صدارتی آرڈیننس کیخلاف ن لیگ کی درخواست پر سماعت،اسلام آبادہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کردیا

صدارتی آرڈیننس کیخلاف ن لیگ کی درخواست پر سماعت،اسلام آبادہائیکورٹ نے وفاقی ...
صدارتی آرڈیننس کیخلاف ن لیگ کی درخواست پر سماعت،اسلام آبادہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کردیا

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آبادہائیکورٹ نے حکومت کی جانب سے 8 آرڈیننس جاری کرنے کیخلاف ن لیگ کی درخواست پر وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کردیا،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو اچھے ایشوز پر آرڈیننس ہیں ،محسن شاہ نوازرانجھا خود ممبر قومی اسمبلی ہیں ان کو وہیں یہ معاملہ اٹھانا چاہئے ۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آبادہائیکورٹ میں حکومت کی جانب سے 8 آرڈیننس جاری کرنے کیخلاف ن لیگ کی درخواست پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی،وکیل ن لیگ عمر گیلانی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 30 اکتوبر کو صدر نے 8 آرڈیننس پاس کئے،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ آرڈیننس کون سے ہیں،کیا ہیں؟وکیل ن لیگ نے کہا کہ جیل میں قیدیوں کے حوالے سے رولز اور قوانین میں تبدیلی کے حوالے سے ہیں ،چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ نے کہا کہ یہ تو اچھے ایشوز پر آرڈیننس ہیں ،محسن شاہ نوازرانجھا خود ممبر قومی اسمبلی ہیں ان کو وہیں یہ معاملہ اٹھانا چاہئے۔

عدالت نے محسن شاہ نواز رانجھا کو روسٹرم پر بلالیا،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ جواچھی چیزیں ہیں وہ آپ اسمبلی میں بحث کر سکتے ہیں،یہ آرڈیننس پبلک انٹرسٹ کے ہیں ،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پارلیمنٹرینزکو یہ محسوس کرناچاہئے کہ وہ معاملات اسمبلی میں حل کر سکتے ہیں ۔چیف جسٹس نے محسن شاہ نوازرانجھا سے استفسارکیا کہ کیا اپوزیشن نے سپیکر کیساتھ یہ معاملہ اٹھایا؟محسن شاہ نواز رانجھا نے کہا کہ جی ہم نے ان کے خلاف سپیکر کو لکھا ہے ۔

عدالت نے کہا کہ درخواست گزار نے آرٹیکل 89 کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا ،درخواست گزار کے مطابق آرڈیننس صرف ایمرجنسی میں جاری کئے جاسکتے ہیں، درخواست گزار کے مطابق مستقل قانون سازی آرڈیننس کے ذریعے نہیں ہو سکتی ،عدالت نے وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کردیا،عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد،اٹارنی جنرل آف پاکستان کو بھی نوٹس جاری کردیئے اور دو ہفتے میں جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

مزید : اہم خبریں /قومی /علاقائی /اسلام آباد