قومی زبان سے آشنائی‘بچوں کیلئے کارٹون فلمیں اردو میں بنائی جائیں

  قومی زبان سے آشنائی‘بچوں کیلئے کارٹون فلمیں اردو میں بنائی جائیں

  



لاہور(فلم رپورٹر)شوبز کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی اس بات سے سو فیصد اتفاق کرتے ہیں کہ کارٹون فلمیں اردو میں بنائی جائیں تاکہ ہمارے بچے اپنی قومی زبان سے آشنائی حاصل کرسکیں۔ بچوں کے موضوعات پر فلمیں اور ڈرامے بننے چاہییں، ہمارے بچوں کو کارٹون کی حد تک محدو د کر دیا جاتا ہے حالانکہ کئی ایسے موضوعات اور مسائل ہیں جو کہ ایک عرصہ سے پس پشت ڈال کر بچوں کی سر گرمیوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔شوبز شخصیات کا کہنا ہے کہ بالی ووڈ اور ہالی وڈ بچوں کے لیے خصوصی طور پر کارٹون اور ٹی وی پروگرام بنائے جارہے ہیں،جس کے ذریعے ان کی تعلیم وتربیت کے ساتھ اپنے کلچر سے بھی روشناس کروارہے ہیں۔بھارت اور یورپی ممالک میں بچوں کیلئے باقاعدہ طور پر علیحدہ چینلز ہیں۔ بچے مستقبل کے معمار ہیں جن کی بہتر تعلیم وتربیت دینے سے ہی وہ ملک وقوم کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرسکیں گے۔شاہد حمید،شان،معمر رانا،مسعود بٹ،پرویز کلیم،میگھا،ماہ نور،شاہدہ منی،محمد قوی خان،لائبہ علی،سہراب افگن،سٹار میکر جرار رضوی،یار محمد شمسی صابری،گلفام،ہانی بلوچ،اچھی خان،ذویا قاضی،مایا سونو خان،ڈیشی راج،آغا قیصر عباس،سدرہ نور،ندا چوہدری،آفرین خان،آفرین پری،آشا چوہدری،عامر راجہ،بی جی،سفیان احمد،انوسنٹ اشفاق،محرمہ علی،عباس باجوہ،آغا حیدر،شین فریال،نادیہ علی،سوھنی بلوچ،اشرف خان،عذرا آفتاب،حیدر سلطان،بابرہ علی،تابندہ علی،ڈاکٹر اجمل ملک،مختار احمد چوہان،فیصل بخاری،چوہدری اعجاز کامران،قیصر ثناء اللہ خان،حاجی عبد الرزاق،پریسہ،حنا ملک،شہزاد چندا،ہنی البیلا،حسن مراد،امان اللہ،نجم زیدی،شمس رانا،عروج،ثمینہ بٹ،سرفراز وکی،بینا سحر،عائشہ جاوید،ابرار ہاشمی،وقاص کیدو،زری لعل،شہہ پارہ،ستارہ بیگ،لکی ڈیئر،طاہر نوشاد،مختار چن،اسد مکھڑا،شجر عباس،نواز انجم،احمد نواز،محسن گیلانی،دلاور ملک،عباس اشرف،افشین اشرف،بینا چوہدری اور دیگر کاکہنا ہے کہ آسکر ایوارڈ یافتہ شرمین عبید چنائے کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ جنہوں نے بچوں کے لئے پاکستانی اینمیٹڈ فلم ”تین بہادر“ بنائی۔ہمارے ملک میں اور بھی اینیمیٹد فلمیں بنائی گئی ہیں جن میں ”ڈونکی کنگ“کو ناقابل یقین پذیرائی ملی ہے۔ معروف کاڑٹونسٹ جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کارٹون فلموں کے حوالے سے بہت سکوپ ہے اور ہمارے فلمسازوں کو جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اس طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بھر میں کارٹونسٹوں کی تعداد بہت کم ہے اس کی وجہ اس شعبے میں معاشی عدم استحکام ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں محض آرٹ کو اپنا کر معاشی مضبوطی حاصل نہیں کی جا سکتی اس کیلئے میرے جیسے جنونی آدمی بہت کم ہیں۔ اس فن کی قدر بیرون ممالک بہت زیادہ ہے مگر پھر بھی مجھے پاکستان میں بطور کارٹونسٹ بہت زیادہ عزت ملی ہے جس کیلئے میں خدا کا شکر گزار رہتا ہوں۔یاد رہے کہ پنجاب اسمبلی میں بھی ایک قراردا پیش کی گئی تھی جس کا متن یہ تھا کہ ملک بھر کے تمام کیبل آپریٹرز کو پابند کیا جائے۔

کہ تمام کارٹون نیٹ ورکس کی ہندی ڈبنگ پر پابندی عائد جائے کیونکہ ہندی زبان کی ثقافتی یلغار ہمارے بچوں کی زبان بگاڑ رہی ہے نیز اردو زبان میں ڈبنگ کو لازمی قرار دیا جائے

مزید : کلچر