دُہری شہریت، اصل حقیقت کیاہے؟

دُہری شہریت، اصل حقیقت کیاہے؟
دُہری شہریت، اصل حقیقت کیاہے؟

  

جب دُہری شہریت کے حوالے سے کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت کا آغاز ہوا تو ابتداءمیں ہی یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ آگے چل کر اس کیس کے حوالے سے پیدا ہونے والا ارتعاش ایک بڑے زلزلے کی صورت اختیار کر لے گا۔ پھر ایسا ہی ہوا ۔ابتدائی سماعت کے دوران ہی رحمن ملک اور محترمہ فرح ناز اصفہانی اس کے شکار ہوتے نظر آئے۔ جوں جوں کیس آگے بڑھتا رہا، قومی اسمبلی، سینٹ اور تمام صوبائی اسمبلیوں میں بہت سے پردہ نشینوں کے نقاب سرکنے لگے۔ابتدائی طور پر پیپلز پارٹی کا اس مسئلے کے بارے میں بڑا محتاط رویہ رہا اور کیوں نہ رہے ،آخر آئین میں دہری شہریت کے حوالے سے پابندی پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین جناب ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے رکھی گئی تھی، اس لئے پیپلز پارٹی کے لئے کھل کر اس آئینی شق کی مخالفت کرنا آسان نہیں تھا۔ اس کے علاوہ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے پرانے اور آزمودہ سیاستدانوں کا یہ مسئلہ بھی نہیں تھا۔ یہ تو پارٹی میں آنے والے نئے ٹولے کا مسئلہ تھا، اس لئے پارٹی کی اکثریت اس مسئلے سے لاتعلق ہی رہی۔ ملک کی تمام بڑی سیاسی پارٹیوں کے لئے بھی یہ مسئلہ غیر اہم تھا، کیونکہ ان تمام پارٹیوں کی صف اول کی قیادت نے دُہری شہریت کا عذاب ہی نہیں پالا تھا، اسی لئے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ساتھ دیگر تمام دھڑے عوامی نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام اور تحریک انصاف تمام سیاسی جماعتوں نے دُہری شہریت کے حوالے سے آئینی پابندی کی پُرزور حمایت کی، لیکن متحدہ والوں کے لئے یہ زندگی اور موت کا مسئلہ بن گیا ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے سے متاثر ہونے والے اراکین میں تو متحدہ کا کوئی صف اول کا رہنما نہیں تھا ،لیکن اس فیصلے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال متحدہ کے لئے انتہائی تشویشناک ہے۔ متحدہ کی اصل پریشانی یہ ہے کہ اگر اس فیصلے کی بنیاد پر آگے چل کر دُہری شہریت والے فرد پر پارٹی کی سربراہی کے حوالے سے پابندی کا سوال اٹھایا گیا تو متحدہ پاکستان کی واحد سیاسی جماعت ہو گی، جس کا براہ راست اس قانون سے نقصان ہو گا۔ دُہری شہریت کیس کی سماعت کے دوران متحدہ نے اس سارے قصے کو غیر سنجیدگی سے لیا۔ وہ نہ سپریم کورٹ میں اس کیس میں فریق بنے اور نہ ہی انہوں نے اپنی سینئر اتحادی جماعت پیپلز پارٹی پر اس حوالے سے کوئی زور ڈالا۔ جب سپریم کورٹ میں اس کیس کی سماعت ہو رہی تھی تو متحدہ کی ترجیح سندھ میں نئے بلدیاتی نظام کے حوالے سے قانون کا نفاذ تھی۔ جیسے ہی نئے بلدیاتی نظام کا قانون منظور ہو گیا، متحدہ نے پیپلز پارٹی کے سامنے اپنا نیا مطالبہ پیش کر دیا۔ پہلے الطاف حسین اور صدر آصف علی زرداری کی لندن میں ہونے والی ملاقات میں اس مسئلے کو سامنے لایا گیا اور اس کے اگلے روز قائد تحریک پوری گھن گرج کے ساتھ جلوہ گر ہو گئے۔ لندن سے اپنے ٹیلی فونک خطاب کے دوران قائد تحریک اپنے روایتی انداز کے ساتھ ساتھ سخت غصے میں بھی نظر آئے ۔ایک طرف انہوں نے دُہری شہریت کے قانون کے حوالے سے اپنا نشانہ نواز شریف اور ان کے اہل خاندان کو بنایا تو دوسری طرف اپنی خود ساختہ جلا وطنی کے بارے میں دلائل دیتے ہوئے مخالفین کو بھی رگیدا۔الطاف حسین کے خطاب کے بعد متحدہ کی جانب سے ہر سطح اور ہر فورم پر دُہری شہریت کے مسئلے پر ایک طوفان برپا کر دیا گیا ہے اور اس حوالے سے عجیب و غریب اور انتہائی غیر منطقی دلائل کا سہارا لیا جا رہاہے۔ ایک طرف صدر اوباما اور سونیاگاندھی کی شہریت کے حوالے سے بات کی جارہی ہے تو دوسری طرف اربوں ڈالر کے زر مبادلہ کی ترسیلات کے حوالے سے احسانات گنوائے جا رہے ہیں۔ حب الوطنی کے حوالے سے علیحدہ قوم کو جذباتی کیا جارہا ہے، لیکن ان ساری باتوں کے شور میں اصل مسئلہ یا اصل وجہ تنازع کو چھپایا جا رہا ہے۔ اگر صدر اوباما یا سونیا گاندھی کے خاندان کا تعلق غیر ممالک سے تھا تو ساتھ اس حقیقت کو بھی تو بیان کیجئے کہ ہر دو سیاسی قائدین نے اپنے نئے ملک ،یعنی امریکہ اور ہندوستان کی شہریت اختیار کرنے کے بعد اپنے اپنے سابقہ ممالک ،یعنی کینیا اور اٹلی سے کوئی تعلق نہیں رکھا۔ نہ اب صدر اوباما کینیا کے شہری ہیں اور نہ ہی سونیا گاندھی اب اٹلی کی شہریت رکھتی ہیں، جبکہ صدر اوباما تو اپنی شہریت کے ساتھ ساتھ اپنا مذہب بھی تبدیل کر چکے ہیں۔

