حقِ معلومات اور پہلا سوال

حقِ معلومات اور پہلا سوال
 حقِ معلومات اور پہلا سوال

  


                                        عجیب سی بات ہے کہ کالم نگار لکھنا تو چاہے انفارمیشن آرڈیننس کے بارے میں اور ذہن میں آ گھسے ابو الحسن نغمی کی کتاب ’یہ لاہور ہے‘ کا وہ جھلا سا کردار جو پرانے ریڈیو اسٹیشن کے باہر سڑک پہ کھڑے کھڑے پنجابی میں ہانک لگاتا تھا ’ہائی کورٹ دے چھتی ضلعے ، پر انصاف کوئی نہیں‘ ۔ کتابی اوراق کی سکرین پر یہ آدمی مجھے ہمیشہ 1947 کا مہاجر لگا جو مشرقی پنجاب ، موجودہ ہما چل پردیش یا ہریانہ کے کسی علاقہ سے آیا ہو گا ۔ یہاں پہنچ کر اس نے آبائی زرعی اراضی الاٹ کرانے کی درخواست دی ۔ پھر جیسا کہ ہوتا آیا ہے ، کاغذات آگے پیچھے ہو گئے ، دفتر اور کچہری کے چکر لگا لگا کر بھی اسے پتا نہ چلا کہ عرضی کا کیا بنا اور وہ زمین کا مقدمہ ہار جانے والے ہمارے پوٹھواری دوست کی طرح یہ بھی نہ کہہ سکا کہ ’راجیا ، باڑی تے نئیں ملی ، پر قانونے نے واقف ہوئی گچھے آں‘ ۔ قانون سے واقف ہو جانا معلومات تک رسائی کا استعارہ ہے اور اس کی افادیت کا پورا شعور وہی لوگ رکھتے ہیں جن کی عمر سچائیوں کا پیچھا کرتے ہوئے گزری ہو ۔ سچائی کی تہہ تک رسائی پا جانے کی لذت اور چلتے چلتے ’ٹھڈے ، ٹھیڈے‘ کھا کر راستہ سے بھٹک جانے کا ملال آپ کو زندگی کے کیا کیا روپ دکھاتا ہے ؟ اگر میں فیض احمد فیض ، احمد ندیم قاسمی اور یوسف ظفر کو انگریزی کے قالب میں ڈھالنے والا پروفیسر سجاد شیخ ہوتا تو جواب دینے کے لئے پہلی منزل گورڈن کالج کے جوبلی ہال کی بیسمنٹ قرار پاتی کہ یہیں سے لٹریچر پڑھنے والے کئی لڑکے لڑکیوں نے ہر سال شیخ صاحب کی انگلی تھامے پرنس ہیملٹ کی اس سلطنت کی جھلک دیکھی جہاں ولیم شیکسپئر کے الفاظ میں ’ٹائم از آﺅٹ آف جائنٹ‘ بس وہی کیفیت جسے امانت علی خاں والی غزل میں حیدر علی آتش نے ’عالم برگشتہ طالعی‘ کا نام دیا ہے۔یہاں پہنچ کر وہی سکہ بند سوال کہ جناب ، پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن آرڈیننس کا پرنس ہیملٹ سے کیا لینا دینا اور یہ ریڈیو اسٹیشن والا جھلا آدمی بیچ میں کہاں سے آ گیا ؟ دیکھیں لٹریچر کے مضمون میں جو کوئی میرے استاد کے ہاتھ پر بیعت ہے (اور اس شیخ حرم کے مریدوں کی تعداد سینکڑوں نہیں ، ہزاروں میں ہوگی ) ، اسے بخوبی علم ہے کہ گرد و پیش کی سچائیوں تک رسائی ہی ہیملٹ کا بنیادی مسئلہ تھی ، جس میں رکاوٹیں کئی طرح کے شبہات کا تسلسل بن گئیں ۔ فرمانروا باپ کی غیر فطری موت ، ماں کی منصوبہ سازیاں ، جاہ پرست چچا ، گھیرا ڈالنے والے سرکاری دانشور اور ان سب کے بیچ ، بقول نثار ناسک ’میں سازشوں میں گھرا اک یتیم شہزادہ‘ ۔ آپ ریڈیو والے جھلے کو بھی ایک چھوٹا سا ہیملٹ ہی سمجھ لیں کہ یہ دونوں کردار سچ دیکھنا بھی چاہتے تھے اور دوسروں کو دکھانا بھی ۔میرا اپنا ’کیس‘ اس لئے ان دونوں سے ملتا جلتا ہے کہ جب نئے قانون کے اجراءکی خبر چھپی تو میں دو دن کے اندر ایک بے ضرر مگر نجی ریسرچ کے لئے نواحی شہر قصور کا رخ کرنے والا تھا جس کی معلومات کو آپ ضلعی حکام تک میری پہنچ سے مشروط سمجھ لیں ۔ اب ضلعی حکام چاہیں تو بچہ دے دیں ، نہ چاہیں تو انڈہ دے دیں ۔ اوپر سے ریسرچر کا تعارفی حوالہ بھی ذرا ڈھیلا مٹھا کہ وہ استاد ہے مگر جز وقتی اور براڈ کاسٹ جرنلسٹ ہے تو ’فری لانس بائی ارینجمنٹ‘ جس سے انسان کا رتبہ مشکوک سا ہوجاتا ہے ۔ لیکن اس دن قصور میں ایک ہنستے مسکراتے افسر کے ساتھ ساڑھے چھ گھنٹے کے شعری چڑی چھکے کے بعد جب واپسی ہوئی تو بیلنس شیٹ میں مطلوبہ اعداد و شمار ، تین کپ چائے کافی اور لذیذ دیسی مرغی والا گھریلو ساخت کا لنچ تو تھا ہی ، ساتھ یہ دوستانہ وارننگ بھی کہ ہر روز دفتر میں اتنی فراغت نہیں ہوتی ۔اس سے یہ مراد نہ لیں کہ دفتروں کے معاملہ میں ’ہم جہاں پہنچے کامیاب آئے‘ ۔ عملی زندگی کے شروع میں میری طرح جس بندے کا دانہ پانی اکاﺅنٹنٹ جنرل یا اے جی پنجاب کے آفس سے بندھ جائے ، اسے اس آٹھ منزلہ عمارت میں یہ بتانے والا تو نہیں ملتا کہ تنخواہ جاری کرانے کے لئے کس کس کاغذ کا پیٹ بھرنا ہو گا ، کون کون سے فارم دفتر ، سکرٹیریٹ یا باضابطہ اشاعتی ڈپو کی بجائے صرف اردو بازار سے ملیں گے اور ان میں اسپیلنگ کی غلطیاں درست کر دینے سے کہیں کلرک حضرات ناراض تو نہیں ہو جائیں گے ۔ اولین تنخواہ کی خاطر مجھے پولیس سے ’عدم سزا یافتہ و عدم اشتباہ شدہ‘ کی سند حاصل کرنے میں اپنی ناسمجھی کی وجہ سے چھ مہینے لگے ، وگرنہ پولیس کی بشریت کا تقاضا صرف دس روپے میں پورا ہوگیا تھا ۔ رولا میڈیکل کے مسئلہ پہ ہوا اور یہ بھی اس لئے نہیں کہ خدا نخواستہ میں ’ان فٹ‘ تھا ۔دراصل گورنمنٹ کالج لاہور میں جہاں بندہ اعلی تعلیم دینے پہ مامور ہوا ، سینئیر ساتھی اساتذہ میں سے کسی کو یاد ہی نہیں تھا کہ پہلے سرکاری چیک کا منہ دیکھنے کے لئے جب اول اول ’حضور یار ہوئی دفتر جنوں کی طلب‘ تو انہوں نے اے جی آفس کے ملاحظہ کے لئے ’گریباں کا تار تار‘ گرہ میں کیسے باندھا ۔ خیر ، میں پوچھتے پاچھتے گزٹ نوٹیفیکیشن ، جوائننگ رپورٹ ، خفیہ اور غیر خفیہ پولیس کی کارروائیوں سے نمٹا ہی تھا کہ میڈیکل ایگزامینیشن کی اصطلاح کان میں پڑی ۔ لیکن پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ لیکچرار بن جانے کے باوجود میری سمجھ میں نہ آیا کہ میں اپنا میڈیکل بھلا خود کیسے کروا سکتا ہوں ۔ وزارت دفاع کے افسر کے طور پہ ابا کا طبی معائنہ تو ہر سال ہوتا آیا تھا مگر ذرا اہتمام سے کہ باقاعدہ سرکاری مراسلہ ملا اور اس کام کو دو دن کی ڈیوٹی سمجھ کر مقررہ وقت پہ ہسپتال روانہ ہوگئے ۔اب میں کیا بتاﺅں کہ انفارمیشن آرڈیننس کے نہ ہوتے ہوئے ’قانونے نے واقف ہوئی گچھے آں‘ تک کا پہلا مر حلہ کیسے طے ہوا جس کے آدھے راستہ پر سروسز ہاسپٹل کی عمارت واقع تھی ۔ وہ صبح اس لئے یاد رہے گی کہ ایک دوست ، جو فائنل ائر انجنےرنگ کے طالب علم تھے ، میری ریزہ ریزہ ٹوٹتی بکھرتی سماجی خود اعتمادی کو دیکھتے ہوئے ڈھارس بندھانے کو میرے ساتھ رکشے میں سوار ہوگئے ۔ میں نے استقبالیہ ڈیسک پہ ایک ’نوزائیدہ‘ لیکچرار کے طور پہ اپنا تعارف کرایا اور مجھے سرکاری ملازموں کی طبی جانچ پڑتال کرنے والے سول سرجن کے پاس بھیج دیا گیا جنہوں نے پہلے آنکھیں ٹیسٹ کیں اور ایک فارم پر انگلیوں کے نشانات لینے کے بعد کہا اسی پہ یورین اور چیسٹ ایکسرے کی رپورٹ لے کر ایم ایس سے دستخط کرا لیجئے ۔یہاں تک کی کہانی اوریجنل اسکرپٹ کے مطابق ہے ، مگر اب پلاٹ میں ایک موڑ کے لئے تیار ہو جائیے جس کا تعلق پیشگی معلومات کے فقدان سے ہے ۔ سو ، یکے بعد دیگرے تین ڈاکٹروں سے مل کر ساری کارروائی مکمل ہونے کے بعد ایم ایس کے کمرے میں جو داخل ہوا تو اپنے سامنے ایک ایسے بزرگ کو پایا جو فیملی فرینڈ تھے ، اس لئے تپاک سے ملے ۔ لیکن مجھے بجلی کا تیز جھٹکا تو ان کے یہ الفاظ سن کر لگا کہ ’ بھئی ، آپ تو گزیٹڈ آفیسر ہیں ، آپ کا معائنہ تو یہ ہسپتال کر ہی نہیں سکتا بلکہ اسٹینڈنگ میڈیکل بورڈ کرے گا ‘ ۔ ہاتھ آیا ہوا کئی ماہ کی تنخواہ کا چیک اس لمحہ مجھے کوسوں دور ہوتا اڑتا ہوا دکھائی دے رہا تھا ۔ اگلے ہی لمحے ڈاکٹر صاحب نے یہ کہہ کر مشکل آسان کر دی کہ چلو ، میڈیکل بورڈ کا صدر تو میں ہی ہوں ۔ اعتراض ہوا تو باقی ممبروں کے دستخط بھی کرادوں گا ۔یوں تنخواہ تو یک مشت مل گئی اور اس سے ایک سو سی سی کی وہ موٹر سائیکل بھی خرید لی جس پر لاہور سے سیالکوٹ اور ایک مرتبہ بستر بند سمیت راولپنڈی تک سفر کے سلطانی گواہ ابھی اس دنیا میں ہیں ۔ مگر ’قانونے نے واقف ہوئی گچھے‘ کے بعض مرحلے کئی سال کی سرکاری نوکری کر لینے پہ بھی طے نہیں ہوئے تھے ۔ جیسے دوران ملازمت ایک مرتبہ ماہانہ ’پے بل‘ کی اس آبزرویشن کے ساتھ واپسی کہ ثابت کرو ، تم جس پوسٹ پر کام کر ہے ہو ، وہ ٹمپریری نہیں ، پرماننٹ ہے ۔ عرض کیا کہ میرا اپنا تقرر تو مستقل ہے ۔ جواب ملا ’تم نہیں ، تمہارا عہدہ‘ ۔ اب اتنے بڑے اصلی تے وڈے کالج میں کسی کو پتا ہی نہیں تھا کہ کونسی آسامی عارضی ہے اور کونسی مستقل ۔ چنانچہ ہمارے انسان دوست صدر شعبہ پروفیسر رفیق محمود نے اندازے سے ہی ’پرماننٹ‘ لکھ دیا ۔ تنخواہ پھر جاری و ساری ہوگئی ۔پچھلے ہفتے نافذ العمل ہونے والے پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن آرڈیننس نے ہر عاقل بالغ شہری کو بے شمار سرکاری معلومات تک رسائی کا اختیار دے دیا ہے جس سے انکار ، چودہ اور زیادہ سے زیادہ اٹھائیس دن کے اندر معلومات کی عدم فراہمی اور غلط ، ناکافی یا گمراہ کن مہیا فراہم کئے جانے کی صورت میں آپ کو صوبائی انفارمیشن کمیشن سے رجوع کرنے کا حق بھی ہوگا ۔ قانون میں معلومات کے زمروں کی نشاندہی بھی ہے اور یہ وضاحت بھی کہ مطلوبہ مواد کتاب ، تحریری متن ، تصاویر ، نقشوں ، احکامات اور مراسلوں کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک ، مشین ریڈ ایبل یا کسی اور دستاویزی شکل میں بھی ہو سکتا ہے ۔ پھر بھی معترضین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دفاعی امور ، امن عامہ ، بین الاقوامی تعلقات اور مملکتی اداروں کے کاروباری مفاد کی آڑ میں قانون سے استثنے کا ناجائز استعمال بھی ہو سکتا ہے ۔خدشے اپنی جگہ ، مگر ایک ایسے معاشرے میں جہاں سچائیوں کو دیکھنے ، جانچ پرکھ کرنے اور تہہ میں اتر کر برائی کی جڑیں کاٹنے کا تمدن نہ ہو ، ہمیں حقائق تک رسائی کے عمل کو تقویت تو دینی چاہئیے ۔ جیسے کمپیوٹرائیذڈ ڈرائیونگ لائسینس کے اجراءکو یقینی بنانے کی خاطر ڈاکخانوں کو لال کاپی والے روایتی لائسنس کی تجدید نہ کرنے کی ہداہت کی گئی ہے ، مگر اس پہ قومی پالیسی ہے کیا؟ آیا یہ صرف فارمیٹ کی تبدیلی ہے یا بتیس سال سے اصولوں کے مطابق گاڑی چلانے والے میرے بھائی جیسے لوگ اس کے لئے نااہل ہو گئے ہیں ۔ جواب ملے گا کہ ان کا پرانا لائسنس دوسرے شہر کا ہے ۔ تو کیا اسلام آباد ، لاہور اور کراچی کے سوا مارے شہر و دیہات پاکستان کا حصہ نہیں ؟ آپ چاہیں تو اسے ٹیسٹ کیس کہہ لیں ، مگر معلومات کا قانون بنانے والوں سے میرا پہلا سوال یہی ہے ۔   ٭

مزید : کالم


loading...