فردِ جرم کا موسم

فردِ جرم کا موسم
فردِ جرم کا موسم

  

شیدے ریڑھی والے کا کہنا ہے کہ ملک میں آج کل فردِ جرم عائد کرنے کا موسم آیا ہوا ہے، پہلے یہ موسم آتے آتے کہیں راہ میں گم ہو جاتا تھا اور  کئی برس اُس کے انتظار میں گزر جاتے تھے۔ اب اس موسم کی زد میں پہلے آصف علی زرداری اور اب شہباز شریف و حمزہ شہباز آچکے ہیں۔کل حکومت کے مشیر احتساب شہزاد اکبر کی یہ بات سن کر حیرت ہوئی کہ فردِ جرم عائد ہونے کا مطلب یہ ہے کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر منی لانڈرنگ کا جرم ثابت ہو گیا۔حکومت میں بھی کیسے کیسے بے صبرے شیدو وزیر پڑے ہیں،اگر فردِ جرم عائد ہونے کا مطلب واقعی وہی ہے،جو شہزاد اکبر نے بیان کیا ہے تو پھر ٹرائل کی کیا ضرورت باقی رہ گئی ہے؟ سیدھی سزا سناؤ اور جان چھڑاؤ۔ ایک عام سے وکیل کو بھی پتہ ہے کہ فردِ جرم عائد کرنا درحقیقت ایک الزام لگانا ہوتا ہے اور ملزم کو یہ موقع دیا جاتا ہے کہ وہ اِس الزام کو غلط ثابت کرے۔اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہوتا کہ جرم ثابت ہوا ہے تو فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔ شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف نے فردِ جرم کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے،اِس سے پہلے آصف علی زرداری بھی اپنے خلاف لگنے والی فردِ جرم کو خلافِ حقائق قرار دے چکے ہیں۔

کیا ہم اس بات پر نیب اور شہزاد اکبر کے حق میں تالیاں بجانا شروع کر دیں کہ وہ فردِ جرم عائد کرانے میں کامیاب رہے ہیں، کیا یہ کوئی پہلا موقع ہے کہ نیب نے احتساب عدالت سے فردِ جرم عائد کروائی ہے؟ ایسے تو درجنوں نہیں بیسیوں کیس  ہیں،جن میں فردِ جرم عائد کرنے کا مرحلہ کئی سال ہوئے گذر چکا ہے،مگر اُن کا فیصلہ نہیں ہوا۔نیب کے پراسیکیوٹرز کا امتحان تو اسی مرحلے سے شروع ہوتا ہے، جب انہوں نے اپنے الزامات کے ثبوت پیش کرنے ہوتے ہیں۔اصولاً یہ مرحلہ چند ہفتوں میں مکمل ہو جانا چاہئے،مگر شیطان کی آنت بن جاتا ہے،جس سے یہ شبہ ابھرتا ہے کہ نیب کا مقصد مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے ہی نہیں،بلکہ انہیں کسی خاص مقصد کے لئے تعطل کا شکار رکھا جاتا ہے۔گذشتہ دو برسوں میں نیب نے منی لانڈرنگ، ٹی ٹیز اور فیک اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی ٹرانزیکشن ظاہر کی ہے۔دھوبی، کریانہ فروش، مزدور، گوالے اور نجانے کون کون سے کردار ایسے ظاہر کئے ہیں،جن کے نام پر منی لانڈرنگ کی گئی، درجنوں ملازمین بھی پکڑ رکھے ہیں،جن میں سے  کئی وعدہ معاف گواہ بھی بن گئے ہیں۔بظاہر یہ کہانی مکمل نظر آتی ہے،لیکن احتساب عدالت میں نیب کی ہوا نکل جاتی ہے،وہاں یہ الزام ثابت نہیں ہوتے یا پھر نیب جان بوجھ کر مقدمے کو طول دیتا ہے۔اب چاہئے تو یہ کہ جن مقدمات میں فردِ جرم عائد ہو چکی ہے، نیب انہیں ہر کام پر ترجیح دے، خود سپریم کورٹ بھی اب تو یہ حکم دے چکی ہے کہ احتساب عدالتیں زیر التواء مقدمات کو جلد نمٹائیں، اِس لئے کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ ان مقدمات کے فیصلے نہ آ سکیں،مگر ہو گا یہی کہ ایک طرف ملزموں کے وکلا اور دوسری طرف خود نیب کے پراسیکیوٹر تاریخ پر تاریخ لیں گے، معاملہ اتنا طول کھینچے گا کہ بالآخر شہباز شریف اور حمزہ شہباز ضمانت پر باہر آنے کے حقدار ٹھہریں گے۔

پاکستان میں احتساب مذاق بنا ہی اِس لئے ہے کہ اس میں سزائیں نہیں ہوتیں، بس گرفتاری ہوتی ہے، مقدمہ بنتا ہے، فردِ جرم عائد ہوتی ہے اور اس کے بعد ٹائیں ٹائیں فش۔پیپلزپارٹی والے بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ آصف علی زرداری کا 30برسوں سے احتساب ہو رہا ہے،ثابت کچھ بھی نہیں ہوا، نہ ہی کسی مقدمے میں انہیں سزا ہوئی ہے۔ اب یہ ہے تو شرمناک بات اُن اداروں کے لئے جنہوں نے آصف علی زرداری کو بار بار گرفتار کیا، بلند و بانگ دعوے کئے، مگر سزا نہ دلوا سکے۔

کچھ یہی حال شہباز شریف کا بھی ہے، نیب کے تفتیش کار اُن کی کرپشن کے ایسے ایسے قصے سناتے ہیں کہ انسان کے چودہ طبق روشن ہو جاتے ہیں، لیکن ثابت کرنے کی باری آتی ہے تو نیب والے ہاتھ کھڑا کر دیتے ہیں، 56 کمپنیوں اور صاف پانی کیسوں کی مثال سامنے ہے۔کیسے کیسے انکشافات نہیں کئے گئے تھے۔احد چیمہ جیسے دست ِ راست کو بھی پکڑ لیا گیا تھا، ٹی وی چینلوں کے ذریعے ثبوتوں کے انبار لگا دیئے جاتے تھے، مگر سب نے دیکھا کہ نیب نے خود ہی ان کیسوں کو ختم کر دیا۔ شہباز شریف کو کلین چٹ دے دی۔ اس کے بعد کچھ عرصہ خاموشی رہی،اس کے ختم ہوتے ہی شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف کے خلاف منی لانڈرنگ کیس سامنے آ گیا۔ ہاں اتنا ضرور ہے اِس بار نیب تفتیش کو فردِ جرم تک لے آیا ہے، وگرنہ وہ راستے ہی میں ہانپنے لگتا ہے۔

اگر نیب واقعی اپنے شفاف احتساب کی دھاک بٹھانا چاہتا ہے اور یہ بھی چاہتا ہے کہ اُس پر سیاسی انجینئرنگ کا الزام نہ لگے تو پھر آصف علی زرداری، شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف جن کیسوں میں فردِ جرم عائد کی گئی ہے،انہیں منطقی انجام تک پہنچائے۔اِس بات سے خوفزدہ نہ ہو کہ کیسز اپنی فطری رفتار سے آگے بڑھے اور عدالت میں ثابت نہ ہو سکے تو نیب کی بہت سبکی ہو گی،فیصلہ خلاف بھی آ سکتا ہے۔نواز شریف کے ایک کیس میں بھی نیب عدالت نے انہیں بری کر دیا تھا،اُس کے خلاف اپیل کی جا سکتی ہے،لیکن اگر اُسے کسی خوف سے لٹکا دیا جاتا ہے، تو یہ زیادہ شرمناک بات ہے۔اس میں شک نہیں کہ آصف علی زرداری کی طرح شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف کی طرف سے بھی چوٹی کے وکیل مقدمات کی پیروی کریں گے،

جو اُن کا حق ہے۔نیب کے پراسیکیوٹرز کو اپنا مقدمہ ثابت کرنا ہے،اگر اُن کے پاس واقعی اتنے ثبوت اور شواہد ہیں،جتنے میڈیا کے ذریعے طشت ازبام کئے گئے ہیں،تو پھر انہیں سارا زور اِس بات پر دینا چاہئے کہ مقدمے کی سماعت بلاتعطل ہو اور بلاوجہ تاریخیں نہ ڈالی جائیں۔نیب کے لئے یہ ٹیسٹ کیسز ہیں،اگر وہ اپنے الزام ثابت کرنے میں کامیاب رہتا ہے تو اُس کے کئی داغ دھل جائیں گے اور اگر اُس کے الزامات عدالت میں بے بنیاد ثابت ہوتے ہیں تو رہی سہی ساکھ بھی ختم ہو جائے گی۔

مزید :

رائے -کالم -