مسلم حکمران بابری مسجد فیصلے پر عالمی عدالت سے رجوع کریں،حافظ احمد علی

مسلم حکمران بابری مسجد فیصلے پر عالمی عدالت سے رجوع کریں،حافظ احمد علی

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر)جمعیت علماء اسلام(س) کے ڈپٹی سیکرٹری حافظ احمد علی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت پاکستان بالخصوص مسلم حکمران بابری مسجد کے غلط فیصلے کے خلاف آواز بلند کریں، بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانے کا فیصلہ تاریخ میں سیاہ ترین فیصلہ ہے مسلمانوں کے جذبات کا قتل ہے مسلمانوں کو بابری مسجدکی جگہ متبادل پانچ ایکڑ جگہ نہیں چاہیے بلکہ اپنا حق انصاف کے ساتھ چاہیے،بابری مسجد فیصلہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے،مسلمانوں کے عقیدے اور ایمان پر کاری ضرب ہے،مسلمان اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرسکتے،مسجد اللہ کا گھر ہے اور مسلمان اللہ کے گھر میں آکر اسکی عبادت کرتے ہیں اسکو آباد رکھتے ہیں اللہ پاک اپنے گھر کی حفاظت خود فرماتے ہیں یہ فیصلہ اب اللہ کی عدالت میں ہوگا۔ حکومت پاکستان مسئلہ کشمیر کی طرح مسئلہ بابری مسجدکے غلط فیصلے کو بھی دنیاکے سامنے اجاگر کرنا چاہیے اور بھارتی عدالتوں میں مسلمانوں کو ساتھ ہونے والے ظلم اور بربریت کا بردہ چاک کرکے دنیاکے سامنے بھارتی انتہاء پسندی کا پرچار کرنا چاہیے،صحافی،کالم نگار،الیکٹرونک میڈیا،پرنٹ میڈیا،شوشل میڈیا سے تعلق رکھنے والے ہرایک شخص کے لئے اس ظلم اور بربریت کے خلاف آواز بلند کرکے اپناحصہ شامل کرنا ایمانی غیر ت و حمیت کا تقاضہ ہے۔مسلم حکمرانوں کو بھارتی عدالت کے اس فیصلہ کے خلاف بھارت کاسفارتی اور اقتصادی بائیکا ٹ کر نا چاہئے۔ اس موقع پرجمعیت علماء اسلام سندھ کے امیر پیر عبدالمنان انورنقشبندی ،سیکٹری اطلاعا ت، مفتی عابد،جمعیت علماء اسلام کراچی سرپرست اعلی ٰ پیر لیاقت علی شاہ، جنرل سیکٹری علامہ مولاناحماد مدنی، قاری لیاقت رحمانی،قاری امین،شاہد علی خان مولانا اقبال اللہ،مولانا حضرت ولی ہزاروی،عبدالستار بلوچ، مفتی محمد نقشبندی،قاری عبدالوہاب انقلابی،اور دیگر رہنماؤں نے بھی بھارتی عدالت کے اس فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر