بنام چیئر مین نیب!

بنام چیئر مین نیب!
 بنام چیئر مین نیب!

  


                                                            جناب قمر الزمان چودھری صاحب۔ سب سے پہلے تو مبارکباد قبول کیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک بڑا منصب عطا کیا ہے۔ چیئر مین نیب کی حیثیت سے آپ کا تقرر آپ کی زندگی کا یقینا ایک سنہری اور بڑا واقعہ ہے۔ قدرت نے آپ کو ایک ایسی ذمہ داری ادا کرنے کے لئے منتخب کیا ہے، جس سے ملک و قوم کو بڑی امیدیں وابستہ ہیں بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اس منصب پر تعینات ہونے والا ایک طرح سے قوم کے خزانے کا محافظ ہوتا ہے۔ یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے اور ہر کسی کو نہیں ملتی۔ آپ ایک سینئر بیوروکریٹ ہیں اور اپنے کیریئر میں مختلف مناصب پر ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں، لیکن مجھے یقین ہے کہ آپ نے اب تک جو بھی کیا، وہ اتنا اہم کبھی نہیں رہا ہو گا جتنا اہم آپ کو اب منصب سونپا گیا ہے۔ آپ اب ایک آئینی ادارے کے سربراہ ہیں، آپ کے عہدے کو بھی آئینی تحفظ حاصل ہے اور کوئی آپ کو وقت سے پہلے گھر نہیں بھیج سکتا۔ عدالت عظمیٰ کی بات دوسری ہے۔ اگر وہاں آپ کو چیلنج کیا جاتا ہے اور آپ اپنے تقرر کا دفاع نہیں کر سکتے تو شاید فصیح بخاری کی طرح آپ کو بھی گھر جانا پڑے۔ اس کے سوا آپ کو گھر بھیجنے کا اور کوئی راستہ نہیں۔ آپ مالک و مختار ہیں اور جتنے چاہیں اختیارات استعمال کر سکتے ہیں۔

جناب چودھری صاحب! آپ اس حقیقت سے اچھی طرح آگاہ ہوں گے کہ پاکستان میں احتساب کی صورت حال کیا رہی ہے۔ آج ملک جس دیوالیہ پن سے دوچار ہے اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ پاکستان میں کبھی کسی بااثر فرد کا احتساب نہیں ہوا۔ حقیقت اس کے برعکس یہ رہی کہ چور اور لٹیرے اعلیٰ مناصب پر فائز ہوتے رہے اور قانون ان کے سامنے بے بسی کی تصویر بنا رہا۔ اس میں کچھ ہاتھ تو اس نظام کا تھا جو ہر کسی کو شتر بے مہار جیسی آزادی دیتا ہے اور زیادہ قصور ان اداروں کے سربراہوں کا جن کا کام ہی یہ تھا کہ وہ کرپٹ عناصر کا احتساب کریں اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لائیں۔ آپ کو جس ادارے کا سربراہ بنایا گیا ہے، اس کا وجود تو اس دعوے کے ساتھ عمل میں آیا تھا کہ ملک سے کرپشن کا خاتمہ کیا جائے گا۔ اسے بے شمار اور بے انتہا اختیارات بھی اسی لئے دیئے گئے تھے کہ کرپٹ افراد قانون کی گرفت سے بچ نہ سکیں اور ان کے پیٹ سے قومی خزانے سے لوٹی گئی ایک ایک پائی نکالی جائے، مگر آپ بھی جانتے ہیں اور پوری قوم بھی اس سے باخبر ہے کہ یہی احتساب بیورو حکمرانوں کے ہاتھ میں مخالفین کو ہراساں کرنے اور سیاسی وفا داریاں تبدیل کرانے کے ایک آلہ کار کے طور پر موجود رہا، جو ساتھ مل گیا حکمرانوں نے اسے احتساب بیورو کے لئے شجر ممنوعہ قرار دیدیا اور جو نہ ملا نیب اس کے پیچھے لٹھ لے کے پڑ گیا۔ نتیجہ وہی نکلا جو نکلنا چاہئے تھا۔ نیب بے توقیر ہوتا چلا گیا اس کی ساکھ ایک انتقامی ادارے کی رہ گئی اس میں چن چن کر حکومتوں نے اپنے حامی بھرتی کئے، جن کا کام صرف یہ رہ گیا کہ وہ حکومت کے سیاسی مخالفین کو دبائیں اور زبان بند رکھنے پر مجبور کریں۔

