حکومتی شرائط، نواز شریف کا باہر جانے سے انکار، وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ آج سنائے گی

  حکومتی شرائط، نواز شریف کا باہر جانے سے انکار، وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی ...

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے حوالے سے فیصلہ محفوظ کر لیا جو آج صبح 10بجے سنایا جائے گا کمیٹی اس سے پہلے اپنی سفارشات وفاقی کابینہ کو بھیجے گی۔اس سے قبل کمیٹی نے اپنے اجلاس میں نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کیلئے تین شرائط پیش کیں جن میں ضمانتی بانڈز جمع کرانے، واپسی کی تاریخ سے آگاہ کرنے اور صرف ایک ہی بار جانے کی شرائط شامل ہیں،مگر کمیٹی کے اجلاس میں موجود مسلم لیگ (ن) کے نمائندوں کوئی بھی شرط ماننے سے انکار کر دیا مسلم لیگ ن کے نمائندے عطاء تارر نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ میں ضمانت جمع کرادی اب مزید کسی بانڈ کی ضرورت نہیں، عدالت نے دو ماہ کا ٹائم دیا ہے اس لئے واپسی کیلئے وقت مانگنا بھی درست نہیں دوسری طرف مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف نے جاتی عمری میں نوازشریف سے دیڑھ گھنتہ ملاقات کی اور انہیں نام ای سی ایل سے نکالنے کیلئے حکومتی شرائط سے آگاہ کیا مگر نواز شریف شرائط پر بیرون ملک جانے سے قطعی انکار کر دیا اہل خانہ کے اصرار کے باوجود وہ شرائط پر علاج کیلئے بیرون ملک جانے پر راضی نہ ہوئے۔اس سے قبل وفاقی کابینہ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ(ای سی ایل) سے نکالنے کی مشروط منظوری دے دی۔منگل کو وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مشروط منظوری دی گئی۔ذ حکومت کی جانب سے نواز شریف سے سیکیورٹی بانڈ جمع کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے جس کے بعد ان کا نام ای سی ایل سے نکالا جائے گا۔ سیکیورٹی بانڈ جمع کرانے کی تجویز وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کی سربراہی میں ہونے والے وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں سامنے آئی۔قبل ازیں وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کی سربراہی میں ہوا جس میں نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے حوالے سے شہباز شریف کی درخواست پر غور کیا گیا۔اجلاس میں شہباز شریف کی نمائندگی نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان اور (ن) لیگ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل عطا تارڑ نے کی جب کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے دو نمائندے اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر بھی اجلاس میں شریک تھے۔ اجلاس میں حکومتی اراکین نے مؤقف اپنایا کہ نواز شریف کے علاج سے متعلق بیرون ملک روانگی کے لیے نیب کا واضح مؤقف درکار ہے تاہم اجلاس میں موجود نمائندوں نے واضح مؤقف دینے سے انکار کردیا جس پر ذیلی کمیٹی نے پراسیکویرٹر جنرل نیب کو طلب کیا۔ نیب حکام اجلاس میں مکمل ریکارڈ ساتھ نہیں لائے جس پر کمیٹی نے اجلاس ڈھائی بجے تک ملتوی کیا اور نیب کے رویے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح مؤقف پیش کرنے کی ہدایت دی۔کمیٹی کے سربراہ بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ اس حوالے سے میرٹ پر فیصلہ کیا جائے گا۔ نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کامعاملہ تھوڑا پیچیدہ ہے،بہت سے دستاویزات نیب کو لانا تھیں،فریقین مکمل دستاویزات نہیں لائے جس کی وجہ سے تاخیر ہوئی۔ اجلاس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کیلئے یہ شرط رکھی گئی کہ ضمانت کے طور پر انہیں سیکیورٹی بانڈ جمع کرانا ہوں گے۔ ضمانت وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کی طرف سے شہبازشریف کے نمائندے سے مانگی گئی ہے تاہم کمیٹی کا اجلاس کسی حتمی فیصلے کے بغیر ملتوی ہوگیا۔ اگر نواز شریف کی جانب سے سیکیورٹی بانڈ جمع کرادیا جاتا ہے تو ذیلی کمیٹی ان کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا اعلان کرسکتی ہے اور اب اس کے لیے وفاقی کابینہ سے مزید منظوری کی ضرورت نہیں ہوگی۔ادھر ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کی اکثریت نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی حمایت کی۔ فواد چودھری، علی امین گنڈا پور، فیصل واوڈا، غلام سرور خان، شیریں مزاری اور علی زیدی نے نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کی مخالفت کی اور کہا کہ انہوں نے قوم کا پیسہ لوٹا اور اب باہر جا رہے ہیں۔ مجرم کا ایسے باہر جانا تحریک انصاف کے نظریہ کی مخالفت ہے۔ ماضی میں بھی یہ لوگ حکومتیں کرکے باہر جاتے رہے ہیں۔