کھری کھری باتیں

کھری کھری باتیں
کھری کھری باتیں

  


                                                                                                    جہاں تک پاکستان کو درپیش مسائل کا تعلق ہے، دہشت گردی کے ساتھ ساتھ قبائلی علاقوں میں امریکہ کی جانب سے مسلسل ڈرون حملے اور ان کے نتیجے میں پیدا شدہ صورت حال اور ردعمل بھی ہے۔وزیراعظم نواز شریف نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بجا طور پر کہا کہ قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور پاکستان سے شدت پسندی کے خاتمے میں رکاوٹ ہیں ،جبکہ ملک سے خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہے۔ ڈرون حملے نقصان دہ ہیں، کیونکہ ان سے معصوم افراد نشانہ بنتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ بین الاقوامی قوانین کے تحت لڑی جانی چاہیے۔اقوام متحدہ کو مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لئے اقدامات کرنے چاہئیں۔جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیراعظم نے دو اہم ترین نکات پر زور دیا۔ ایک ڈرون حملے، دوسرا مسئلہ کشمیر اور اس سلسلے میں انتہائی متوازن انداز میں اپنا نقطہ ءنظر بیان کیا، مثلاً انہوں نے امریکہ سے ڈرون حملے بند کرنے کا دوٹوک مطالبہ کیا اور واضح الفاظ میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قراردیا،جبکہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اقوام متحدہ کو اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کی یاد دہانی کرائی، تنازع کشمیر کی تاریخ بیان کی۔

صدر اوباما اور وائٹ ہاﺅس کے ترجمان کے بیانات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بھارتی وزیراعظم کے پاکستان کے ساتھ معاندانہ رویے پر پردہ ڈالنے کی کوشش بھی سمجھا جا سکتا ہے۔بہرحال اس ملاقات کے حوالے سے سردار جی نے جو کوئی امید نہ رکھنے کی بات تھی، یہ بالکل سچ تھی۔جہاں تک وزیراعظم نوازشریف کی جنرل اسمبلی میں تقریر کا تعلق ہے،مبصرین کے نزدیک نرم الفاظ اور محتاط انداز میں امریکہ، اقوام متحدہ اور بھارت کو سخت پیغام دیا ہے اور اسلام مخالف مغربی ممالک کو تہذیبوں کے تصادم کی جانب جانے سے خبردار کیا،اگرچہ انہوں نے واضح طور پر امریکہ کا نام نہیں لیا، لیکن بڑی خوبصورتی سے یہ تاثر دیا کہ دنیا میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کی پالیسی جاری ہے اور امریکہ دنیا پر دھونس جما رہا ہے۔میاں نوازشریف نے اقوام متحدہ کے کردار کوغیر جانبدار اور فعال بنانے کے لئے اس میں اہم اصلاحات پر زور دیا ۔ایسی اصلاحات، جن سے یہ عالمی ادارہ تمام ممبر ممالک کے مفادات کا تحفظ کر سکے نہ کہ چند ممالک کے مخصوص مفادات کا ہی نگران بن کر رہ جائے۔

وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر پر تفصیلی بات کی اور اقوام متحدہ کو یاد دلایا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے یہ ادارہ خود اپنی قراردادوں پر عمل کرانے میں ناکام چلا آ رہا ہے۔وزیراعظم نوازشریف نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ فلسطین کو جلد مستقل رکن بنایا جائے۔ وزیراعظم نوازشریف نے مغربی دنیا میں مسلمانوں سے بُرا سلوک کرنے کے رویے کی بھی مذمت کی اور اس سلسلے میں نائن الیون کے بعد روا رکھی گئی پالیسیوں کی بالخصوص نشاندہی کی اور کہا کہ کسی ایک شخص کے غلط کرنے سے پورے مذہب اور اس کے پیروکاروں کو بدنام کرنا غلط اور غیر منصفانہ ہے۔اسلام تو سلامتی اور بھائی چارے کا مذہب ہے۔اب بھی مذہب کے نام پر نسل پرستی کی نہایت عیارانہ شکل ابھر رہی ہے،جس کی وجہ سے پُرامن مسلم معاشرے امتیازی سلوک کا شکار ہیں۔ان کا عقیدہ، مذہب، ثقافت، مقدس شخصیات اور دستاویزات حملوں کی زد میں ہیں۔مسلمانوں کوانتہا پسند اور دہشت گردوں کی حیثیت سے پیش کرنا بند ہونا چاہیے۔اس سلسلے میں سعودی عرب کو اپنا اثرورسوخ استعمال کرنا چاہیے اور اقوام متحدہ سے رجوع کرنا چاہیے، تاکہ تہذیبوں کے تصادم سے بچا اور دنیا بھر میں مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔

وزیراعظم نے مغربی ممالک کے سامنے ان کے اسلام مخالف رویے پر دوٹوک الفاظ میں گرفت کی۔یہ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ موجودہ صورت حال میں اس انداز سے کسی مسلمان ملک کے رہنما نے بات نہیں کی۔ان کی اس بات کو مسلم دنیا کی ترجمانی سمجھا گیا اور دیگر اسلامی ملکوں کے مندوبین نے اسے بے حد سراہا۔ ٭

مزید : کالم


loading...