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت کی پارلیمنٹ میں بھی دُہری شہریت کی گنجائش نہیں۔ زر مبادلہ کی ترسیلات کے حوالے سے بھی حقائق کا اصل رُخ نہیں دکھایا جا رہا۔ پاکستان میں 12 ارب ڈالر سے زائد زر مبادلہ بھیجنے والوں کی اکثریت خلیجی ممالک (سعودی عرب، امارات، کویت، قطر، بحرین) میں بہ سلسلہ روز گار مقیم ہے اور دُہری شہریت ان کا مسئلہ ہی نہیں۔ محنت مزدوری سے اپنے خاندان اور بالواسطہ ملک عزیز کو کثیر رقوم بھیجنے والوں کو تو نہ پہلے کسی نے اہمیت دی اور نہ ہی آج ان کے اصل مسائل کسی کو یاد ہیں۔ متحدہ کے فاروق ستار سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت کے انچارج ہیں، لیکن آج تک نہ انہوں نے خلیجی ممالک میں کام کرنے والے ان سنہری ہاتھوں والے پاکستانیوں کے اصل مسائل کے بارے میں کوئی پالیسی مرتب کی اور نہ ہی ان کی وطن واپسی اور واپس آکر باعزت روز گار کے حوالے سے کوئی پروگرام دیا۔ اربوں ڈالر اپنی محنت مزدوری کے ذریعے پاکستان کو عطا کرنے والے ان غیور پاکستانیوں کی حالت زار کے بارے میں نہ آج کی حکومت کو کوئی خیال ہے اور نہ ہی ماضی میں آنے والی کسی حکومت نے انہیں کوئی اہمیت دی۔ ہزاروں پاکستانی خلیجی ممالک میں ناجائز طو رپر جیلوں میں بند ہیں یا ان سے معاہدے کرنے والی کمپنیوں نے کئے جانے والوں معاہدوں کے برعکس ان کے کروڑوں ڈالر کے واجبات دبا لئے ہیں۔ نہ پاکستانی سفارت خانوں میں موجود افسر شاہی ان کی بات سنتی ہے اور نہ شہر اقتدار میں بسنے والے سیاستدانوں کے پاس ان کے لئے کوئی وقت ہے۔

ذاتی مقاصد پر ملک کو قربان کرنے کی پالیسی گذشتہ 65 سال سے پاکستان میں جاری ہے اور آج ایک بار پھر چند گنے چنے افراد کے موج میلے کی خاطر آئینی پا بندی کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ حب الوطنی اور زر مبادلہ کی ترسیل کے نام پر غلط حقائق زور شور سے پیش کئے جا رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی جو بار بار 1973ءکے آئین کی اصل صورت میں بحالی کا شور بلند کرتی ہے، وہ اس بات پر کیوں غور نہیں کر رہی کہ عام پاکستانیوں پر غیر ممالک کے دروازے کھولنے اور ہر شہری کے لئے پاسپورٹ کا حصول ممکن بنانے والے سیاسی لیڈر ذوالفقار علی بھٹو نے 1973ءکے آئین میں یہ پابندی کیوں رکھی تھی؟ ذوالفقار علی بھٹو جانتے تھے کہ غیر ممالک میں جا کر دولت مند ہونے والے پاکستانیوں کو اگر سیاست میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی تو پاکستان میں سیاست نظریات سے نکل کر دولت اور سرمائے کے تابع ہو جائے گی اور آج صورت حال سب کے سامنے ہے۔  ٭

مزید :

کالم -