اراکین کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو اجازت دینے سے تحریک انصاف اور باقی حکومتوں میں کیا فرق رہے گا۔ عوام میں منفی تاثر جائے گا کہ حکومت نے کسی دباؤ میں ان کا نام ای سی ایل سے نکالا۔اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ ہم انسانی ہمدردی کی بنیاد پر یہ فیصلہ کر رہے ہیں۔ نواز شریف کو ان کی مرضی کا علاج کرانے دینا چاہیے۔ یہ بات یقینی بنائیں گے کہ نواز شریف علاج کے بعد واپس آئیں۔ ذیلی کمیٹی ای سی ایل کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرے۔ ذیلی کمیٹی نواز شریف کی فیملی سے مکمل ضمانت لے گی۔حکومتی ترجمانوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نواز شریف قانونی تقاضے پورے کر کے باہر جائیں، حکومت کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گی۔۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا کہ نواز شریف کو صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بیرون ملک بھیجا جا رہا ہے۔ ان کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے قانونی پہلو فروغ نسیم دیکھ رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت نواز شریف کے بیرون ملک علاج کے حوالے سے واضح موقف دے چکی ہے۔ وہ قانونی تقاضے پورے کر کے باہر جائیں، حکومت کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گی۔وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا کہ ڈیل کا تاثر درست نہیں ہے، احتساب کا عمل جاری رہے گا۔ انہوں نے ترجمانوں کو نواز شریف کے علاج سے متعلق حکومتی موقف کا سیاسی تاثر زائل کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہامکمل چھان بین کرائی ہے نوازشریف واقعی بیمار ہیں،نواز شریف کو مرضی کا اعلاج کر انے دینا چاہییوفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ 'نواز شریف کی صحت واقعی تشویشناک ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹروں کی سفارش پر نواز شریف کو علاج کی بہترین سہولتیں فراہم ہونی چاہیے، ااجلاس کے ایجنڈے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ 'مشیر خزانہ نے کابینہ کو اقتصادی اشاریوں اور اقدامات پر بریفنگ دی اور بتایاکہ رواں مالی سال میں جولائی سے اکتوبر تک کے معاشی اہداف حاصل کر لیے گئے، ملکی محصولات کی آمدن طے شدہ اہداف سے زیادہ رہی۔'انہوں نے کہا کہ 'مثبت معاشی اشاریے اقتصادی استحکام کی علامت ہیں جس کے ثمرات عوام تک پہنچائیں گے۔'ان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان مشکل حالات سے نکل آیا ہے اور مشکل معاشی چیلنجز پر قابو پارہا ہے، معیشت کے استحکام کے لیے تمام اشاریے حاصل کیے گئے، اسٹاک مارکیٹ میں تیزی حکومت کی مثبت پالیسیوں کا مظہر ہے جبکہ پاکستان کے مستحکم حالات کے عالمی ادارے بھی معترف ہیں۔'انہوں نے کہا کہ 'وزیر اعظم نے یوٹیلیٹی اسٹورز پر اشیا کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ 6 ارب روپے کی سبسڈی کا فائدہ عوام تک پہنچنا چاہیے، وفاقی حکومت، صوبائی حکومتوں کی کارکردگی پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے اور صوبائی حکومتوں سے ماہانہ کارکردگی رپورٹ مانگی جارہی ہے۔'معاون خصوصی نے کہا کہ صوبوں نے مہنگائی کے خلاف چھاپوں، جرمانوں اور گرفتاریوں کو معیار بنا رکھا ہے، تاہم چھاپوں سے غرض نہیں، قیمتوں پر نظر رکھی جائے گی، جبکہ صوبوں سے کہا ہے کہ اسٹاک رکھنے والوں پر نظر رکھی جائے۔ معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ حکومت نے کامیابی سے اپنے معاشی اہداف کو حاصل کرلیا ہے، ہم صحت مند معیشت کی جانب سے بڑھ رہے ہیں، حکومت نے اپنے معاشی اہداف کو حاصل کرلیا ہے اور معیشت کو درست سمت میں ڈال دیا ہے۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پاکستان کی صحت مند معیشت پر مہر آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک بھی لگارہے ہیں، اسٹاک مارکیٹ میں مثبت اشاریے بھی کامیاب حکومتی اقدامات کا ثبوت ہیں۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ مشکل حالات سے نکلنے کیلئے میڈیا اہم کردار ادا کرسکتا ہے دوسری طرف قومی احتساب بیورو (نیب) نے میاں نواز شریف کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا ہے سابق وزیراعظم بیرون ملک گئے اور واپس نہ آئے تو کون ذمہ دار ہوگا؟نیب ذرائع کے مطابق تین مقدمات میں نواز شریف ملزم ہیں جبکہ ایک میں سزا ہو چکی ہے۔ مقدمات میں حاضری یقینی بنانے کیلئے حکومت طریقہ کار طے کرے۔کہا گیا ہے کہ بیرون ملک جانے کے بعد ملزم پر کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ نیب نے انسانی ہمدردی کے طور پر ضمانت کی مخالفت نہیں کی۔ بیرون ملک بھیجنا وفاقی حکومت کا اختیار ہے۔

مشروط اجازت

لاہور (جنرل رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) پاکستان مسلم لیگ (ن)کے ذرائع نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے معاملے پر کہا ہے کہ انھیں 8 ہفتے کی ضمانت دی گئی، حکومت کس بات کی تاریخ مانگ رہی ہے؟لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ عدالت میں پہلے ہی مچلکے جمع ہیں، 8 ہفتے کی تو ضمانت ہے۔ نواز شریف کے بیرون ملک جانے کیلئے کسی غیر قانونی دستاویز پر دستخط نہیں کئے جائیں گے ادھرپلیٹ لیٹس کی تعداد انتہائی کم ہونے کی وجہ سے سابق وزیر اعظم محمدنواز شریف کی طبیعت بدستور تشویشناک ہے،ڈاکٹروں کی جانب سے بیرون ملک ہوائی سفر کیلئے پلیٹ لیٹس بڑھانے کے لئے سٹیرائیڈز دئیے گئے، ائیر ایمبولینس کی آمد کا وقت ابھی کنفرم نہیں ہوا۔ذرائع کے مطابق نواز شریف کا ان کی رہائشگاہ جاتی امراء میں علاج معالجہ جاری ہے۔ گزشتہ روز پلیٹ لیٹس کی تعداد کم ہونے کے ساتھ ان کا بلڈ پریشر اورشوگرزیادہ رہی۔ میڈیکل بورڈ نے گزشتہ روز بھی مریم نواز سے تفصیلی مشاورت کی۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف کیلئے لندن میں ڈاکٹروں سے دوبارہ کل (جمعرات)کی اپوائنمنٹ لے لی گئی ہے ۔ ڈاکٹروں کی جانب سے نواز شریف کو ہوائی سفر کے دوران ممکنہ پیش آنے والی مشکلات کے تدارک کے لئے مشاورت جاری ہے۔

ن لیگ

مزید : صفحہ اول