جج کے سول رائٹس کی بات پہلے دلائل سے متضاد، جسٹس قاضی فائز نے جائیداد ظاہر نہیں کی: سپریم کورٹ

جج کے سول رائٹس کی بات پہلے دلائل سے متضاد، جسٹس قاضی فائز نے جائیداد ظاہر ...

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیا ل نے ریمارکس دیئے کہ معاملہ ٹیکس کے بعد ادائیگی کا نہیں بلکہ معزز جج صاحب نے اپنی جائیداد ظاہر نہیں کی۔منگل کے روز جسٹس عمر عطابندیال کی سراہی میں 10رکنی بنچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس کے معاملے پر سماعت ہوئی،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل بابر ستار نے ٹیکس معاملات پر دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ صدر مملکت کے سامنے ٹیکس سے متعلق کوئی مواد تھا ہی نہیں جس پر وہ اپنی رائے قائم کرتے،جس پر جسٹس عمر عطا بندیا ل نے ریمارکس دیئے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے معاملہ ٹیکس کے بعد ادائیگی کا نہیں ہے،ریفرنس میں کوڈ آف کنڈکٹ کا معاملہ اس بنیاد پر اٹھایا گیا ہے کہ جج صاحب نے اپنی جائیداد ظاہر نہیں کی،وکیل بابر ستار نے عدالت کو مزید بتایا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 ء انکم ٹیکس افسران کو مشورہ دینے کا اختیار نہیں دیتا،11 مارچ 1999 کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ایف بی آر کے پاس رجسٹرڈ ہوئے،ایف بی آر کے اندرونی طریقہ کار کے علاوہ سپریم جوڈیشل کونسل سمیت کوئی اتھارٹی ٹیکس معلومات نہیں دیکھ سکتی،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ پبلک سروس میں نہیں ہیں لہٰذا انکی معلومات شیئر نہیں کی جا سکتیں،جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ نے جج کے سول حقوق کی جو بات کی تھی وہ منیر اے ملک کے دلائل سے متضاد ہے،آئین اور قانون کے حوالے سے آپ اپنا نقطہ بیان کر چکے ہیں،اب آپ ٹیکس کے معاملات پر اپنے دلائل آگے بڑھائیں۔سماعت کے دوران جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیئے کہ ہم دیگر دلائل سے متعلق وکیل منیر اے ملک کے دلائل پر انحصار کریں گے،بابر ستار کے دلائل پر صرف ٹیکس کی حد تک غور کیا جائیگا،اس لیے منیر ملک کے دلائل کا بابر ستار کے دلائل سے موازنہ کرنے کی ضرورت نہیں،دوران سماعت جسٹس یحییٰ آفریدی نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل بابر ستار سے استفسار کیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ٹیکس ریٹرن کہاں فائل کرتے تھے،جس پر وکیل بابر ستار نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے جج بننے کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اسلام آباد میں ٹیکس ریٹرن فائل کر رہے ہیں، آرٹیکل 209 ججز کو نکالنے کیلئے نہیں بنایا گیا بلکہ تحفظ دینے کیلئے بنایا گیا ہے،یقینی طور پر ججز کو قانون کے مطابق ہی عہدے سے فارغ کیا جا سکتا ہے،کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے ایڈووکیٹ بابر ستار سے مکالمہ کیا کہ بابر ستار صاحب کمرہ عدالت میں لگی گھڑی بھی کچھ کہہ رہی ہے،آپکے دلائل غور طلب ہیں، آپ کل ٹیکس قوانین سے متعلق اپنے دلائل مکمل کریں۔وکیل بابر ستار نے معزز عدالت کو بتایا کہ اگر مجھ سے سوالات کیے گئے تو کل تک دلائل مکمل کر لوں گا، جس پر جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ (آج) بروز بدھ مقدمے کی سماعت 20اوور والے میچ کی طرح کرینگے۔کیس کی سماعت (آج)بروز بدھ ساڑھے 11بجے تک کیلئے ملتوی کر دی گئی۔

جسٹس قاضی فائز کیس

مزید : صفحہ اول