محترم وزیراعظم! قوم آپ کے ساتھ ہے

محترم وزیراعظم! قوم آپ کے ساتھ ہے
محترم وزیراعظم! قوم آپ کے ساتھ ہے

  


                                                                                                اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاک بھارت وزرائے اعظم کی ملاقات متوقع تھی اور ہوئی بھی.... نیویارک میں ہونے والی اس ملاقات پر تبصرے ہوئے اور ہو رہے ہیں۔ایک رائے یہ ہے کہ یہ بھی ایک ایسی ہی رسمی ملاقات ثابت ہوئی،جیسی وہاں پر آنے والے بہت سے سربراہان کی ایک دوسرے سے ہوئیں اور صرف باتیں ہوئیں، لیکن کسی خاص اور ٹھوس اقدامات کی طرف پیش رفت نہیں ہوئی۔دوسری رائے یہ ہے کہ ”کھچاﺅ اور ”الزامات“ کے اس ماحول میں یہ ملاقات بہت اہم تھی اور توقع کی جانی چاہیے کہ یہ ملاقات جنوبی ایشیا میں مستحکم امن قائم کرنے اور رکھنے میں معاون ثابت ہو گی۔پاکستانی ذرائع ابلاغ میں کہا گیا.... ”جس ماحول میں یہ ملاقات ہوئی، وہ ایک معجزاتی پیش قدمی ہے،چاہے جتنی کم بھی کہی جائے....دونوں ممالک کے لئے سود مند ہے کہ برف پگھلی اور مذاکرات کی طرف بات بڑھی“....”بھارتی وزیراعظم قابل تعریف ہیں، جنہوں نے بھارتی سیاست کے پس منظر کے باوجود یہ ملاقات کی ہے“۔بات شروع تو ہوئی ،الفاظ سے ہی اقدامات کا آغاز ہوتا ہے۔جو حلقے اس خطے میں امن نہیں چاہتے،انہوں نے ایک انوکھی بات کردی کہ میاں نوازشریف نے ایک گفتگو میں منموہن سنگھ کو دیہاتی بڑھیا سے تشبیہ دی۔ بھارت میں نریندر مودی نے اسے رائی کا پہاڑ بنانے کی کوشش کی، لیکن بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔پھر کہا گیا کہ من موہن سنگھ نے اپنی تقریرمیں پاکستان کو دہشت گردی کا گڑھ قرار دیا اور کشمیر پر کوئی بات نہیں ہو سکتی ۔بھارتی وزیرخارجہ سلمان خورشید نے بھی ایک سازشی خاکہ پیش کردیا کہ پاکستان میں فوج اور آئی ایس آئی وزیراعظم نوازشریف کے احکامات اور ہدایات کی پروا نہیں کرتیں، لیکن اس کے باوجود ملاقات ہوئی اور بات چیت کا آغاز ہو گیا۔یہ ایک ایسا گھسا پٹا الزام ہے جو ہر دور میں بھارت کی طرف سے عائد کیا جاتا رہاہے،پاکستان میں حکومت کسی کی بھی رہی ہو۔ وزیراعظم نوازشریف نے بھی اپنی تقریر میں ہر موضوع پر قومی مفاد کا ہر مسئلہ اٹھایا۔ لائن آف کنٹرول، کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کا بھی ذکر کیا۔ ڈرون حملوں کے بارے میں اپنے ٹھوس موقف کا اظہار کیا کہ اس سے پاکستان میں دہشت گردی بڑھ رہی ہے۔دراصل ہوتا یہ ہے کہ ایسی صورت حال میں ملاقات سے پہلے دونوں اطراف سے کوشش ہوتی ہے کہ دوسرے فریق کو Defensiveپر لایا جائے اور یہی کچھ نیویارک میں ہوا،یہ کوئی نئی بات نہیں، کسی کی سمجھ میں نہ آئے تو؟ اگر ہم پچھلے تمام ادوار کا جائزہ لیں۔