نیب نے ایک بد نام زمانہ اصطلاح ”پلی بارگین“ متعارف کرائی جس کے ذریعے قوم کو یہ ڈھکوسلا دیا گیا کہ دولت لوٹنے والوں کو سزا دینے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا، اگر وہ لوٹی گئی رقم سے ایک معقول دولت قومی خزانے میں جمع کرا دیتے ہیں، تو اس سے بہتر کوئی عمل نہیں۔ اس پلی بارگین کے عمل نے بذات خود نیب کو کرپٹ کر دیا۔ افسران کے ہاتھوں میں جزا و سزا کا اختیار آگیا، انہوں نے اپنی جیبیں بھریں اور قومی مجرموں کو ریلیف دیا۔ اعداد و شمار گواہ ہیں کہ اس طریقے سے کسی ایک بڑے مجرم کو بھی عبرت ناک سزا نہیں ہوئی۔ جب لٹیروں کو اس بات کا یقین ہو جائے کہ وہ لوٹی گئی رقم میں سے کچھ حصہ دے کر چھوٹ جائیں گے تو انہیں کیا پڑی ہے کہ وہ لوٹ مار کا راستہ چھوڑیں، جو ایک طرح سے نیب کرپشن کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرتا رہا۔ ایسا کردار کہ جس نے اس کی دھاک بھی ختم کر دی اور لوٹنے والوں کو ہلا شیری بھی دی۔ اس طریقے سے کرپشن کیسے ختم ہو سکتی ہے کہ آپ بد عنوان عناصر سے اپنا حصہ لے کر انہیں چھوڑ دیں۔ کرپشن ختم کرنے کے لئے تو عبرت ناک سزاﺅں کی ضرورت ہے۔ بہت سے ممالک مثلاً چین، جنوبی کوریا وغیرہ میں تو کرپشن پر موت کی سزا بھی دیدی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں کرپشن ایک دستور کے طور پر موجود نہیں بلکہ بہت کم لوگ اس میں ملوث ہوتے ہیں اور بالآخر پکڑے بھی جاتے ہیں، مگر ہمارے ہاں ہر نئے دن کے ساتھ اس میں اضافہ ہی ہو رہا ہے کیا اس کا مطلب یہ نہیں نکلتا کہ احتساب بیورو جس مقصد کے لئے قائم کیا گیا تھا، اسے حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے اور اس کی دو بڑی وجوہات میں اول سیاسی مداخلت اور دوم پراسیکیوشن کی کمزوری، جس کے باعث مجرموں کو سزائیں نہیں ہوتیں۔

جناب چودھری صاحب۔ اگر آپ چاہیں تو اس قوم کو مشکلات سے نکال سکتے ہیں اگر آپ میری اس بات پر حیران ہو کر یہ سوچنے لگے ہیں کہ حکومت کی موجودگی اور سیاسی قیادت کی حد درجہ فعالیت کے باوجود میں آپ کو یہ کریڈٹ کیوں دے رہا ہوں تو اس کی بنیادی وجہ ہے۔ آپ نے سنا ہو گا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان احتساب بیورو کے سابق سربراہ فصیح بخاری کے اس بیان کا بار بار حوالہ دیتے ہیں کہ ملک میں روزانہ 12 ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے اس کی کسی نے تردید بھی نہیں کی۔ اگر آپ اس رقم کو مہینے کے تیس دنوں سے ضرب دیں تو یہ 3 کھرب 60 ارب روپے بنتے ہیں چلیں یہ تصور کر لیتے ہیں کہ یہ رقم اس سے آدھی ہے۔ تب بھی تقریباً ہر ماہ پونے دو کھرب روپے خرد برد ہو رہے ہیں۔ اگر اس رقم کو لوٹ مار سے بچا لیا جائے تو ملک کے اقتصادی مسائل بآسانی حل ہو سکتے ہیں حکومت روز مرہ کا نظام چلانے کے لئے بجلی و پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا غیر مقبول فارمولا اپنائے ہوئے ہے، حالانکہ وہ گڈ گورننس کو بہتر اور آپ اپنی کارکردگی سے احتساب کے نظام کو موثر بنا کے حالات میں بہتری لا سکتے ہیں سیاسی قائدین اور حکمرانوں کی مصلحتیں انہیں بہت سے قدم اٹھانے سے روکے رکھتی ہیں۔ وہ انجانے میں ایک ایسی ناکامی کی طرف بڑھ رہے ہوتے ہیں، جو انہیں دکھائی نہیں دیتی، حالانکہ وہ سامنے کی حقیقت ہوتی ہے۔ حاکمان وقت آج کل عوام کو کڑوی گولی نگلنے پر مجبور کر رہے ہیں، حالانکہ یہ کڑوی گولی خود حکمرانوں کے لئے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ آپ حکمرانوں کو باور کرائیں کہ اصل کڑوی گولی یہ ہے کہ کرپٹ عناصر کا کڑا احتساب کیا جائے اس کی زد میں اپنے آئیں یا بیگانے سب کا میرٹ پر صاف و شفاف احتساب ہونا چاہئے۔ اگر ایسا ہوا تو پاکستان کی مشکلات خودبخود کم ہونا شروع ہو جائیں گی۔ قومی خزانے میں اربوں روپے جمع ہونا شروع ہوں گے ایف بی آر کے کرپٹ افسران کی ملی بھگت سے اربوں روپے کا ٹیکس بچانے والے جب قانون کی گرفت میں آئیں گے تو ملک میں ایک نیا کلچر پروان چڑھے گا، جس کے دوررس اثرات مرتب ہوں گے اور قوم کی معاشی بد حالی کو خوشحالی میں تبدیل کیا جا سکے گا۔

جناب چیئرمین صاحب! آپ نے اپنے عہدے کا حلف اٹھاتے ہی بے رحمانہ احتساب کا عزم ظاہر کیا ہے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ احتساب کے حوالے سے کسی کو کوئی رعایت دی جائے گی اور نہ کوئی ڈکٹیشن قبول کی جائے گی۔ یہ بہت بڑا دعویٰ ہے اللہ کرے آپ اس دعوے پر پورا اتریں۔ آپ جانتے ہیں کہ اس وقت میڈیا اور عدلیہ بے باک کردار ادا کر رہی ہے۔ آپ کے بارے میں بعض حلقوں کی طرف سے جن تحفظات کا اظہار کیا گیاہے میں سمجھتا ہوں اور کسی کے لئے ہو نہ ہو آپ کے لئے اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے، کیونکہ آپ نے ہی اب اس تاثر کو دور کرنا ہے آپ کے لئے یہ تاریخ بنانے کا وقت ہے۔ حکومت سے وفا داری اس منصب کی ضرورت ہے اور نہ شان میں کوئی اضافہ کر سکتی ہے اس ادارے کے جن سربراہوں نے یہ راستہ اختیار کیا وہ بالآخر رسوا ہو کر نکلے سیف الرحمن اور فصیح بخاری کی مثالیں آپ کے سامنے ہیں۔ آپ کو جیسے بھی اور جس نے بھی منتخب کیا، اس کا تعلق آپ کے ماضی سے ہے حال یا مستقبل سے نہیں جس طرح ایک جج عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد صرف ایک جج بن جاتا ہے اور انصاف کے سوا کسی کو خاطر میں نہیں لاتا، اسی طرح آپ کو بھی چیئرمین نیب بننے کے بعد اپنی ترجیحات کا تعین کرنا چاہئے۔ آپ احتساب کرتے ہوئے حکومت کی ڈکٹیشن نہ لیں بلکہ خود جرا¿ت مندانہ فیصلے کریں اب آپ حکومت کے نہیں مملکت اور آئین کے تابع ہیں ایسے عہدے اللہ کی امانت ہوتے ہیں۔ انہیں دنیاوی مفادات کے لئے نیچا نہیں کرنا چاہئے آپ اپنے فرائض کی ادائیگی میں اللہ اور قوم کی خوشنودی کو پیش نظر رکھیں یہ وہ راستہ ہے کہ جو آپ کو دنیا و آخرت میں سرخرو کر سکتا ہے۔ اگر آپ قوم کی دعائیں لینا چاہتے ہیں تو ملک سے کرپشن کے ناسور کو ختم کرنے کے لئے خود کو وقف کر دیں، اس میں یقینا سخت مقامات آئیں گے، مگر شاید اسی منصب پر یہ مثل صادق آتی ہے کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔    ٭

مزید : کالم


loading...