھ ان کے بھائی شہباز شریف کے نام پر ہو رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت یہ بھی چاہتی ہے کہ نواز فیملی جلد ازجلد ملک سے چلی جائے اور یہ بھی نہیں چاہتی کہ ان کے ملک سے جانے کا الزام اس پر آئے، جس طرح جنرل مشرف کے ملک سے جانے کا الزام سابق وزیر داخلہ چودھری نثار پر لگتا ہے اور وہ عدلیہ پر لگاتے ہیں۔ اب کی بار نہ تو عدلیہ، نہ اسٹیبلشمنٹ اور نہ ہی نیب یہ الزام اپنے سر لے کر حکومت کو کلین چٹ دینے کے لئے تیار ہے۔ بالآخر حکومت کا سرِ غرور ہی خاک میں ملے گا اور اسے اپنا کہا تھوک کر چاٹنا پڑے گا اور نواز شریف علاج کی غرض سے بیرون ملک چلے جائیں گے۔

جانے والوں کو کہاں روک سکا ہے کوئی

تم چلے ہو تو کوئی روکنے والا بھی نہیں

مزید : رائے /کالم