”وزیر اعظم کا یوتھ پروگرام“

”وزیر اعظم کا یوتھ پروگرام“

                                                                    پاکستان دنیا کے ان چند خوش قسمت ممالک میں سے ایک ہے ،جہاں پر نوجوان آبادی کے اعتبار سے سب سے زیادہ ہیں۔ ایک حالیہ انداز ے کے مطابق تقریباً 65 سے 70 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، کسی بھی ملک کی ترقی اور خوشحالی میں نوجوان نسل کا ہمیشہ بنیادی کردار رہا ہے، جس ملک کی نوجوان نسل کار آمد ہے، خوشحالی و ترقی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ حال ہی میں وزیراعظم نے نوجوان نسل کی اہمیت و افادیت کو ملحوظ خاطررکھتے ہوئے پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے تحت عملی قدم اٹھایا ہے۔اس پروگرام کے لئے تقریباً 20ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، جس کے تحت نوجوانوں کے لئے 6مختلف سکیمیں متعارف کروائی گئی ہیں،جس میں یوتھ سمال بزنس قرضہ پروگرام ، یوتھ ٹریننگ ، بلاسود قرضے ، ٹیوشن فیس اور سکلز ڈویلپمنٹ جیسے اہم پروگرام شامل ہیں۔ اگر ان تمام پروگراموں کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے تو ایسے لگتا ہے کہ پاکستان کی ناکارہ اور بے کار نوجوان نسل کارآمد ہو جائے گی، ہر کو ئی بآسانی اپنا اپنا کاروبار کر سکے گا ، بے روزگاروںکو روز گار میسر ہو گا اور تعلیم کو فضول قرار دینے وا لا طبقہ اپنے بچوں کو سکول بھجوانا شروع کر دے گا۔ اگر یہ کہا جائے کہ موجودہ حکومت کا پرائم منسٹر یوتھ پرگروام پاکستانی نوجوانوں کے لئے روشنی کی کرن ہے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہو گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن جن ممالک اور اقوام نے نوجوان نسل کو مناسب مواقع بہم پہنچائے، وہ آج ترقی کی انگنت منازل طے کر چکے ہیں۔ ہمارے ملک میں ہر آنے والی حکومت یوتھ کے حوالے سے پروگرام تو بناتی ہے، لیکن انہیں عملی جامہ پہنانے سے پیشتر ختم ہو جاتی ہے یا پھر کچھ دوسرے اہم مسائل میں گھری رہتی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے ملک میں بے شمار مسائل ہیں،لیکن یہ بھی درست نہیںہے کہ ہم اپنے مسائل کی پاداش میں اپنے وسائل کو استعمال میں نہ لائیں۔ دنیا گواہ ہے کہ پاکستانی نوجوانوں کو جب جب مواقع ملے، انہوں نے پوری دنیا میں اپنے وطن عزیز کے سبز ہلالی پرچم کو سربلند کیا۔ آج کا نوجوان دنیا میں ہونے والے تیز ترین ارتقائی عمل سے مکمل طو پر آگاہ ہے، اِسی لئے و ہ پاکستان کو دنیا میں کامیابی کی بلندیوں پر دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ دنیا میں کہیں بھی جائے، اپنے ملک کے لئے امن کا سفیر بن کر جائے۔ یہ تمام تر قیاس آرائیاں یقینا اس وقت حقیقت کا روپ بن گئیں ، جب حکومت نوجوان نسل کو حقیقی ترقی ا ورآگے بڑھنے کے یکساں مواقع بہم پہنچائی گی۔

 پرائم منسٹر یوتھ پروگرام جہاں ایک قابل تعریف عمل ہے، وہاں اس میں کچھ خامیاں بھی موجود ہیں۔آج دنیا میں تیسری دنیا کے ممالک کی یوتھ کو 15سال سے 35سال تک نوجوانوں میں شامل کیا گیا ہے ۔ آئین پاکستان کے مطابق 15سال سے 29سال تک کے لوگ نوجوان تصور کئے جائیں گے،لیکن وزیراعظم کی طرف سے جاری ہونے والی 104 صفحات پر مشتمل یوتھ پالیسی میں نوجوانوں کو 15سے25 سال تک محدود کر دیا گیا ہے، جبکہ پاکستانی نوجوان 25سال کی عمر تک یہ بھی فیصلہ نہیں کرپاتا کہ اس نے کس شعبے میں جا کر اپنی جوہر منوانے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یوتھ کے لئے یہ بھی ضروری قرار دیا گیا ہے کہ کسی بھی نوجوان کو نوجوان ہونے کے لئے کسی ادارے میں زیر تعلیم ہونا چاہئے، جس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پاکستانی یوتھ کا ان پڑھ طبقہ یوتھ پالیسی کے تحت پرائم منسٹر یوتھ پالیسی سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔ حقیقت میں یہی وہ طبقہ ہے، جو مسائل میں گھر کر بے شمار مسائل کی وجہ بنتا ہے، جبکہ وزیراعظم یوتھ پروگرام کا اصل مقصد نوجوان نسل کے مسائل کو حل کرکے انہیں پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے لئے استعمال میںلانا ہے، جو یقینا اس وقت تک ممکن نہیں، جب تک پڑھے لکھے اور اَن پڑھ طبقات کے تمام نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع بہم نہ پہنچائے جائیں۔

اس کے ساتھ ساتھ موجودہ حکومت سے گزارش ہے کہ و ہ پاکستانی یوتھ کی بہتری و ترقی کے لئے سیاسی مفادات سے بالا تر ہو کر کام کرے تاکہ باشعور اور دنیا سے آگاہ نوجوان طبقہ دل سے ان کی عزت و تکریم کر سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ وزیراعظم سے گزارش ہے کہ وہ اس تمام پروگراموں کو شفاف طریقے سے مکمل کروائیں، چونکہ نوجوان نسل کی آبیاری پاکستان مےں موجود تمام بیماریوں کے خاتمے کا ذریعہ بنے گی۔ میری گزارش ہے کہ جس طرح انہوں نے سمال بزنس لونز کی سکیم میں عمر کی حد 25سے35مقرر کی،اِسی طرح یوتھ پالیسی اور باقی سکیموں مےں بھی ترمیم کروائی جائے، تاکہ پاکستانی یوتھ اپنے وطن عزیز اور قوم کی بہتری کے لئے بھرپور کردار ادا کر سکے،چونکہ یہی وہ اقدامات ہیں جو آپ کی خصوصی توجہ کی بنیاد پر تاریخ کا حصہ بن جائیں گے۔ آخر میں ایک تجویز اور پیش کرنا چاہوںگا کہ یوتھ پروگرام کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے نوجوان نسل کا ہی انتخاب کیا جائے نہ کہ روایتی سیاسی طریقہ کار کو رائج کر دیا جائے، کیونکہ نوجوان نسل ہی آپ کی Credibility کو مزید مضبوط کر کے آپ کی عزت میں اضافہ کرے گی۔ خدا آپ کے اس عمل کو کامیابی سے ہمکنار کرے۔ آمین!    ٭

مزید : کالم


loading...