اختلافی مسائل، جنگوں کے باوجود دونوں وزرائے اعظم نے اسے ایک کامیاب اور مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔ ایک ملاقات میں سارے مسائل کبھی بھی حل نہیں ہوتے، اگر ہم عالمی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو معلوم یہی ہوتا ہے۔ ہمیشہ Kick Startسے ہی مذاکرات کا آغاز ہوا، جو بالآخر کامیاب ہوئے یا کامیابی کے قریب پہنچے، لیکن نریندر مودی ایک Mind Setہے جو دونوں ملکوں میں موجود ہے۔ نریندر مودی نے جو بات جلسے میں کی، وہی بات لطیف کھوسہ نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں کی، لیکن جو کچھ بھی کہا جا رہا ہے، اسے نظر انداز کرتے ہوئے دونوں ہمسایوں کے درمیان ملاقات اور مذاکرات ہونا چاہئیں، اسے قسمت نہیں بنا لینا چاہیے کہ بھوک، ننگ، افلاس، بے روزگاری، تعلیم کا نہ ہونا، صحت کی سہولتوں کا نہ ہونا ہماری قسمت ہے،جن کی روزی روٹی دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات نہ ہونے سے وابستہ ہے، ان کے پیٹ میں درد تو اُٹھے گا۔کچھ نکات ایسے ہوتے ہیں، جن پر اتفاق نہیں ہوتا۔کچھ نکات ایسے ہوتے ہیں، جن پر اتفاق ہوتا ہے۔ہمیں آغاز ان نکات پر عملدرآمد سے کرنا چاہیے،جن پر اتفاق ہے۔لائن آف کنٹرول کی نگرانی ڈی جی ایم او کی سطح پر ہاٹ لائن کے قیام کا فیصلہ، آہستہ آہستہ جن پر اختلاف ہے،ان کی طرف بھی مثبت پیش رفت کی توقع رکھنی چاہیے۔یورپ نے دو عظیم جنگیں لڑیں۔صد سالہ جنگ وہاں ہوئی، لیکن آج کا یورپ جس طرح انہوں نے سبق سیکھا، ہمیں بھی تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے۔اس ملاقات میں بھی سرکریک، لائن آف کنٹرول، بلوچستان میں دہشت گردی، کشمیر، پانی سمیت تمام تر مسائل پر بات ہوئی، لیکن ایک ملاقات میں جو ممکن ہوسکتا تھا ہوا۔ہمیں باہمی تجارت کی ترقی، معیشت کی مضبوطی کے لئے ایک دوسرے کے مثبت اور منفی تجربات شیئر کرنا،وفود کا تبادلہ جیسے اقدامات کرنا ہوں گے، تاکہ شک و شبہ کے بادل چھٹتےرہیں اور مطلع صاف ہوتا رہے۔اسی طرح ممبئی حملہ بھی زیر غور آیا۔دونوں طرف سے اپنی اپنی Reservationکا اظہار بھی کیا گیا۔مستقبل میں وزرائے اعظم ایک دوسرے کے ملکوں میں آئیں گے۔اس سے بھی اعتماد کی فضا مزید بہتر ہوگی۔ پاکستانی وفد میں وزیراعظم میاں نوازشریف کے علاوہ سرتاج عزیز، اسحاق ڈار،خواجہ آصف، طارق فاطمی، سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی اوراقوام متحدہ میں پاکستان کے نمائندے ملاقات میں شامل تھے۔اس سے بھی اندازہ ہو سکتا ہے کہ کون کون سے امور زیر غور آئے ہوں گے۔قارئین کے لئے یقینا یہ اہم پیش رفت بھی دلچسپی کا باعث ہوگی کہ برسوں کی تلخیوں، پابندیوں، الزامات اور جوابی الزامات کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان بھی رابطے ہوئے ہیں اور ہوں گے۔ بالآخر امریکہ میں احساس پیدا ہوگیاکہ نامناسب زبان کا استعمال، دھمکیاں، مسئلے کا حل نہیں اور باہمی عزت اور احترام کی بنیاد پر ایک Grand Agendaترتیب دے کر اس پر عمل درآمد کیا جائے، اگر امریکہ کی ”دادا گیری“ کی پالیسی نہیں چل پائی تو کسی ”اور“ کی کیسے چل پائے گی۔توقع کی جارہی تھی کہ 25ستمبر کو نیویارک میں امریکی صدر اور ایرانی صدر کی ملاقات بھی ہو جائے ، لیکن نریندر مودی تو ہرجگہ ہے، لیکن دونوں رہنماﺅں کے درمیان ٹیلی فون پر بات ہوئی جو بہت اہم پیش رفت ہے۔اس کے علاوہ امریکی وزیرخارجہ جان کیری اور ایران کے وزیرخارجہ محمد جاوید ظریف کے درمیان ملاقات ہوئی۔1979ءکے ایرانی انقلاب کے بعد جو واقعات رونما ہوئے،تعلقات میں جو بڑھتی ہوئی تلخی دیکھنے میں آئی۔وہ ایک ایسا پس منظر ہے،جس میں یہ ملاقات اور صدور کے درمیان بات ایک معجزے سے کم نہیں۔اس سے اس تبدیلی کے آغاز کا اندازہ ہوتا ہے جو دنیا میں آنے والی ہے۔نوازشریف اور من موہن سنگھ کی ملاقات کے مخالف اس سے ہی کچھ سیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کریں۔امریکی اور ایرانی وزرائے خارجہ کی ملاقات نہ صرف امریکہ، ایران تعلقات میں بہتری لائے گی، بلکہ اس سے مشرق وسطیٰ میں مستحکم امن قائم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔24ستمبرکو صدر اوباما نے پہلی بار اپنی تقریرمیں ایران پر لفظی یلغار نہیں کی، بلکہ تسلیم کیا کہ 1980-88ءکی ایران عراق جنگ میں صدام حسین نے لاکھوں ایرانیوں کا خون بہایا۔مصدق حکومت گرانے میں امریکہ کے کردار کے بعد سے ایرانی عوام میں امریکہ کے بارے میں کبھی اعتماد کا ماحول نہیں پیدا ہو سکا۔صدر اوباما کی یہ تقریر شاید اس میں بہتری لانے کے لئے معاون ثابت ہو اور برف پگھلے۔ انہوں نے Regime Changeکی بات نہیں کی۔پُرامن ایٹمی توانائی کے حصول پر ایرانی عوام کا حق تسلیم کیا۔آئت اللہ خمینی کے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری اور استعمال کے خلاف فتویٰ کو سراہا۔جان کیری کو خصوصی ذمہ داری سونپی کہ خطے اور دنیا میں امن کے قیام کے لئے امریکہ ایران دوریاں ختم کی جائیں۔ ایرانی صدر نے بھی اپنی تقریرمیں باہمی عزت اور احترام کی بنیاد پر قریبی امریکہ، ایران تعلقات قائم کرنے اور بڑھانے پر زور دیا۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ 2003-2005ءتک موجودہ ایرانی صدر، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے ساتھ مذاکرات میں ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ تھے۔اس سارے عمل کو ایران کے روحانی سربراہ کی مکمل حمایت حاصل ہے اور شفاف مذاکرات چاہتے ہیں کہ دنیا کو بھی علم ہو کہ کون کیا کہتا ہے اور کون کیا کرتا ہے؟بدقسمتی سے ماضی میں ایران اور یورپ ایک سے زائد بار حتمی حل کے قریب پہنچے، لیکن اس وقت امریکہ نے سابق برطانوی وزیرخارجہ جیک سٹرا کے کہنے کے مطابق یہ کوششیں ناکام بنا دی تھیں۔ایران اپنی کوششوں میں مخلص ہے، جو وعدے کرے گا،ان پر عمل بھی ہوگا، لیکن یہ سوال بہت اہم ہے کہ اوباما اپنی مدت پوری ہونے تک ایران کے ساتھ تعلقات معمول پر لا سکیں گے؟نئی پابندیاں لگانے کی بجائے پہلے سے عائد شدہ پابندیاں بھی آہستہ آہستہ ختم کردی جائیں گی؟کانگرس میں موجود”عقابوں“ کو مطمئن کرسکیں گے؟ان اداروں کو قائل کرسکیں گے،جنہوں نے ہمیشہ امریکہ کو غیر ضروری جنگوں میں الجھا کر معیشت پر بے پناہ بوجھ ڈالا اور بالآخر ذلت کے ساتھ پسپائی بھی اختیار کی۔یہ سب آنے والے وقت میں واضح ہوگا، لیکن آغاز اچھا ہے، امید کرنی چاہیے، انجام بھی اچھا ہوگا۔ایٹمی پروگرام کے علاوہ شام، عراق بھی مسائل کا حصہ ہیں اور اختلاف کی بنیادوں میں سے بھی ہیں۔اس سے پہلے جرمن چانسلر ہلمٹ کوہل اور ایرانی صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کے درمیان بھی فون پر بات ہوتی رہتی تھی۔اس وقت جبکہ مشرق وسطیٰ، فرقہ وارانہ فسادات اور خانہ جنگی کے دہانے پر ہے،امریکہ کا کردار بہت اہم ہے۔اسی طرح ایران کا کرادر بھی کم اہم نہیں ہے۔دونوں ممالک پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اپنی اپنی تاریخی ذمہ داریاں پوری کریں اور نہ صرف مشرق وسطیٰ میں، بلکہ دنیا میں امن ،استحکام اور سلامتی کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کریں، لیکن 30ستمبر کو اوباما کا یہ کہنا کہ ”ہم تمام آپشنز بشمول ”ملٹری“ کھلے رکھ رہے ہیں، نے معاملات کو گہنا دیا ہے۔شاید داخلی سیاست کا دباﺅ۔ بہرحال دونوں سربراہوں کے درمیان رابطہ برقرار رہنا چاہیے۔مذاکرات ہو تے رہنے چاہئیں اور ان میں یورپ، روس، چین، ترکی، سعودی عرب ، عراق اور مصر کو بھی ساتھ شامل رکھ لینا فائدہ مند ہوگا۔اس سارے پس منظر کو بیان کرنے کا ایک ہی مقصد ہے کہ میاں نوازشریف اور من موہن سنگھ ملاقات ہونی چاہیے تھی، ہوئی اور آئندہ بھی دونوں ملکوں کے درمیان رابطہ رہنا چاہیے۔جنوبی ایشیا کا ہی نہیں،افغانستان اور وسطیٰ ایشیائی ریاستوں کا مفاد بھی اسی سے وابستہ ہے۔لال ٹوپیاں پہن کر دلی کے لال قلعے پر جھنڈا لگانے والوں کی کارکردگی ہم نے دیکھ لی ہے۔ ان کو بھی موقع ملنا چاہیے۔جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے اور پھر لال ٹوپی والوں کو ”حالت جنگ“ ہی راہ دکھاتی ہے، اس سے ان کا ”دودھ فالودہ اور کریلے گوشت“ چلتے ہیں۔اصل جنگ؟ نہ ہوگی نہ ہو سکتی ہے تو کیوں نہ اپنے عوام کو ان کے بنیادی حقوق کی فراہمی کا بندوبست کریں۔تعلیم، صحت جیسے حقوق سے ان کی محرومی کا ازالہ اور محترم وزیراعظم انشاءاللہ ضرور کریں گے۔     ٭

مزید : کالم


loading...