معاملہ آرمی چیف کی تعیناتی کا

معاملہ آرمی چیف کی تعیناتی کا
معاملہ آرمی چیف کی تعیناتی کا

  

بظاہر ایک تعیناتی کا مسئلہ تو حل ہوا ۔۔۔  اخباری اطلاعات یہ ہیں کہ لندن میں شرفاء کی ملاقات میں سینیئر ترین جنرل کو آرمی چیف لگانے کا فیصلہ ہوگیا ہے ۔۔۔ اور چونکہ ہرطرف شائع ہوجانے والی ان خبروں‌کی کوئی تردید بھی(ن )لیگ کی جانب سے نہیں کی گئی چنانچہ اسی بات پہ یقین کرنا ٹھہر گیا ہے ۔۔۔کیونکہ معاملہ ٹیکنیکل ہے فوری تردید بھی ممکن نہ تھی اوراب تاخیر سے تردید تو بے حد خطرناک ہوگی کیونکہ میڈیا میں یہ خبر آجانے اور بہت دیر تک اس کی تردید نہ ہونے کے بعد سینیئر ترین جنرل بھی ذہنی طور پہ خود کو 4 سٹارز جنرل باور کرچکے  ہوں‌گے اور چارج سنبھالنے کی تیاریاں شروع کردی ہوں گی ایسے میں اس خبر کا پلٹ جانا اب سینیئر ترین جنرل کا تماشا بنانے کے مترادف ہوگا ۔۔۔ اس وقت آرمی میں باجوہ صاحب کے بعد سیناریٹی میں دوسرا نمبر جنرل عاصم منیر کا ہے لیکن انکی تعیناتی کا باقاعدہ اعلان 27 نومبر سے بھی پہلے ہونا ضروری ہے ورنہ وہ باجوہ صاحب سے بھی 2 روز پہلے ریٹائر ہوجائیں گے ۔

یہاں‌یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ  یہی وہ جنرل صاحب ہیں‌کہ جو ایک وجہ سے شریفوں کو وارا کھاتے ہیں تو ایک وجہ سے نہیں بھی کھاتے ۔۔۔ لیگ کے حق میں جو وجہ ہے وہ یہ ہے کہ ان جنرل صاحب نے خان صاحب کو اس وقت بہت سخت ناراض کردیا تھا کہ جب انہوں‌نے ڈی جی آئی ایس آئی کی حیثیت میں خاتون اؤل اور انکی سہیلی کی ایک بدعنوانی کی اطلاع  اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کو دی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ کسی کا کوئی کام کرانے کے عوض ان خواتین نے ہیروں کا کوئی ہار بطور تحفہ وصول کیا ہے اور جس پہ انہیں انکے مںصب سے ہٹوا دیا گیا تھا   ۔۔۔ لیکن وہ وجہ جو بظاہر (ن) لیگ کے لئے عاصم منیر کے خلاف  جاتی ہے وہ انکا سخت پیشہ وراصولی اور مذہبی ہونا ہے اور ایسا بندہ آسانی سے کسی غلط کام کے لئے ساتھ نہیں دے سکتا ،( واضح رہے کہ وہ کیڈٹ شپ کےامتحان میں بہترین کارکردگی کی بناء پہ شمشیر اعزازی یافتہ ہیں جو کہ پروفیشنلی بہت بڑا اعزاز ہوتا ہے دوسرے یہ کہ انہوں نے 40 برس کی عمر میں قرآن حفظ کیا ہے) ۔۔  ایسے 'خطرناک'کوائف والا آدمی تو عالمی طاقتوں کو بھی وارا نہیں کھاتا کیونکہ جس کی ریڑھ کی ہڈی کی طاقت نور ایمان سے منسلک ہو، اس سے ہی تو ان طاقتوں کو تپ چڑھتی ہے ۔ 

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطۂ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

 ۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -