حالیہ تعلیمی نتائج اور اس کے ممکنہ نتائج  

حالیہ تعلیمی نتائج اور اس کے ممکنہ نتائج  
حالیہ تعلیمی نتائج اور اس کے ممکنہ نتائج  

  

گزشتہ دنوں مختلف تعلیمی بورڈوں کی طرف سے نو یں،دسویں،گیارہویں، اور بارہویں جماعتوں  کے نتائج کا اعلان کیا گیا  جس میں تقریبا پچاس فیصد طلبہ نے گیارہ سو میں سے ایک ہزار پچاس سے زیادہ نمبر حاصل کیے سب سے پہلے تو میری طرف سے تمام کامیاب ہونے والے طلبہ و طالبات کو بہت بہت مبارک ہو اللہ کریم زندگی کے ہر میدان میں کامیابیوں کو آپ کا مقدر کر دے، آپ تمام احباب ملک و قوم کی ترقی، نیک نامی اور روشن مستقبل کا سبب بنیں آمین۔

معزز قارئین ا کرام جب سے ڈیرے دار نے ہوش سنبھالی ہے ایسا رزلٹ نہیں دیکھا خیر کوئی بات نہیں بہت سی چیزیں زندگی میں پہلی دفعہ دیکھنی پڑتی ہیں چلیں ایک اور سہی ……یہاں پر دو باتیں جو زیادہ غور طلب ہیں ایک تو یہ کہ ایسے طلباء  و طالبات جو واقعہ ہی لائق ہیں اور انہوں نے امتحانات کے لیے بہت زیادہ محنت سے تیاری کی چھٹیوں میں وقت ضائع نہیں کیا بلکہ اس وقت کو غنیمت جان کر پہلے سے بھی زیادہ محنت کی امتحانات دیے  اللہ کریم نے انہیں ان کی محنت کے صلہ کے طور پر بہت اچھے نمبروں کے ساتھ کامیابی سے نوازا اور یہ لوگ اسی کے مستحق تھے اور ان شاء اللہ العزیز یہی لوگ مستقبل میں ڈاکٹرز انجینئرز،بینکرز اور صحافی  بن کر ملک و قوم کے لئے اپنی خدمات سرانجام دیں گے لیکن یہاں پر دوسری اور خطرناک بات یہ ہے کہ وہ طلبا جو بہت زیادہ لائق نہیں تھے اور انہوں نے پیپر بھی ایسے نہیں دیے تھے کہ اتنے نمبر حاصل کر سکتے لیکن آج وہ بھی انہی طلباء کی صف میں کھڑے ہو گئے ہیں۔ مستقبل میں خدانخواستہ ان  نتائج کے جو نتائج برآمد ہوں گے ان میں سے چند ایک پیش خدمت ہیں۔

  سب سے پہلے مرحلے میں تو وہ طلبہ آتے ہیں جو اس سے پہلے چالیس پچاس فیصد نمبروں سے پاس ہوتے رہے، لیکن آج وہ سب کے سب ایف سی کالج،گورنمنٹ کالج اور دوسرے بڑے اداروں میں رکھے گئے میرٹ پر  پورا اتر آئیں گے اب  یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ  اگر یہ سب کے سب پری میڈیکل،پری انجینئرنگ،کامرس میں داخل ہوگئے تو یہ ایف ایس سی میں نہیں چل سکیں گے خدانخواستہ آئندہ چند سالوں میں فیل ہو کر ایک مایوس اور ہاری ہوئی زندگی کی طرف چل نکلیں گے جس سے معاشرے میں ناکام تصور کیے جانے والے لوگوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوجائے گا اور پھر یہی لوگ معاشرے کے لئے دیمک کا کردار ادا کریں گے اور اگر اگلے دو سال بھی پی ٹی آئی کی حکومت ہی رہتی ہے اور یہی لوگ ایم بی بی ایس اور انجینئرنگ میں پھر سے  کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ اس سے بھی زیادہ خطرناک ہوگا، کیونکہ جب یہ لوگ ڈاکٹرز اور انجینئرز بن جائیں گے تو  ان سے کس قسم کے علاج اور انجینرنگ کی توقع کی جاسکتی ہے یہ آپ  بہتر جانتے ہوں گے موجودہ حکومت نے جس طرح وطن عزیز کو زندگی کے ہر میدان میں تباہ کیا ہے وہ نقصان تو شاید کسی نہ کسی طرح پورا ہوہی جاتا لیکن انہوں نے جو ظلم بچوں کے ساتھ کیا ہے یہ ان ہزاروں کامیاب ہونے والے طلبہ و طالبات کو ناکام زندگی کی طرف دھکیل دے گا، جس کے نتائج آنے والی نسلیں بھگتیں گی میرا خیال تو یہ تھا کہ موجودہ حکمرانوں کو پاکستان کو برباد کرنے کے لیے لایا گیا ہے لیکن شاید میں غلط تھا

انہیں تو ہماری نسلیں برباد کرنے کے لیے لایا  گیا ہے مختلف بورڈز  نے تو نتائج کا اعلان کردیا اور اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو گئے اب اگر کسی حکومتی نمائندے کے پاس وقت ہو تو کسی ادارے کا چکر لگا کر آئے تو انہیں پتہ چلے گا کہ اس وقت جو تعلیمی اداروں کی داخلہ کمیٹیوں پر بیت رہی ہے وہ پریشان ہیں کہ اگر سب کے سب پری میڈیکل اور پری انجینئرنگ کے میرٹ پر پورے اترتے ہیں تو اتنے مستقبل کے ڈاکٹرز اور انجینئرز کو پڑھانے کے لئے اتنے سائنسی مضامین کے اساتذہ ا کرام کا انتظام کہاں سے کریں گے اتنے کلاس رومز کہاں سے لائیں گے اگر سب نے میڈیکل اور انجینئرنگ کے لیے رکھی گئی میرٹ لسٹ کو عبور کر لیا ہے تو کامرس اور آرٹس کے مضامین پڑھانے والے اساتذہ اکرام کہاں جائیں گے اور فرض کریں اگر یہ ادارے پہلی میرٹ لسٹ پر آنے والے تمام طلباء کو ڈاکٹرز اور انجینئرز بنا دیتے ہیں تو ان کا مستقبل کیا ہوگا؟ کیا گورنمنٹ اور پرائیویٹ سیکٹر مل کر اتنی نوکریاں دے سکیں گے؟یا پھر  یہ ڈاکٹرز  ایم بی بی ایس کر کے جنرل سٹور، ٹیکسی، کوریئر سروس یا پیزا ڈیلیوری کا کام کریں گے کیا حکومت کے کسی ذمہ دار کے پاس اس سوال کا جواب ہے یا انہوں نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ ہم نے کونسا دوبارہ کبھی حکومت میں آنا ہے جو عوام کے سوالوں کا جواب دیتے پھر یں  ویسے بات بھی سچ ہے۔ جتنا مال  انہوں نے سمیٹ لیا ہے حکومتی  مدت پوری کرنے کے بعد ان کا پاکستان میں رہنا بنتا بھی نہیں۔

آنے والی حکومتیں عوام کو جواب دیتی پھر یں گی، بہرحال اس خطرناک صورت حال کے باوجود میں بارگاہ الہٰی سے دعا گو ہوں کہ اے میرے رب کریم ہمارے بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے انہیں بہتر راستہ دکھا دے۔ بے شک تو ہی بہتر راستہ دکھانے والا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -