مولانا فضل الرحمان نےآزادی مارچ سے’’ کیا کھویا اور کیا پایا ‘‘سینئر صحافی کامران خان نے کھل کر بتا دیا

مولانا فضل الرحمان نےآزادی مارچ سے’’ کیا کھویا اور کیا پایا ‘‘سینئر ...
مولانا فضل الرحمان نےآزادی مارچ سے’’ کیا کھویا اور کیا پایا ‘‘سینئر صحافی کامران خان نے کھل کر بتا دیا

  



کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینئر صحافی اور تجزیہ کار کامران خان نے کہاہے کہ مولانا فضل الرحمان کو 2018 کے الیکشن نے سیاست کا 12واں کھلاڑی بنا دیا تھا تاہم ’’دھرنے‘‘کے اختتام پر وہ پاکستانی سیاست کے انتہائی اہم اوپننگ بیٹسمین  بن چکے ہیں،شاہرائیں  بند کرنے اور ملک گیر دھرنوں  کے بعد بھی وزیر اعظم کا استعفیٰ ملنا ممکن نہیں،مولانا فضل الرحمان حزب اختلاف نہیں جے یو آئی کی نمائندگی کر رہے ہیں اور دھرنے کے اختتام پر عملا وہ تنہا ہو چکے ہیں لیکن اُنہوں نے جو  کچھ’’حاصل‘‘کیا ہے وہ بہت زیادہ ہے۔

نجی ٹی وی چینل ’’دنیا  نیوز‘‘ کے پروگرام’’نقطعہ  نظر‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی کامران خان کا کہنا تھا کہ مولانافضل الرحمان  نے سیاسی لحاظ سے کچھ نہیں کھویا،اگر تھوڑا بہت کھویا ہے تو وہ دھرنے کے اختتام میں کچھ دن تاخیر کر کے کھویا ہے ورنہ اُنہوں  نے سیاسی میدان مارا ہے،اس وقت وہ پاکستان میں حزب اختلاف کے سب سے موثر اور سب سے چوٹی کے لیڈر بن چکے ہیں،2018 کے انتخابات میں انہیں سیاست کا بارہواں کھلاڑی بنا دیا تھا تاہم اب وہ  انتہائی اہم اور پاکستانی سیاست کے اوپننگ بیٹسمین بن چکے ہیں،ان کی جماعت کی بہت بھر پور انداز میں واپسی ہوئی ہے،یہ وہ تمام چیزیں ہیں جو اُنہوں نے ’’آزادی مارچ‘‘ سے حاصل کی  ہیں ۔

اُنہوں نےکہاکہ شائدمولانافضل الرحمان کی یہ مِس کیلکو لیشن تھی کہ اُنہوں نےایک ہی ہدف رکھاتھاکہ  وہ عمران خان کی حکومت گرادیں گے،اُن  سے استعفیٰ لے لیں گےاورنئےالیکشن پر مجبور کر دیںگے،یقینا یہ اُن کے لئے ناممکن ہدف تھالیکن جو اُنہوں نے حاصل کیا ہے وہ بھی بہت زیادہ ہے۔اُنہوں نےکہا کہ مولانا فضل الرحمان نے پورا ملک بند کرنے کا اعلان کیا ہے، مان لیجئے کہ ایسا ہی ہو اور ملک کی اہم شاہرائیں بند ہو  جائیں لیکن یہ ہم پہلے دیکھ چکے ہیں ،اِس طرح کے دھرنے اور سڑکیں پہلے بھی بند ہو چکی ہیں اورطویل عرصے کےلئےبند ہوئی ہیں،یہ کوئی  بہت پرانی  نہیں بلکہ حالیہ دنوں  کی باتیں ہیں،اِس  پر  عملدرآمد  بھی ہو جائے اور مولانا کے اعلان کی بہت مثالی پرفارمنس بھی آ جائے تو   تو اس کا کوئی نتیجہ نکلتا دکھائی نہیں دیتا،ماضی قریب میں پورے پاکستان میں اِس سے کہیں زیادہ مقامات پر شاہرائیں رو کی گئیں ہیں،دھرنے ہوئے اور دارالحکومت کو کاٹ دیا گیا تھا پورے پاکستان سے ،یہ سب کچھ ہوا ہے ، مگر اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ۔کامران خان  نے کہا کہ مولانا حزب اختلاف کی نہیں جے یو آئی کی نمائندگی کر رہے ہیں،آخری لمحات میں وہ عملا تنہا کھڑے ہیں،پیپلز  پارٹی اور مسلم لیگ ن کی لیڈر شپ ان کے ساتھ کینٹینر پر موجود  نہیں ہے،مولانا نے دونوں جماعتوں کی لیڈر شپ کو کینٹینرپر چڑھا تو دیا لیکن جب وہ سیڑھیاں اترےتو پھر بعد میں وہ اِس کینٹینر پر نہیں چڑھے۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی