آخرعوام وزیرخزانہ سے سترہ روپے کلو ٹماٹر کیوں نہیں لےلیتے ۔۔۔؟؟

آخرعوام وزیرخزانہ سے سترہ روپے کلو ٹماٹر کیوں نہیں لےلیتے ۔۔۔؟؟
آخرعوام وزیرخزانہ سے سترہ روپے کلو ٹماٹر کیوں نہیں لےلیتے ۔۔۔؟؟

  



تحریر: سید عارف مصطفی

جس طرح جہالت کا سب سے برا روپ ہمیشہ علم کے نام پہ ہی نمودار ہوتا ہے عین اسی طرح عوام دشمنی کی سب سے گھناؤنی شکل عوام دوستی کے دعووں کی شکل ہی میں سامنے آتی ہے اور یہی کچھ ہمیں کل وفاقی وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کے اس حد درجہ غافلانہ بلکہ سنگدلانہ بیان کی صورت دیکھنے اور سننے کو ملا کہ جب انہوں نے برسرعام ایک چینل کے نمائندے کو ٹماٹر کی مہنگائی کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں بڑی مکاری سے یہ فرمایا کہ کیسی مہنگائی ۔۔۔ٹماٹر تو سترہ روپے کلو میں مل رہا ہے ۔۔۔۔ جس پہپہلے تو مجھے یہ مغالطہ ہوا کہ انکے ذہن میں روپے کی جگہ ڈالر ہے کیونکہ اس طرح کے عالمی اداروں کے نوکر صرف ڈالروں ہی میں سوچتے ہیں لیکن پھر مجھے اپنی سوچ اس وقت بدلنی پڑی کہ جب اپنے اس شرمناک بیان میں مزید جان پیدا کرنے کے لیئے کمال عیاری سے موصوف نے یہ بھی فرمادیا کہ آپ چاہیں تو منڈی سے قیمتیں چیک کرلیں ۔۔۔؟؟

وزیر خزانہ موصوف کے اس بیان سے دو باتیں سمجھ میں آتی ہیں جن میں پہلی تو یہ ہے کہ وہ بھی اس فرعونیت زدہ سفاک مائینڈ سیٹ کا حصہ ہیں کہ جسے عوام سے کوئی سروکار نہیں اور بے رحم اشرافیہ کے سڑاندی تالاب کے یہ مگرمچھوں کا عوام نام کی کمزور مچھلیوں سے صرف اتنا تعلق ہی ہے کہ وہ انہیں اپنی نہ ختم ہونے والی اشرافی بھوک مٹانے کے لیئے لگاتار ہڑپ کرنے کی سازشیں‌ کرتے رہیں ۔۔۔ دوسرے یہ کہ عین ممکن ہے کہ عبدالحفیظ شیخ اپنی وزارت میں کچھ افسروں اور ٹھیکیداروں پہ ایسی بےتحاشا نوازشات کررہے ہوں کہ جسکے عیوض انہیں 250 روپے کلو والے ٹماٹر صرف 17 روپے میں پہنچائے جارہے ہوں ۔۔۔ اور اس نسبت سے تو انہیں آٹا بھی شاید 4 - 3 روپے کلو اور گھی 4-5 روپے کلو فراہم کیا جارہا ہوگا اور یوں راوی تو انکے باب میں سب چین ہی چین لکھتا ہوگا ۔۔۔ حالانکہ موصوف کی اپنی مالی حیثیت اس قدر بھاری بھرکم ہے کہ اگر انہیں آٹا موجودہ قیمت 60 روپے کلو کے بجائے 100 گنا قیمت پہ یعنی 6 ہزار روپے کلو بھی خریدنا پڑے تو انہیں مطلق پریشانی نہ ہوگی ۔۔ مجھے یقین ہے کہ ان حضررت نے تو شاید کبھی اپنے گھر کے لیئے اجناس کی خریداری خود کرنے کی زحمت بھی نہیں کی ہوگی ۔۔۔ اور یہ کرپشن والی بات میں اپنی طرف سے نہیں کہ رہا بلکہ ملکی خزانے کی لوٹ مار کا وہ مشہور الزام ہے کہ جو عمران خان زرداری حکومت پہ لگاتے چلے آئے ہیں اور اس کرپٹ دور میں خزانے کی چابیاں انہی شیخ صاحب کے پاس تھیں ( اور یہ تو ایسی واقعاتی حقیقت ہے کہ جسے کوئی بھی نہیں جھٹلاسکتا )

یوں ناقابل تردید واقعاتی بنیاد پہ شیخ صاحب تو خود عہد زرداری میں خزانے کی اس لوٹ مار کے براہ راست اور بڑے ذمے داروں میں شامل ہیں تو پھر اب بھی یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ وہ تائب ہوگئے ہیں کیونکہ ۔ ع- چھٹتی ہے کب منہ سے یہ کافر لگی ہوئی ۔۔۔۔ خاص طور پہ انکے اس بیان کے بعد کہ ٹماٹروں کی قیمت 17 روپے کلو ہے تو یہ کرپشن والا شک تو اور بھی تقویت پارہا ہے اور اب یہ کیا جانا چاہیئے کہ ایک کمیشن بناکے یہ چھان بین کی جائے کہ وہ کون لوگ ہیں کہ جو انہیں ٹماٹر 17 روپے کلو میں فراہم کررہے ہیں اور کیوں کررہے ہیں ۔۔۔؟ ۔۔۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کمیشن بنائے کون ، کیا حکومت ۔۔۔ نہیں ہرگز نہیں کیونکہ وہاں ہی سے تو یہ ستم طریفانہ قیمت بیان ہوئی ہے ۔۔۔ تو پھر کیا اپوزیشن یہ کمیشن بنائے ۔۔۔ لیکن اس میں تو وہی پیپلز پارٹی شامل ہے کہ جسکی لوٹ مار کی ہوشربا داستانوں کے کرداروں میں ایک اہم کردار اسکے سابق اور اب حالیہ وزیرخزانہ کا ہے ۔۔۔ رہی عدلیہ تو اسکےلیئے لاکھوں معلق کیسیز کی فائلوں کا دردسر کیا کم ہے جو وہ یہ بکھیڑے مول لے گی ۔۔ اب تو لے دے کہ یہ سب جھنجھٹ عوام کے ذمے ہے کہ وہ اپنے اس خلاء میں تیرتے وزیرخزانہ کو زمین پہ لے کے آئیں اور اس کو پکڑ کر مجبور کریں کہ وہ پورے ملک کو 17 روپے کلو میں ٹماٹر دلوائے ورنہ عوامی پکڑ میں آکے اپنی تشریف کو ٹماٹر کی طرح لال کردیئے جانے کو اپنا مقدر جانے...!!

 ۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