قادیانیت ایک مطالعہ!     (2)

قادیانیت ایک مطالعہ!     (2)
قادیانیت ایک مطالعہ!     (2)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


ابھی کچھ زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ حسب منشاء فضاء سازگار پاکر دوسرا شخص آگے بڑھا اور یہ دعویٰ داغ دیا،میں بھی وہی کچھ ہوں کہ جو کچھ، مسلمان تاجدار مدینہ ﷺ کو جانتے اور مانتے ہیں۔بالفاظ دیگر وہ کہہ رہا تھا کہ میں ایساکبھی ان ﷺ کے جیسا ہوتا ہاں!اپنے تئیں تکلفاً و مصلحتاً ظلی و بروزی قرار دے لیا۔ظلی نبوت و بروزی رسالت!اٹھارہویں صدی کے راج آخر میں،جیسا کہ سب جانتے ہیں،عیسائی و آریہ سماجی مبلغین نے مسلمانان ہند کے خلاف ایک طوفان اٹھا رکھا تھا ہندو اور عیسائی مبلغ غلیظ و رذیل زبان وبیان کے ہتھیاروں سے مسلح تھے،جبکہ مسلم ادیب وخطیب عموماً روایتی تہذیب وشائستگی کے پھندوں میں گرفتار!اس عرصہ میں مرزاصاحب سیالکوٹ کچہری میں ”اہلمد“ہوتے تھے مولویانہ ومناقشانہ لٹریچر کا انہیں چسکا لگ  چکا تھا جہاں،جب اور جیسے موقع ملتا،وہ عیسائیوں  پادریوں اور آریہ سماجیوں سے الجھ پڑتے۔اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جاتا،یہی جارحانہ لب و لہجہ اور انداز مزاحمت و مخامت ان کی ابتدائی وجہ شہرت بنا۔یہ ہندووں اور عیسائیون کے مدمقابل میدان میں کیا اترے،ان ہی کا ساطور وطریق اپنا لیا گالیوں کے جواب میں صاف شفاف گالیاں،اور دشنام کے جواب میں مرقع و نستعلیق دشنام! نتیجتاً،کہاجاتا ہے،ہندو اور عیسائی اپنا سا منہ لے،بلکہ چھپا کے رہ گئے مہاتما گاندھی،تاریخ کے پیچ و خم میں البتہ ایک اور موقف رکھتے ہیں انہوں نے ”ینگ انڈیا“ میں اپنا نقطہ نظر واضح کرتے ہوئے لکھا ”قادیانی مولویوں“کے قابل اعتراض رویہ ہی کے سبب ردعمل میں تحریک شا  لمیت رسول ﷺ وجود میں آئی تھی خواہ کچھ بھی ہو،حقیقت حال یہ ہے کہ مرزاغلام احمدقادیانی کا یہ طرزِ زبان وبیان عوام میں بطور خاص مقبول ہوا،اور اس پس منظر میں ان کی تحریر و تقریر کا سلسلہ چل نکلا۔یہ اس عہد کے پیش آمد ہ حالات و واقعات کی وہ لہر تھی،جو مرزا صاحب کو قریہ گمنامی میں سے شہر ناموری کی جانب اڑا لے گئی!تاریخ گواہ ہے کہ آغاز کا ر میں فرزند قادیان کی لن ترانی نے تجددپسند حلقوں ہی میں راہ پائی،آخر کیوں؟میں کئی بار یہ سوچتا ہوں شائد اس لئے کہ جدت گزیدہ مکتبہ ہائے فکر کا عمومی تصور رسالت،حقیقی اہل سنت کے تصور ولائت سے بھی کمتر درجہ رکھتا ہے،صحیح یا غلط،سنیوں کے نزدیک پوری کائنات کو اپنی ہتھیلی کی مانند دیکھنا،قیامت تک کی خبر رکھنا اور مردوں کو جلا دینا اولیاء کا روزمرہ ہے ایک بالکل معمولی معمولی!بالغرض،اگر ان کے حقیقی یا قیاسی تصور کے مطابق،ایک ولی کی یہ شان و شوکت ہے تو پھر نبی کے علم و مرتبت  کا کیا بیان! اور امام الانبیاء ﷺ  کی ذات وصفات  کی نسبت سے حسن تصور اور تصور حسن کا کیا ہی کہنا!  سب سے افضل و اعلیٰ اور ہربالا سے بالا!! اجدازخدا بزرگ ترین ہستی،کہ جس سے خدائی کے سوا کئی بھی کمال نہیں چھوٹا،کارخانہ قدرت کا وہ پھول کہ ہر اوج رفعت جس کے پاؤں کی دھول ہے،خود آپ ﷺ ہی اپنی مثال ایک بے مثال! رسول ﷺ کا تو برا مقام وعالی مرتبہ ہے۔اتنا برا کہ ذہن میں آ،اور گماں میں سمابھی نہیں سکتا۔ان کے عقیدہ و نظریہ کی رو سے کسی صحابی کا ہم پایہ،امام کا ہم سایہ،تابعی کا ہم پلہ اور تبع  تابعی کا ہم درجہ بھی کوئی نہیں ہوسکتا حضور داتا گنج علی ہجویری ؒ اور غوث الاعظم سیدنا عبدالقادر جیلانی  ؒکا بھی کوئی ہم مثل و ہم درجہ اب کوئی کبھی نہیں آئے گا باوجود یکہ موخرالذکر عقیدت واردات کی بنیاد میں کوئی شرعی حجت قائم ہے،نہ قرآنی نص موجود!  وہ لوگ جو اپنے صوفی بزرگوں کے برابر بھی کسی کی آمد کر جاننے یا ماننے کے لیے تیار نہ ہوں،بھلا ان کے دل و دماغ میں نئے نبی کا تصور و نقش بٹھا لینا کیونکہ ممکن ہوگا یہ ”کاروبار“ وہاں اور صرف وہاں چل سکتا تھا، جہاں ایسا امر و عمل از قبیل  ممکنات میں سے ہو،طویل غور وتدبر اور ٹھوس براہن کے استباط سے میری یہ پختہ رائے ہے کہ اگر قلب وسینہ میں نبی آخر الزمان ﷺ کے ساتھ غیر مشروط محبت و عقیدت اور لامحدود وفاداری و جذبہ جاں سپاری موجود ہوتو کسی بھی طالع آزما  کے لیے کبھی کوئی گنجائش نہیں اس کے برخلاف شعبدہ بازی اور استدا راج کے سانپ ان کو کیوں نہ ڈسیں گے۔
   (جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -