نمایاں کارکردگی پر لیگ اسپنر محمداسد قومی ایمرجنگ ٹیم کا حصہ بن گئے

  نمایاں کارکردگی پر لیگ اسپنر محمداسد قومی ایمرجنگ ٹیم کا حصہ بن گئے

  



لاہور(سپورٹس رپورٹر)مسلسل 2 سال نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے ریموٹ ایریاز پروگرام میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے لیگ اسپنر محمد اسد کو قومی ایمرجنگ ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اے سی سی ایمرجنگ ٹیمز ایشیا کپ 12 سے 23 نومبر تک بنگلہ دیش میں شیڈول ہے۔ نوجوان اسپنر محمد اسد کا تعلق خیبرپختونخوا کے شہر صوابی سے ہے۔ 19سالہ لیگ اسپنر محمد اسد کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی صوابی کی سرزمین سے ایک بہترین لیگ اسپنر قومی کرکٹ ٹیم کا حصہ بن چکے ہیں۔ قومی ٹیسٹ کرکٹر یاسر شاہ کا تعلق بھی خیبرپختونخوا کے شہر صوابی سے ہی ہے۔ چند سال قبل ہی اپنے کرکٹ کیرئیر کا آغاز کرنے والے محمد اسد بھی اپنے علاقے کے نوجوانوں کے لیے ایک مثال بننا چاہتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ وہ ایمرجنگ ٹیمز ایشیا کپ میں اپنی کارکردگی سے لیگ اسپن باؤلنگ میں صوابی شہر کے مقام میں مزید اضافہ کریں۔

۔محمد اسد نے اپنے کرکٹ کیرئیر کا آغاز 2017 میں کیا۔ خیبرپختونخوا کے دارلخلافہ پشاور سے 100 کلومیٹر دور واقع صوابی میں محمد اسد گگلی بوائے کے نام سے مشہور ہیں۔ این سی اے ریموٹ ایریاز پروگرام 2017 اور 2018 میں ٹرائلز کے دوران اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے محمد اسد انڈر 19 ریجنل کرکٹ ٹورنامنٹ میں ایبٹ آباد کی نمائندگی بھی کرچکے ہیں۔لیگ اسپنر محمد اسد قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے اہم رکن یاسر شاہ کے مداح ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوابی میں یاسر شاہ اکیڈمی میں پریکٹس کے دوران ان کی صلاحیتوں میں خاطر خواہ نکھار آیا ہے۔ محمد اسد کا کہنا ہے کہ یاسر شاہ ان کے پسندیدہ باؤلر ہیں اور وہ ان کی طرح پاکستان کے لیے نام کمانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اکیڈمی میں ٹریننگ کے دوران یاسر شاہ نے انہیں مفید مشورے دئیے جس پر وہ عمل پیرا ہیں۔ نوجوان اسپنر نے کہا کہ ان کے پاس لیگ اسپن کی تمام ورائیٹز موجود ہیں تاہم ان کا اصل ہتھیار گگلی ہے۔ 19 سالہ اسپنر نے کہا کہ انہیں بچپن سے ہی کرکٹ کا شوق تھا وہ اپنے کزن کے ہمراہ روز کرکٹ کھیلنے گراؤنڈ کے لیے سامان باندھ لیتے تھے۔ نوجوان اسپنر کا کہنا ہے کہ کھیل سے لگن میں وہ اپنے آبائی علاقے کے میدانوں میں دن بھر 6،6 گھنٹے باؤلنگ پریکٹس کرتے تھے۔ لیگ اسپن کا آرٹ سیکھنے میں انہوں نے شین وارن کی ویڈیوز کا بھی بہت سہارا لیا۔محمد اسد کا کہنا ہے کہ ابتدائی ایام میں اہلخانہ نے انہیں کرکٹ کھیلنے پر ڈانٹ ڈپٹ کی مگر نوجوان کرکٹر کی محنت اور جستجو نے جلد ہی انہیں قائل کرلیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی ایمرجنگ ٹیم میں شمولیت کی خبر گھر پہنچیں تو والدہ کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔ لیگ اسپنر نے کہا کہ قومی ایمرجنگ ٹیم کی فتوحات میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے وہ بنگلہ دیش روانہ ہورہے ہیں۔ محمد اسد اسے اپنی منزل کی پہلی سیڑھی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر کھلاڑی کی طرح ان کا ہدف بھی تینوں فارمیٹ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کرنا ہے۔اے سی سی ایمرجنگ ٹیمز ایشیا کپ میں محمد اسد کے علاوہ عمر خان اور محمد محسن اسپن باؤلنگ کے شعبے میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔اسکواڈ میں سعود شکیل (کپتان)، روحیل نذیر (نائب کپتان)(وکٹ کیپر)، حیدر علی، عمیر بن یوسف، حسن محسن، خوشدل شاہ، سیف بدر، عمران رفیق، محمد محسن، عاکف جاوید، محمد حسنین، ثمین گل، عماد بٹ، محمد اسد اور عمر خان،ریزرو کھلاڑیوں میں حسین طلعت، عادل امین، محمد حارث اور عامر علی۔ شامل ہیں۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی