عریاں لباس زیب تن کرنے پر ٹی وی میزبان نوکری سے برخاست

عریاں لباس زیب تن کرنے پر ٹی وی میزبان نوکری سے برخاست

 انقرہ(آن لائن )ترکی کی ایک ٹی وی میزبان کو پروگرام کے دوران پر عریاں لباس پہننے پر نوکری سے برخاست کر دیا گیا ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق ترکی کی ایک ٹی وی میزبان "گوزدے کانسو" کو حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کے ترجمان حسین سیلیک کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنانے کے بعد نوکری سے فارغ کیا گیا ہے۔ حسین سیلیک نے ٹی وی پروگرام پر بغیر کوئی نام لئے تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ پروگرام ''اخلاق باختہ'' ہے اور اس میں غیر موزوں لباس کا انتخاب کیا گیا جس سے غیر معمولی طور پر جسم کی نمائش کی جاتی ہے۔ حکمران جماعت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم کسی کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتے مگر یہ معاملہ حد سے گزر گیا ہے اور ناقابل برداشت ہے۔

حکمران جماعت کے ترجمان کی جانب سے ان بیانات کے بعد یہ ظاہر ہوا کہ ان کی تنقید کا نشانہ گوزدے کانسو ہی تھیں۔ بعد ازاں اس ترک ٹی وی کے پروگرام کو تیار کرنے والی کمپنی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ کانسو کو انتہائی زیادہ ک±ھلے گلے والے کپڑے پہننے کی وجہ سے نہیں نکالا گیا ہے۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ کمپنی کانسو کے ساتھ مزید کام نہیں کرنا چاہتی کیونکہ پہلی ہی قسط سے ان کا انداز اور سٹائل پروگرام کے مقاصد کے منافی تھا۔ کانسو کی برطرفی پر اٹھنے والے ردعمل پر جواب دیتے ہوئے سیلیک نے کہا کہ یہ ان کا بنیادی حق ہے کہ وہ ایک فرد، ٹی وی ناظر اور سیاستدان کی حیثیت سے اپنی رائے اظہار کر سکتے ہیں۔

مزید : کلچر


loading...