ٹرین پٹڑی پر آرہی ہے

ٹرین پٹڑی پر آرہی ہے
ٹرین پٹڑی پر آرہی ہے

  


                                                                                            مَیں تھڑے کا آدمی ہوں ، کھری بات کرتا ہوں ، بات حق کی ہو تو دوستی اور دشمنی کی پروا نہیں کرتا۔ ریلوے کا محکمہ میری ترجیح نہیں تھا ۔ میرے قائد میاں نواز شریف نے مجھے یہ ذمہ داری سونپی تو مَیں نے اسے چیلنج سمجھ لیا۔ ریلوے کی صورت حال اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ بغیر تفصیل میں جائے یہ بات حقیقت ہے کہ ٹرین پٹڑی سے اتر چکی ہے اور مجھے اس ٹرین کو دوبارہ پٹڑی پر لانا ہے۔ انگریز کے بنائے ہوئے ریلوے کے نظام کو وقت کے ساتھ ساتھ خسارے کا سامنا رہا ہے۔ مسائل، وسائل سے زیادہ ہیں۔ نہ انجن موجود ہے۔ نہ ڈبے ، سستی اور عوامی سواری کے مسافر بے یارومددگار ہیں۔مَیں نے پچھلے سو دن میں ریلوے میں ایک تبدیل ہوتا ہوا کلچر متعارف کرانے کی کوشش کی ہے ۔ سب سے پہلا کام کہ نو سفارش دوست ناراض ہوں۔ دشمن اور ناراض ہو جائیں۔لیکن کوئی تقرری میرٹ کے بغیر نہیں ہوگی۔ چاپلوسی کا دور گزر گیا صِرف کام ہو گا، جو کام کرے گا ،رہے گا، جو نہیں کرے گا، وہ اپنا بوریا بستر باندھ لے۔ نیت صاف کر کے اجلے لوگوں کو اہم عہدوں پر تعینات کر کے اور ورکروں کو کام کی طرف راغب کر کے پچھلے تین ماہ میں ریلوے کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچایا ۔جس کے فوری ثمرات عام آدمی تک بھی پہنچے ہیں کرایوں میں کمی کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، لیکن ابھی خسارہ بہت زیادہ ہے کٹھن سفر ہے مجھے لڑنا ہے ان طاقتوں سے جو ریلوے جیسے اہم قومی ادارے کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔کام کرنے والی ٹیم کے ساتھ مل کر مجھے اس ادارے کو ٹھیک کرنا ہے۔ ہم صحیح سمت کی طرف چل پڑے ہیں، اگر خدا نہ خواستہ ہم ریلوے کو درست نہ کر سکے اور اس کو نجکاری میں لانے کا فیصلہ کرنا پڑا تو سب سے پہلے مَیں ہار مانو ں گا۔ مَیں کھلے دل سے اعتراف کروں گا کہ مَیں ریلوے کی ڈوبتی ناﺅ کو بچا نے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ مَیں اپنی شکست پر قوم سے معافی مانگ لوں گا۔ یہ وہ باتیں ہیں جن کا اظہار ریلوے کے وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے ریلوے ہیڈ کوارٹر میں سینئر کالم نگاروں سے ہم کلام ہوتے ہوئے کیا۔ سعد رفیق نے قلم کاروں کو اپنی ٹیم سے متعارف کرایا اور جس ممبر کا بھی ذکر کیا، اس کی قابلیت ایک ہی بتائی کہ یہ محنتی اور دیانتدار ہے۔ اس کے علاوہ اس کا کس جماعت سے تعلق ہے۔ لوگ اسے پسند کرتے ہیں یا نہیں، مجھے اس سے سروکار نہیں۔ پھر آہستہ آہستہ صحافیوں کو ریلوے کا کچھ اس انداز سے سفر کرایا کہ کسی بھی صحافی کو ریلوے کی صحیح صورت حال سمجھنے میں مشکل پیش نہ آئی۔سعد رفیق باتیں تو صحیح کر رہے تھے ،لیکن اس سے زیادہ ان کی باڈی لینگوئج طاقتور نظر آ رہی تھی۔ وہ مسائل سے زیادہ اپنے جوش و جذبے پر انحصار کر رہے تھے۔ یقین ان کی طاقت تھا ۔ مجھے لگا کہ سعد رفیق سے لاکھ اختلاف ہو، لیکن وہ ریلوے کو زندہ کرنے کے لئے پوری تیاری کے ساتھ میدان میں ہیں۔ مجھے ان کی یہ بات اچھی لگی کہ انہوں نے بڑے مگر مچھوں پر ہاتھ ڈالا ہے، لیکن چھوٹے ورکروں کا خیال کیا ہے۔ اوور ٹائم بند نہیں کیا اوریہ سوچا کہ چھوٹے ملازمین کا اوور ٹائم بند نہ کیا جائے، لیکن حکمت عملی ایسی وضع کی جائے کہ ان سے کام لیا جائے۔ ایک اور اچھی بات جو انہوں نے کہی کہ ریلوے ہیڈ کوارٹر اور منسٹری میں جو دوری تھی، اسے کم کیاہے۔ اختیارات میں توازن لائے ہیں اور لوگ ایک دوسرے کے لئے رکاوٹ بننے کی بجائے ایک دوسرے کے مدد گار ہوں۔ ٹرین کے ڈبوں کی طرح مل کر چلیں اور منزل مقصود تک پہنچیں۔ سعد رفیق نے اعتراف کیا کہ ریلوے سٹیشن پر اور ٹرینوں میں صفائی کی صورت حال اطمینان بخش نہیں، لیکن بہتری کی طرف جا رہی ہے۔ وہ ذاتی طور پر چھوٹی چھوٹی چیزوں کو دیکھ رہے ہیں اور انشا ءاللہ مسافروں کی سہولتوں کےلئے مزید اچھی چیزیں سامنے آئیں گی۔ ہر ٹرین پر ایک منیجر مقرر کیا جا رہا ہے جو کسی بھی صورت حال میں فوری فیصلے کر سکے گا۔ مَیں دیر تک اس محفل میں بیٹھا رہا، مجھے ذرا بھی بوریت نہیں ہوئی۔ میری طرح دوسرے صحافی بھی سعد رفیق کی باتوں سے مطمئن نظر آ رہے تھے اور یقین مانیں کھانے سے زیادہ سعد کی باتوں کا لطف آیا،کیونکہ کوئی بھی لیڈر جب قومی سوچ کے ساتھ سامنے آتا ہے تو ایک صحافی کی حیثیت سے ہمیں دلی خوشی ہوتی ہے اور خوشی کی یہی تمازت ہمیں وزیر ریلوے کی باتوں سے ہوئی۔مَیں سوچ رہا تھا کہ ٹرین چلانے کے لئے سعد رفیق کو ٹرین کا انجن بننا پڑے گا یا ٹرین کے آخری ڈبے کا گارڈ۔ محفل کے اختتام پر مَیں نے سعد رفیق سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا بھائی جان، یہ آپ کے منہ کی تعریف نہیں، اس وقت ورکنگ میں آپ نمبر ون جا رہے ہیں۔ اس پر سعد رفیق نے میرے ہاتھوں کو دبایا اور انتہائی عاجزانہ انداز میں کمرے سے باہر نکل گئے۔ تب مجھے یقین ہو گیا کہ سعد رفیق ٹرین کے انجن بھی ہیں اور ٹرین کے آخری ڈبے کے گارڈ بھی.... اور یقینا جس ٹرین کا انجن اور گارڈ سعد رفیق جیسا ہو وہ ٹرین یقینا پٹڑی پر آ رہی ہے۔       ٭

مزید : کالم


loading...