امن کی خواہش اور بھارتی الزامات

امن کی خواہش اور بھارتی الزامات

پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بھارتی فوجی قیادت اور بالخصوص بھارتی فوج کے سربراہ کے ان بیانات کو بے بنیاد ، اشتعال انگیز اور افسوسناک قرار دیا ہے، جن میں انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ دہشت گردوں کو پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کی حمایت حاصل ہے۔ ایک بیان میں پاکستانی چیف آف آرمی سٹاف نے کہا کہ پاکستان کو بھی بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی پر سخت تشویش ہے۔اس اشتعال انگیزی کے خاتمے کے لئے پاکستان نے2003ءمیں تجویز دی تھی جس سے بھارتی حکومت نے اتفاق کیا تھا کہ سیزفائر کی خلاف ورزی پر اقوام متحدہ سے تحقیقات کرائی جائے۔ اس طرح کے الزامات لگانے کے بجائے بھارت کو پاکستان کی اس تجویز کا مثبت جواب دینا چاہئے۔ پاک فوج لائن آف کنٹرول پر صبر کا مظاہرہ کر رہی ہے، مگر اس طرح کے الزامات سے امن کے امکانات معدوم ہوجائیںگے۔

اس سے قبل اپنی سیاسی دکان چمکانے کے لئے بعض بھارتی سیاست دان پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانے کا کاروبار کرتے رہے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران خاص طور پرسیاست دانوں کی ایسی اشتعال انگیزی تیز ہو جاتی رہی ہے، لیکن گزشتہ کچھ عرصہ سے بھارتی آرمی کے لیڈروں کی طرف سے بھی ایسے اشتعال انگیز بیانات دینے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ مسلح افواج کے لیڈروں کی طرف سے ایسے بیانات کو ہمیشہ بہت سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور ان کی الزام تراشی کو بہت گہرائی تک معنی پہنائے جاتے ہیں۔ بھارتی آرمی چیف کی طرف سے پاکستان پر دہشت گردوں کی سرپرستی کے الزام کا صاف مطلب یہ ہو گا کہ بھارت ہمارے ہاں سرگرم دہشت گردوں کی حمایت کا جواز ڈھونڈ رہا ہے، بلکہ ان کی پوری مدد بھی کر رہا ہے۔ بھارتی آرمی چیف کی طرف سے بلا و جہ پاکستان پر سیز فائر کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرنے کا صاف مطلب بھی اپنے

مزید : اداریہ


loading...