سینیٹ، وزراء کی غیر حاضری پراپوزیشن کا شدید احتجاج، اعظم سواتی کی وضاحتیں مسترد

  سینیٹ، وزراء کی غیر حاضری پراپوزیشن کا شدید احتجاج، اعظم سواتی کی وضاحتیں ...

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) سینیٹ میں وزراء کی غیر حاضری پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر پر بحث کے دوران وزیرخارجہ اور وزیرامور کشمیر موجود نہیں،وزراء کی نشستیں خالی ہیں جبکہ بیوروکریٹ بھی موجود نہیں جس پر وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے کہاہے کہ کابینہ اجلاس کی وجہ سے وزراء نہیں آ سکے،اجلاس کا وقت تبدیل کر نا پڑے گا جبکہ چیئر مین سینیٹ صادق سنجرانی نے وزیرامور کشمیر کو بلانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ سینیٹ اجلاس کا وقت تبدیل نہیں ہوسکتا، آپ کابینہ اجلاس کا وقت تبدیل کیا کریں جبکہ وزراء کی حاضری کو یقینی بنایا جائے۔ سینیٹ کا اجلاس گزشتہ روز چیئرمین محمد صادق سنجرانی کے زیر صدارت شروع ہوا جس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بحث کی گئی۔ سینیٹر شیری رحمان نے کہاکہ انتہائی اہم ایشو پر بحث چل رہی ہے مگر سیکرٹریز غائب ہیں،سیکرٹری خارجہ بھی ایوان میں نظر نہیں آرہی۔ چیئر مین نے کہاکہ سپیشل سیکرٹری دفتر خارجہ موجود ہیں۔ شیری رحمن نے کہاکہ وزیر خارجہ کو ایوان میں ہونا چاہئے تھا۔ چیئر مین سینیٹ نے کہاکہ کہاں ہیں وزراء،۔ صادق سنجرانی نے کہاکہ وزیر امور کشمیر کو فون کر کے بلائے۔ وفاقی وزیر پارلیمانی نے کہاکہ کابینہ کا اہم اجلاس جاری ہے،وزراء وہاں موجود ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سینیٹ اجلاس کو اس طرح شیڈول کیا جائے کہ کابینہ اجلاس سے متصادم نہ ہوں تاکہ وزراء آسکے۔قائد حزب اختلاف راجہ ظفرالحق نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ کشمیر میں لاک ڈاؤن اور کرفیوکے نفازکو 100 روز ہو گئے، بھارت نے اس ظلم اور بربریت مزید تیز کر دی ہے جبکہ وزیراعظم کی اقوام متحدہ میں تقریر سے بھارت کا رویہ تبدیل ہونے کی توقع تھی مگر مودی سرکارنے مزید دو قدم آگے بڑھتے ہوئے،کارگل،لداخ،آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو بھی اپنے نقشے میں شامل کر لیا۔ انہوں نے کہاکہ مسئلہ کشمیر پر پوری قوم متحد ہے،پاکستانی عوام نے اپنے دلوں سے اس ایشو کو کبھی نہیں نکالا،ہمیں چرچل والا کردار ادا کرنا چاہئے نہ کر چمبرلینڈ والا۔سینیٹر فاروق نائیک نے کہاکہ بین الاقوامی کمیونٹی کشمیر میں قتل و غارت گری کا ذمہ دار ہے۔انہوں نے کہاکہ مودی اور اسرائیلی حکومت کے مابین متوازی معاہدے ہو چکے ہیں،کشمیر کی موجودہ صورتحال پر انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس سے ایڈائزری رائے طلب کی جائے جبکہ امریکی صدر سے ثالثی کیلئے نمائندہ مقرر کرنے پر زور دیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر میں مکمل اظہار رائے اور بنیادی حقوق فراہم کی جائیں،کشمیر کو دنیا کیلئے کھولا جائے۔انہوں نے کہاکہ تمام گرفتار قیدیوں کو فوری طورپر رہا کیاجائے۔سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمال دینی نے کہاکہ کشمیر میں ہونے والی زیادتیاں قابل مذمت ہے۔

سینیٹ/احتجاج

مزید : صفحہ اول