"اصل مسئلہ نیب کے ارکان اور ذیلی کمیٹی کے ارکان کے درمیان ہونے والی بحث ہے کیونکہ نیب نے واضح الفاظ میں ۔ ۔ ۔" نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے میں تاخیر پر حامد میر نے اندر کی بات بتادی

"اصل مسئلہ نیب کے ارکان اور ذیلی کمیٹی کے ارکان کے درمیان ہونے والی بحث ہے ...

  



اسلام آباد (ویب ڈیسک) سابق وزیراعظم نوازشریف کانام تاحال ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نہ نکالا جاسکا، مختلف ذمہ دار محکمے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے کے لیے کوشاں ہیں جبکہ عدالت سے ضمانت ہونے کے باوجود کابینہ بھی اس مسئلے پر متحد نہیں۔

اب سینئر صحافی حامد میر نے انکشاف کیا ہے کہ  اصل مسئلہ نیب کے ارکان اور ذیلی کمیٹی کے ارکان کے درمیان ہونے والی بحث ہے کیونکہ نیب نے واضح الفاظ میں ذیلی کمیٹی کے ارکان کو کہا ہے کہ ماضی میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ نامزد ملزمان کی ضمانت ہوئی ان کا نام ای سی ایل سے نکالا گیا جس کے بعد وہ پاکستان سے باہر گئے اور وہ واپس بھی آئے ، نیب حکام کا کہنا ہے کہ ہم پر دباؤ نہ ڈالا جائےکہ اس حوالے سے ہم لکھ کر دیں نیب نے اس حوالے سے کچھ قانونی ڈاکیو منٹ بھی دیئے ہیں۔

جیونیوز کے مطابق سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے معاملے پر ذیلی کمیٹی نے نیب حکام سے کہا ہے کہ وہ ذیلی کمیٹی کو لکھ کر دیں کہ نواز شریف کے باہر جانے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے جبکہ ڈاکٹر ایاز سے بھی کہا گیا ہے کہ جو شریف میڈیکل سٹی کی رپورٹ ہے اس کو آپ قبول کرتے ہیں ۔

حامد میر کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کا زور اس بات پر نہیں ہے کہ نواز شریف جاکر واپس آتے ہیں یا نہیں آتے، ان کا زور اس بات پر ہے کہ نیب ان کو لکھ کر دے کہ اسے نواز شریف کے بیرون ملک جانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ تمام مقدمات نیب کے ہی دائر کردہ ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ای سی ایل سے نام نکالنے کا اختیار وفاقی حکومت کی پاس ہی ہے اور وہ چاہے تو یہ اختیار استعمال کرسکتی ہے کیونکہ ماضی میں بھی اس قسم کا اختیار ایگزیکٹیو اتھارٹی نے ہی استعمال کیا ہے۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد